پمز اسپتال کا داخلی دروازہ اور ایمرجنسی خارجی دروازے دونوں کو انتظامیہ نے بند کیا ہوا تھا۔ ہم نے دیوار توڑ کر کچھ والدین اور بچوں کو ریسکیو کیا باقی آگ میں جل گئے، ریسکیو اہلکار کا موقف
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
ہری پور میں پندرہ روز سے لاپتہ معصوم بچی کی بوری بند لاش کنویں سے برآمد ہونا صرف ایک خبر نہیں، انسانیت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
ایک معصوم بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنا، پھر اس کی لاش کنویں میں پھینک کر لکڑیاں ڈال کر چھپا دینا… آخر ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں؟
پانچ مشتبہ افراد کی گرفتاری کے بعد بچی کی لاش برآمد ہوئی، مگر سوال یہ ہے کہ اس معصوم کا قصور کیا تھا؟ اس کے خواب، اس کی مسکراہٹ اور اس کی زندگی کس جرم کی سزا بن گئی؟
باپ کو آدھی رات کے وقت خبر ملی کہ اس کی بیٹی کو اس کے شوہر نے پھر مارا ہے۔
یہ لفظ ’’پھر‘‘ باپ کے دل میں تیر کی طرح لگا۔
یہ پہلی بار نہیں تھا۔
شادی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، مگر بیٹی کے چہرے کی مسکراہٹ جیسے دن بدن کم ہوتی جا رہی تھی۔ کبھی بازو پر نیلا نشان، کبھی آنکھ کے نیچے سوجن، کبھی ہونٹ پر زخم...
ماں ہر بار بیٹی کو سینے سے لگا کر سمجھاتی:
’’بیٹا، نئی نئی شادی ہے... وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مرد غصے میں ہاتھ اٹھا دیتے ہیں، تم خاموش رہا کرو، گھر بس جائے گا۔‘‘
بیٹی ہر بار آنسو پونچھ کر بس اتنا کہتی:
’’امی... میں کوشش کرتی ہوں۔‘‘
اور باپ؟
وہ خاموش رہتا۔
وہ سوچتا تھا شاید بیٹی کا گھر بسانے کے لیے باپ کو بھی کچھ درد اپنے سینے میں دفن کرنے پڑتے ہیں۔
مگر اس رات جب دوبارہ فون آیا اور دوسری طرف سے صرف اتنا کہا گیا:
’’آپ کی بیٹی کی حالت ٹھیک نہیں... اسے پھر مارا ہے۔‘‘
تو باپ نے فون بند کر دیا۔
کچھ دیر تک وہ اندھیرے میں خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
اس نے اپنی بیٹی کی بچپن کی ایک تصویر اٹھائی۔ تصویر میں وہ ننھی سی بچی اس کی انگلی پکڑے مسکرا رہی تھی۔
باپ نے تصویر کو دیکھا اور دھیمی آواز میں بولا:
’’میں نے تجھے اس لیے نہیں پالا تھا کہ کوئی تجھے روز توڑے... اور میں خاموش دیکھتا رہوں۔‘‘
رات گہری ہو چکی تھی۔
گھر میں سب سو رہے تھے۔
باپ اٹھا، کسی کو کچھ نہیں بتایا۔
بس اپنا چادر کندھے پر رکھا اور باہر نکل گیا۔
راستے میں اس نے ایک بینڈ والے کو جگایا۔
بینڈ والے نے حیرت سے پوچھا:
’’چوہدری صاحب، اس وقت؟ کوئی شادی ہے؟‘‘
باپ نے بس اتنا کہا:
’’ہاں... مگر آج میں اپنی بیٹی کی زندگی کی شادی بچانے جا رہا ہوں۔‘‘
وہ بینڈ والوں کو ساتھ لے کر سیدھا داماد کے گھر پہنچ گیا۔
رات کے سناٹے میں دروازے پر دستک ہوئی۔
دروازہ کھلا تو سسرال والے حیران رہ گئے۔
’’سمدھی جی؟ اتنی رات گئے؟ خیریت تو ہے؟‘‘
باپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اسی لمحے اوپر کی کھڑکی کے پردے کے پیچھے سے ایک سہمی ہوئی آنکھ نظر آئی۔
وہ اس کی بیٹی تھی۔
باپ نے اپنی بیٹی کو دیکھا۔
بیٹی نے باپ کو دیکھا۔
دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
بیٹی کے چہرے پر زخم تھا...
