ذیشان نے ن لیگی وزیر کے سامنے صرف ایک سچی بات کرنے کی گستاخی کی — کہ اس کی تنخواہ 40,000 روپے مقرر ہے جبکہ اسے صرف 19,000 روپے دیے جا رہے ہیں۔ اسی سچ کے عوض اس کی نوکری چھین لی گئی۔ اس نے اپنے بچوں کی خاطر بحالی کی التجا کی، مگر انکار کر دیا گیا، اور آخرکار اس نے اسی دفتر میں خود کو آگ لگا لی جس نے اسے نکالا تھا۔
نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، نہ کوئی ہسپتال گیا، نہ اس کے بچوں کے لیے کوئی امداد۔ بچوں کا باپ تو واپس نہیں آ سکتا لیکن ن لیگ ترجیحات ضرور عوام کے سامنے آ گئی ہے #سُتھرا_پنجاب کہاں ہے؟ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کہاں ہیں؟ گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کہاں ہے؟ خاموشی۔ بے حسی !!
#JusticeForZeeshan
جموں و کشمیر کے رہنما شوکت میر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ حقوق کی آواز کو جبر کے ذریعے دبانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔
حکمران طاقت کے ذریعے نفرت اور خوف کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے حکمرانوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ شوکت میر کی فوری رہائی، حفاظت اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
شوکَت نواز میر کی گرفتاری صرف ایک شخص کی گرفتاری نہیں، بلکہ حق، انصاف اور عوامی آواز کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ظلم اور جبر کی تاریخ گواہ ہے کہ نہ قیدیں نظریات کو روک سکتی ہیں، نہ ہتھکڑیاں آزادی کی خواہش کو ختم کر سکتی ہیں۔
یاد رکھو، کشمیر کا ہر بچہ، ہر نوجوان، ہر باہمت انسان شوکت نواز میر ہے۔ تم آخر کس کس کو گرفتار کرو گے؟ کس کس کی آواز دباؤ گے؟ حق کی صدا دیواروں اور زنجیروں سے نہیں رکتی۔
ریاستی دہشت گردی بند کرو۔ اختلافِ رائے کو جرم بنانا اور حق کی آواز کو طاقت کے زور پر خاموش کرنا انصاف نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔
قفس میں قید پرندوں سے یہ کہنا اے صیاد،
پرواز کا حوصلہ زنجیروں سے نہیں مرتا۔
کنول آفتاب کے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوا اور اُس کا میاں زُلقرنین ویلاگ بنا رہا تھا
یہ علی حیدرابادی بیوی کو طلاق دے رہا ہے اور ساتھ ویڈیو بنا رہا ہے
یہ لوگ معاشرے کا ناسور بنتے جا رہے ہیں ، ان بیغیرتوں کو فوری بین کیا جائے ، ورنہ یہ گند گھر گھر پہنچے گا۔۔۔
فیصل آباد میں مدرسے میں قاری نے پندہ سالہ حافظ قرآن کو زیادتی کے بعد قتل کردیا
اور طلباء سے لاش کو نالے میں پھینکواء دیا متاثرہ بچے کے والد والدہ کی انصاف کی اپیل۔
مریم نواز کی آج کی دکھ بھری تقریر سنیں اور کوٹ لکھپت میں نواز شریف کا کمرہ ( سیل نہیں کمرہ ) دیکھیں ۔ یہ حکمران سمجھتے ہیں لوگ تین سال پہلے کی باتیں بھی بھول گئے ؟
The little girl, Amna Abu Awad..
His head was crushed by the rubble of the building that collapsed after Israeli planes bombed his house. Amna lost her life along with her family members.
آخر یہ چل کیا رہا ہے ۔ جیو ٹی وی کا کوئی ڈرامہ ہے ضبط نام سے ۔ اس میں بھی ایکٹرس اسلامیات کی کتاب اٹھاکر پھینک رہی ہے جس پر مسجد نبویﷺ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
ڈرامے کا پورا سیٹ پلاننگ سے تیار کیا جاتا ہے ۔ اب یہ تو نادانستہ یا غیر ارادی نہیں ہوسکتا۔
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔
CCD والے لوگوں کو قتل کر کے ان کے اعضاء نکال کر بیچ رہے ہیں
ابھی انہوں نے پانچ لوگوں کو قتل کیا جن کی عمریں پچیس سے سترہ سال تھیں سب کی چیر پھاڑ کر کے انسانی اعضاء نکالے گئے تھے
آفتاب باجوہ
ہر منگل کو ملاقات نا کروانے میں شاید وہ اپنی طاقت منوانا چاہتے ہیں مگر ہر منگل سب سے زیادہ نفرتیں بٹورتے ہیں۔ دنیا میں کم از کم ۹۹٪ پاکستانی اس وقت چاہتے ہیں کہ عمران خان رہا ہوں، اور وہ روز طاقت کے ناجائز استعمال دیکھ کر نظام سے نفرت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ باہر سے تو انویسٹمنٹ آ ہی نہیں رہی اور ملک کے اندر بےچینی کی وجہ سے کوئی اندر سے بھی انویسٹمنٹ نہیں کر رہا۔ لوگوں کا حال کافی برا ہے اور جب وہ یہ بولنے کی آزادی محسوس نہیں کرتے تو نفرتیں اور بڑھتی ہیں۔
اگر یہ سودہ فائدہ مند نظر آتا ہے انہیں تو ان سے زیادہ بدنصیب شاید کوئی نہیں۔
عمران خان کو تکلیف دینے کے لیے پوری قوم کا پہلے بھروسہ توڑا اب روز بد دعائیں اور نفرتیں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ایک گھاٹے کا سودہ ہے، آج نہیں تو کل اس ظلم کا ایک ایک لمحہ پچھتائیں گے عاصم منیر، ان کی ٹیم اور شاید”اللہ کی فوج“ ۷ لاکھ سپاہی بھی، جو دیکھ سب کچھ رہے ہیں مگر قیادت سے سوال نہیں کرتے کہ عمران خان کے جیل کے حقوق کیوں نہیں دیے جا رہے ۔
طاقت ہمیشہ نہیں رہے گی۔ یہ وقت مشکل عمران خان اور پاکستانیوں کے لیے بہت مشکل ضرور ہے مگر حق پر ہونا کافی حوصلہ بھی دیتا ہے۔ کوئی ہار نہیں مانے گا۔ سب سے اچھی تجویز ظالموں کے لیے یہ ہے کہ عدالتیں آزاد کریں ، اللہ سے اور پاکستان کی عوام سے معافی مانگیں اور انصاف کا جمہوری نظام قائم ہونے دیں۔
ن لیگ کو ایسی صحافت ہی پسند ہے کہ جہاں ن لیگ کسی سوال میں پھنس جاۓ تو فوراً اینکر کو بریک لینے کا حکم دے دیا جاۓ۔۔
اور اینکر بھی غریدہ فاروقی جنہوں نے کمال فرمانبرداری سے فٹافٹ بریک لے لی۔ 😂😂