She just woke up, took a shower, her hair is still wet, and she’s already sitting down to vlog. We all know what the real agenda is here, sharing extremely personal and private details just to get attention and publicity.
At least have some respect for privacy. It honestly feels like attention and publicity have become more important than keeping certain things private. Why does everything have to be shared with the public?
मेरा एक वीडियो क्लिप वायरल है- जिसे ग़लत रूप से झूठे ढंग से अनुवादित किया जा रहा है! मैंने कतई नहीं कहा कि रानी पद्मावती या कोई भी सती कायर थी । शर्मनाक है कि @ndtvindia और अन्य मीडिया चैनल और लोग बार बार झूठा इल्ज़ाम लगाकर लोगों को उत्तेजि�� कर रहे हैं ।
गाली देनी है तो दो- पर सही बयान पर दो!!!
सुनिए और शेयर कीजिए ।
महिलाओं को बलात्कार के बाद भी ज़िंदगी का हक़ है ।
#Padmavat #RightToLife #SurvivingRape
یہ ولگر ڈانس کرتی اور کمر پر ٹیٹو دکھاتی تقریباً ننگی عورت پاکستانی ماڈل اور اداکارہ ہے جسکی تقریباً ہر ویڈیو اور تصاویر ایسی ہی ہوتی ہیں۔
انکو فحاشی پھیلانے کی پوری اجازت ہے پھر کہتے ہیں معاشرے میں بے راہ روی کیسے پھیلی ایسی عورتیں وجہ ہیں
مورال اٹھانے کے لئیے واہگہ بارڈر پار ہمسائیوں نے یہ انتظام لانچ کیا ہے ۔۔
اب دیکھنا ادھر والے رینجرز جوانوں کو یہ چیلنج کتنا کمزور کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔
مقابلہ
محترم شہباز گل، میں آپ کی عزت کرتی تھی لیکن آج آپ نے اپنی وی لاگ میں مجھ سے منصوب جھوٹا ٹویٹ شئیر کیا۔ میرا کسی ادارے سے کوئی تعلق نہیں، نا ہی پاکستان کنکٹ کا کسی دوسرے ادارے سے تعلق ہے۔ اگر آپ نے میرے خلاف الزامات نا ہٹائے تو میں آپ کے خلاف امریکہ میں قانونی چارہ جوئی کرونگی، علاوہ ازیں یوٹیوب پر بھی بلا اجازت میری تصاویر استعمال کرکے جھوٹا پراپیگینڈا پر شکایت ہوگی۔
@SHABAZGIL
کچھ ویڈیوز سامنے آچکی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید ویڈیوز بھی سامنے آسکتی ہیں۔ ممکن ہے بچے اور بچیاں ابھی خوف کی وجہ سے خامو�� ہوں، یا ان کے والدین نے انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہو۔ اس لیے کسی بھی واقعے کے تمام پہلوؤں پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل شواہد کا سامنے آنا ضروری ہے۔
خاتون کا گریبان پکڑنے یا انہیں ہراساں کرنے کے الزام کی تاحال کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی۔ البتہ ایسی ویڈیوز ضرور سامنے آچکی ہیں جن میں ایک خاتون کو لاتیں چلاتے، پولیس اہلکار سے لاٹھی چھینتے اور بچیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
مزید یہ کہ ویڈیو میں بچیوں کو ایف آئی آر کی دھمکیاں بھی سنائی دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف باحجاب بچیاں صرف ’’وی وانٹ جسٹس‘‘ کے نعرے بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب تصاویر اور و��ڈیوز دیکھنے کے بعد ہر شخص اپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور کرے کہ اس موقع پر ہراساں کون کر رہا تھا اور ان��اف کا مطالبہ کون کر رہا تھا؟
فرعونیت کے سامنے انصاف مانگنا اگر کسی کی رعونت کو ’’ہراساں‘‘ کرنا بن جائے تو پھر مسئلہ انصاف مانگنے والوں میں نہیں، طاقت کے زعم میں ہے۔