مگر باپ کو اس زخم سے زیادہ اپنی بیٹی کی خاموشی نے توڑ دیا۔
اس نے دور سے صرف ہاتھ کے اشارے سے کہا:
’’چل... گھر چلیں۔‘‘
بیٹی کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔
شاید اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ آج واقعی کوئی اسے لینے آیا ہے۔
پھر اس نے اپنے آنسو پونچھے اور آہستہ آہستہ نیچے آ گئی۔
داماد نے غصے سے کہا:
’’یہ میری بیوی ہے، آپ اسے ایسے نہیں لے جا سکتے!‘‘
باپ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا اور کہا:
’’بیوی ہے، تمہاری ملکیت نہیں۔‘‘
پھر وہ بینڈ والوں کی طرف مڑا اور ہاتھ اٹھا کر بولا:
’’بجاؤ!‘‘
رات کی خاموشی اچانک بینڈ کی آواز سے گونج اٹھی۔
گلی کے لوگ گھروں سے نکل آئے۔
سب حیران تھے کہ آدھی رات کو بینڈ کیوں بج رہا ہے۔
باپ اپنی بیٹی کے پاس گیا، اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:
’’آج میں تجھے لینے آیا ہوں... بارات لے کر نہیں۔‘‘
اس کی آواز بھرّا گئی۔
’’میں تجھے اس گھر سے آزاد کرانے آیا ہوں جہاں تیرے آنسوؤں کو شادی کی قیمت سمجھ لیا گیا تھا۔‘‘
بیٹی باپ کے سینے سے لگ گئی۔
برسوں کا ضبط آنسو بن کر بہہ نکلا۔
وہ روتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکی:
’’ابو... آپ اتنی دیر سے کیوں آئے؟‘‘
یہ سن کر باپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
اس نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:
’’بیٹا... مجھے معاف کر دینا۔ میں سمجھتا رہا گھر بچانا ضروری ہے... آج سمجھ آیا کہ گھر نہیں، بیٹی بچانا ضروری ہے۔‘‘
اور پھر وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے وہاں سے چل پڑا۔
بینڈ بجتا رہا۔
مگر اس رات کوئی دلہن رخصت نہیں ہو رہی تھی۔
اس رات ایک باپ اپنی بیٹی کو سسرال سے نہیں...
ظلم سے واپس لے جا رہا تھا۔
اور شاید یہ دنیا کی سب سے خوبصورت رخصتی تھی...
کیونکہ اس رخصتی میں دلہن کے ہاتھوں پر مہندی نہیں تھی،
مگر اس کے دل میں پہلی بار آزادی کی خوشبو تھی۔
کبھی کبھی باپ بیٹی کا گھر نہیں توڑتا...
وہ اسے ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے
جنگ جب ہوتی ہے تو لوگ گانے بناتے ہیں میمز بناتے ہیں جنگ کے دوران گانے بنانے کی کوئی تک بنتی ہے ؟
لیکن ہر معاشرے کا کوئی بھی شہری ہو وہ اپنے اپنے طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرواتا ہے ۔
سو ارب ڈالر کا انقلاب۔۔
کرپٹو کا انقلاب۔۔
اڑان پاکستان کا انقلاب۔۔
امریکہ کو قیمتی معدنیات بیچنے کا انقلاب۔۔
پاکستان اب قرضہ لے گا نہیں، دے گا۔۔ یہ والا انقلاب۔۔
بیرون ممالک سے کروڑوں کی سرمایہ کاری کا انقلاب۔۔
اور اب چار سال بعد
"آپ مانیں نہ مانیں، نظام گر چکا ہے"
👏👏👏
علیمہ خان کی گفتگو 🚨
قاضی فائز عیسٰی سپریم کورٹ میں کتنی تکبر سے عمران خان کی بات کرتا تھا، پارٹی کا نشان بھی چھین لیا اور کل انٹرویو میں کہہ رہا تھا کہ سارے فیصلے میرے ہاتھ میں نہیں تھے۔
قاضی فائز عیسٰی تم نے اپنے عہدے سے غداری کی