کراچی سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی اور ہراسانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہم جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہے۔ گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز نے گلشن اقبال، کراچی میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلباء اظہر بلوچ ولد حیات، غوث بخش بلوچ ولد حیات، شہزاد بلوچ ولد شاہد، انیس بلوچ ولد عظیم اور وسیم بلوچ ولد محمد امین کو ان کے سامان سمیت حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد سے ان کی رہائش اور سلامتی کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اظہر بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ جنرل ہسٹری، ان کے بھائی غوث بخش بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ بی ایس اکنامکس، شہزاد بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ انوائرمنٹل سائنس، انیس بلوچ رہائش نوشکی بی ایس فلاسفی، اور وسیم بلوچ رہائش قلات ڈیپارٹمنٹ پولیٹیکل سائنس، جامعہ کراچی کے باقاعدہ طالب علم ہیں۔ یہ تمام طلباء اپنے آبائی علاقوں سے دور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مقیم تھے۔ اس سے قبل بھی جامعہ کراچی کے ایم فل کے طالب علم خلیل بلوچ ولد جان محمد کو جامعہ کے احاطے سے لاپتہ کیا گیا تھا، تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف سے طلباء کو اس طریقہ کار سے حراست میں لینا نہ صرف ان کے تعلیمی کیریئر کے لیے شدید نقصان دہ ہے بلکہ یہ عمل تمام بلوچ طلباء کو شدید ذہنی و نفسیاتی اذیت اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر رہا ہے۔
آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہے کہ بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے کے سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے۔ ہم بلوچ طلباء کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور ہم تمام طلباء تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ لاپتہ بلوچ طلباء کی بحفاظت بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔ مزید یہ کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کراچی یونیورسٹی کے طلباء سمیت زبیر بلوچ بلوچ کی جبری گمشدگی اور ملک بھر میں بلوچ طلباء کی حراسانی کے خلاف اسٹوڈنٹس آف کراچی کے جاری مہم کی مکمل حمایت کرتی ہے اور تمام انسان دوست، سماجی کارکنان اور سول سوسائٹی سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف اس مہم کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتی ہے۔
Directorate of Colleges & Higher Education, Quetta, has announced the first merit list. Students who have been selected for admission to the University of Gujrat are requested to contact
Contact Us:
Sana Baloch: 0336 6720239
Sajid Baloch: 0327 3159010
Shoaib Baloch: 0333 3882051
The University of Gujrat, Punjab has announced Fall 2026 Admissions for BS, MPhil/LLM, and PhD programs.
Apply Online:
https://t.co/6wp1Box5fj
Last date:
07-August-2026
For info please contact us
Sajid Baloch:
03273159010
Sana Baloch:
03366720239
Shoaib Baloch:
03333882051
The University of Gujrat, Punjab has announced Fall 2026 Admissions for BS, MPhil/LLM, and PhD programs.
Apply Online:
https://t.co/6wp1Box5fj
Last date:
07-August-2026
For more info contact us
Sajid Baloch:
03273159010
Sana Baloch:
03366720239
Shoaib Baloch:
03333882051
The University of Gujrat has officially announced admissions for Fall 2026.
Apply Online:
https://t.co/6wp1Box5fj
Last Date to Apply:
07 August 2026
For further information please contact:
Sana Baloch
03366720239
Sajid Baloch
03273159010
Shoaib Baloch
03333882051
The University of Gujrat has announced Fall 2026 Admissions for BS, MPhil/LLM, and PhD programs.
Apply Online: https://t.co/6wp1Box5fj
Last Date to: 07 August 2026
For further info please contact.
Sajid Baloch:
03273159010
Sana Baloch:
03366720239
Shoaib Baloch:
0333882051
The University of Gujrat, Punjab has announced Fall 2026 Admissions for BS, MPhil/LLM, and PhD programs.