جس طرح ایک باحجاب بچی یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ان کے سروں سے دوپٹے کھینچے گئے، لیکن اس دعوے کی تائید میں تاحال کوئی واضح ویڈیو یا قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا، اسی طرح ٹیچر کا گریبان پکڑے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے کے دعوے کے لیے بھی فی الحال کوئی واضح ویڈیو ثبوت موجود نہیں۔ دونوں دعووں کو ایک ہی معیارِ ثبوت پر پرکھا جانا چاہیے۔
اس معاملے میں ایک اور عجیب پہلو یہ ہے کہ ابتدا میں مذکورہ خاتون کو ’’افسر صاحب کی بیٹی‘‘ کہا گیا، پھر ’’بیوی‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ اب یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ شاید ان میں سے کوئی نسبت درست نہیں۔ اگر یہ دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں تو بھی اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے بجائے حقائق کی تصدیق ضروری ہے۔
معاملہ بنیادی طور ��ر اتنا سادہ تھا کہ بچے اور بچیاں احتجاج کر رہے تھے۔ اساتذہ کو چاہیے تھا کہ معاملہ باہمی گفتگو سے حل کرتے، طلبہ کی بات سنتے اور انہیں اعتماد میں لیتے۔ ’’امورِ طلبہ‘‘ سے وابستہ ذمہ داران کا بنیادی کام ہی یہی ہے کہ طلبہ کے مسائل سنیں اور تنازعات کو مزید بگاڑنے کے بجائے انہیں حل کریں۔
مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختیار، ذمہ داری کے بجائے طاقت کا احساس پیدا کرنے لگے۔ ایسی صورتِ حال میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو سننے کے بجائے ان پر غصہ، دھمکی یا طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں۔
اور حیرت ان لوگوں پر بھی ہے جو ایسی صورتحال میں درجنوں لاشیں گرانے کی باتیں کرت�� ہیں، سوال اٹھانے والوں کو گالم گلوچ کا نشانہ بناتے ہیں، یا محض اس بنیاد پر کہ معاملے میں ایک عورت موجود ہے، بغیر شواہد کے اپنی تمام ہمدردیاں ایک ہی فریق کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔
ان سے صرف ایک سوال ہے: اگر یہی طرزِ عمل آپ کی اپنی بچیوں کے ساتھ کسی تعلیمی ادار�� میں اختیار کیا جائے تو کیا آپ اسے درست سمجھیں گے؟ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی بچیاں بھی اختلاف یا احتجاج کے جواب میں لاتیں چلائیں، پولیس سے لاٹھی چھینیں اور دوسری بچیوں کی طرف حملہ آور ہونے کی کوشش کریں؟
اگر یہ دعویٰ بھی درست ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ خاتون کا افسر صاحب سے بیٹی یا بیوی کا کوئی رشتہ نہیں، تو پھر ان تمام لوگوں کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو محض کسی بااثر شخصیت سے تعلق یا قربت کے مفروضے کی بنیاد پر ایسے رویے کا دفاع کر رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں طاقتور سے قربت کسی کو قانون، اخلاق اور دوسرے انسانوں کی عزت سے بالاتر نہیں کرتی۔
جہاں تک افسر صاحب کا تعلق ہے، ان کے معاملے کی تحقیقات متعلقہ ادارہ کر رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے اور جو بھی نتیجہ سامنے آئے، اسے شواہد اور قانون کی بنیاد پر پرکھا جائے۔
اور آخر میں ان لوگوں کے لیے جو ہر صورت میں غلاظت کو ’’کھیر‘‘ ثابت کرنے پر بضد ہیں: آپ اپنی ملازمت، اپنے مفادات اور اپنی مجبوریوں کے مطابق جس طرح چاہیں اسے درست ثابت کرتے رہیں۔ لیکن کم از کم اتنا ضرور یاد رکھیے کہ سچ کو شور، گالم گلوچ یا طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
اصل ضرورت کسی فریق کو ہیرو یا ولن بنانے کی نہیں، بلکہ مکمل حقائق سامنے لانے کی ہے۔ جو قصوروار ہو، اسے قانون کے مطابق جواب دینا چاہیے، اور جو بے قصور ہو، اسے محض الزام یا طاقت کے زور پر نشانہ نہیں بننا چاہیے۔
#fmasimmunirleadingpeace #SarhadUniversity