گوادر اپڈیٹ
گوادر گھٹی ڈور میں نامعلوم افراد کے حملے میں لاہور کا رہائشی رانا محمد احمد ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ فورسز کی بھاری نفری کی شہر میں نقل و حرکت
#Gwadar#Balochistan
🚨 نصیرآباد، بلوچستان
نصیرآباد کے علاقے نوتال میں جعفر ایکسپریس ٹرین پر نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کردیا، علاقے میں دھماکوں و فائرنگ کی آواز
نوشکی: گذشتہ روز نوشکی میں نہ صرف گرلز کالج میں فائرنگ کی گئی بلکہ اسی وقت ایک نجی اسکول میں بھی سرکاری حمایت یافتہ افراد نے گھس کر اسکول انتظامیہ و طلبہ کو ہراساں کیا۔
Matin Agha, a well-known commander of the former Afghan 🇦🇫 government, was severely injured in Dalbandin blast, in the Koh-e-Tran area, while two former Afghan officials were killed.
Note: Death Squad key operative Shahu r/o Dalbandin was also killed in the blast.
خضدار: کرخ میں گذشتہ روز پاکستانی فوج، سی ٹی ڈی و اے ٹی ایف کے تیس کے قریب گاڑیوں کے قافلے کو مسلح حملوں میں نشانہ بنایا گیا، طویل جھڑپوں میں 15 سے زائد اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جھڑپوں میں دو آزادی پسندوں کے بھی مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
خضدار: کرخ میں گذشتہ روز پل تباہ کرنے کے بعد متبادل کچے راستے پر گذشتہ شام چھ بجے صبح تک بلوچ آزادی پسندوں نے اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔
آج پاکستانی فورسز کے چالیس کے قریب گاڑیوں کے قافلے کو مسلح افراد نے گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا، بھاری جانی نقصانات کی اطلاعات
خیال رہے گرلز کالج کے عقب میں پاکستانی فورسز کی چوکیاں قائم ہے جبکہ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر مرکزی کیمپ ہے جبکہ طالبات پر فائرنگ کرنے والوں کا حملے کے بعد اسی جانب فرار ہونا کئی سوالات کھڑی کرتی ہے۔
2/2
نوشکی میں افسوسناک واقعہ بلوچ خواتین کو تعلیم سے دور رکھنے کی سازش ہے، رواں سال اسی گرلز کالج سے چند گز کے فاصلے پر پروفیسر غمخوار حیات کو شہید کرکے نوشکی میں علم و ادب کے چراغ کو بجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔
1/2
گرلز ڈگری کالج نوشکی میں تین مسلح نقاب پوش افراد کی فائرنگ سے تین طالبات زخمی ہوگئیں، ایک کی حالت تشویش ناک
کالج انتظامیہ کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر سی سی ٹی وی کیمروں اور پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کے بعد طالبات پر فائرنگ کی۔ واقعے کے محرکات تاحال سامنے نہیں آسکے۔
بلوچستان: مسلح حملوں میں ہلاک پاکستان فوج کے ایک اہلکار کی شناخت سپاہی محمد عمر کے نام سے ہوئی ہے۔
خیال رہے بی ایل اے نے کیچ، قلات، مستونگ، سوراب اور خضدار میں فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