حضرت عاصم منیر فرما رہے ہیں کہ "انقلاب 1947 میں آ چکا اب کوئی انقلاب نہی آئے گا".
تعلیم ایف اے اور کل قابلیت جسم بواسیر سے پاک لوگوں کو کسی نے بتایا نہی 1947 سیاسی تحریک سے وقوع پذیر ہوا نا کہ کسی انقلاب سے۔
یہ چوتئیے ففتھئیوں کی وجہ سے مسلط ہیں اس قوم پر 78 سال سے۔
فوجیوں کے "اسلامی اور پاکستانی نصاب" کے مطابق عمران خان پاکستان کا وہ واحد انسان ہے جس نے عورت سے خلوتیں بانٹی ہیں۔
باقی یہ تمام اور قیامت تک پیدا ہونے والے پاکستانی "غزوہ ہند" کے مجاھد کی لسٹ میں رہیں گے اس وقت تک جب تک عمران خان کے نظریے کو سپورٹ کریں جو انصاف کا پاکستان ہے۔
پاکستان کا مسئلہ پاکستان کے اپنے ادارے ہیں۔
ادارے کا سربراہ کوئی بھی آ جائے اداروں کا رویہ کرپشن،لوٹ مار ،اقربا پروری ہی رہے گا۔
باپ اپنی جگہ اپنے بیٹے کو اپنی کرسی پر بٹھائے گا۔
بینظیر بھٹو،نواز شریف ،آئی ایس آئی ، اور فوج نے مل کر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
کرپشن کی بنیاد
بنگلہ دیشی عوام ہر شہر میں سڑکیں بند کر دیتی تھی۔
انتظامیہ پہنچنے پر منتشر ہو کر دوسری شاہراہ بلاک کر دیتے۔
یہ 1990 کی دھائی کا بہترین احتجاج تھا۔
پاکستان کی فوج اور سول انتظامیہ کرپشن زدہ زندیق ہیں۔
ان سے آزادی نیکسٹ لیول سے ملے گی۔
عزیز ہم وطنو۔۔۔!!!
دشمن چاھتا ہے پاکستانی اپنی گانڈ بھی نا دھو سکیں اس لئے سندھ طاس معاھدہ منسوخ کیا ہے۔
ہم دشمن کو بتانا چاھتے ہیں کہ ہم تماری میلی آنکھ اور اپنی میلی گانڈ دھونا خوب جانتے ہیں۔
عاصم منیر کی متوقع تقریر۔
ملا ملٹری الائنس۔۔
افواج پاکستان نے فلسطین کے نام پر ہنگامے کروا کے قوم کا رد عمل چیک کیا ہے جو ان کی توقع کے عین مطابق آیا ہے۔
یہ عنقریب اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں۔اپنے ہی ان مولویوں سے چند دن ہنگامے کروائیں گے پھر سب نارمل ہو جائے گا۔
پھر نا کہنا بوٹے نے بتایا نہی تھا۔
شریف خاندان کتنا مجبور ہو گا کہ اس کار واشر کے ساتھ بھی وزیراعظم ھاوس میں ملاقات کر رہا ہے کسی فوجی کرنل یا برگیڈیئر کی ہدایات پر جو وزیراعظم ھاوس کو ھینڈل کرتا ہے۔
ورنہ ایسوں کو شریف گاڑی دھونے کے بعد گاڑی کے نیچے دے کر مار دیتے ہیں اگر گاڑی ٹھیک سے نا دھلی ہو۔
عاصم منیر نے شریف خاندان کو لندن اس لئے بھیجا کہ تن تنہا امریکنز کے ساتھ ملاقات میں ان جو باور کروا سکے کہ میں ہی یہاں کا بھیکو ماترے ہوں جو بات ہو گی مجھ سے ہو گی جو خدمت کروانی مجھ سے کروائیں۔
عاصم منیر اور اس کے بیج میٹس نے اندازہ کیجئیے کتنی دولت اکٹھی کی ہو گی جو اس کو امریکی کانگریس میں پیش کردہ بل پہ اتنی تشویش ہے کہ سارے ملک کے وسائل اسے روکنے میں جھونک دئیے۔
گجرانوالہ کورکمانڈر سے آرمی چیف تک کا سفر ملینز آف ڈالر تک جائے گا۔
دائیں طرف قدرتی ہے۔
بائیں طرف قدرتی وسائل کی لوٹ مار۔
پاکستان کو بیرون ملک سے قرضہ فوج اور ملک چلانے کے لئے امریکہ نے دیا۔
فوج مافیا اور سیاسی مافیا نے وہی پیسہ واپس امریکہ برطانیہ منتقل کر دیا۔
اور پاکستانی آج تک اسے سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ غریب قدرت و تقدیر کی وجہ سے نہی ہیں۔
جنرل عاصم منیر نے پاکستان کے نظام پر اور معاشیات پر SIFC کے نام پر قبضے کا پلان بحثیت کورکمانڈر گجرانوالہ ہی بنا لیا تھا۔
آپ اس دجال کی دجالیت کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کا قائم مقام نظام تک اس نے محسن نقوی کے زریعے اپنے ہاتھ میں رکھا۔
یہ شخص پاکستان کے لئے زہر قاتل
بنی شودر کا منہ ایک دم سے قبلہ اول کی طرف موڑ دیا گیا ہے تاکہ قبلہ ثانی GHQ کی طرف کسی کی نظر نا جائے اور یہ آرام سے منرلز بل پاس کروا کے پاکستان بیچ سکیں۔
وے منیریا
اس شعر میں شاعر عرض کر رہا ہے کہ تمام معدنیات کا رخ GHQ کی طرف ہے جیسے قبلہ رخ کر کے دنیا میں جہاں مرضی نماز پڑھ لو۔چاھے پنجاب سے آئیں چاہے سندھ سے چاھے بلوچستان سے سب کچھ وہیں سے نکلے گا