Apply Online:
https://t.co/6wp1Box5fj
Last date:
07-August-2026
Sajid Baloch:
03273159010
Sana Baloch:
03366720239
Shoaib Baloch:
0333882051
Fall admissions have been announced in the respective universities across Punjab. Baloch students seeking admission may contact the given numbers for guidance.
Fall admissions have been announced in the respective universities across Punjab. Baloch students seeking admission may contact the given numbers for guidance.
انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب انسدادِ دہشتگردی عدالت کوئٹہ کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ انصاف، انسانی حقوق اور شفاف عدالتی عمل کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ہم اس فیصلے کو بلوچ عوام کی سیاسی اور جمہوری آوازوں کے خلاف ایک تشویشناک اقدام سمجھتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب بلوچستان پہلے ہی سیاسی بے چینی، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس نوعیت کے فیصلے عوام کے اندر مزید بے اعتمادی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس مقدمے کے حوالے سے ابتدا ہی سے مختلف قانونی اور طریقۂ کار سے متعلق تحفظات موجود رہے ہیں۔ ایک ہی واقعے کے حوالے سے مختلف تاریخوں پر مقدمات کے اندراج اور عدالتی کارروائی کے مختلف پہلوؤں نے اس کیس کی شفافیت کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔ ایسے مقدمات میں انصاف کے تقاضے یہی ہیں کہ تمام مراحل مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور قانونی اصولوں کے مطابق انجام دیے جائیں تاکہ کسی قسم کے ابہام یا شبہات کی گنجائش باقی نہ رہے۔
ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر کارکنان طویل عرصے سے بلوچ عوام کو درپیش مسائل، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے حوالے سے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ اختلافِ رائے اور سیاسی مؤقف کا اظہار ہر جمہوری معاشرے میں ایک بنیادی حق سمجھا جاتا ہے، جس کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ ہم اس فیصلے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مقدمے کے تمام پہلوؤں کا آزادانہ، منصفانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے۔ ہم انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء برادری، صحافیوں اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
Mehrab Khalid, who was abducted 10 days ago, has been released. The collective resistance and support from students, lawyers, teachers, and civil society made this possible. His return brings immense relief to his family, friends, and the student community.
Mehrab Khalid, who was abducted 10 days ago, has been released. The collective resistance and support from students, lawyers, teachers, and civil society made this possible. His return brings immense relief to his family, friends, and the student community.
The struggle against enforced disappearances will continue with the same determination until every Baloch student is safely released and reunited with their family.
Bsc Wafaq and Punjab will hold an X (formerly twitter) space concluding our Campaign on 8 June Missing persons day
Tittle: The Missing, The Waiting, The Resistance
Time:9:00 PM
Date : 08/06/2026
Bsc Wafaq and Punjab will hold an X (formerly twitter) space concluding our Campaign on 8 June Missing persons day
Tittle: The Missing, The Waiting, The Resistance
Time:9:00 PM
Date : 08/06/2026
On 8 June, we remember the thousands of Baloch who remain missing and the families who continue to live with uncertainty, grief, and unanswered questions. This documentary sheds light on the human cost of enforced disappearances.
#8thJuneBalochMissingPersonsDay
On 8 June, we remember the thousands of Baloch who remain missing and the families who continue to live with uncertainty, grief, and unanswered questions. This documentary sheds light on the human cost of enforced disappearances.
#8thJuneBalochMissingPersonsDay
The University of Gujrat's Boys Hostel Administration has harassed the Baloch Students. The administration with inappropriate words dialogued with them. In response, the Baloch students decided to organise a protest in front of the Hostel gate.
#SaveBalochStudents
آج مورخہ 1 جون اور 2 جون کو ہاسٹل انتظامیہ نے ہاسٹل میں رہائش پذیر بلوچ طالبات کے ساتھ شدید بد اخلاقی، جسمانی تشدد، ذہنی ٹارچر، طلباء کو مختلف دیگر گروہون سے منسلک کرنا، طلباء پر ذہنی دباؤ اور دھمکانے جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔
#SaveBalochStudents