ابن ضیاد کا دور چل دہا ہے ، بہادر لوگ لڑتے ہیں، آپ نعرے لگاتے ہو رہا کرو رہا کرو، کس کو کہہ رہے ہو رہا کرو؟ کم ظرف آدمی سے؟
جب دشمن ہی کم ظرف ہو تو اس سے لڑا جاتا ہے
فوجی فاؤنڈیشن کے 6 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں اس کے علاوہ 9 اور کمپنیاں ہیں جن کے اثاثے ایک ارب ڈالر سے زائد کے ہیں یہ کمپنیاں کسی بھی قسم کے احتساب سے بالاتر ہیں کیونکہ یہ پنڈی والوں کی ہیں اور تو اور جو یہ شادی ہال چلا رہے ہیں ان کا بھی کوئی حساب نہیں لے سکتا ! عمار جان ۔۔۔
فیلڈ مارشل کو استثنیٰ ملی تو ppp نے صدر کے لیے بھی استثنیٰ مانگ لی حذیفہ رحمان نے کہا کہ شہباز شریف کو بھی دی جاۓ
فاروق نائیک نے بتایا PM کو استثنیٰ دینے سے عمران خان کے سارے کیس معاف ہو جائیں گے
عمران خان کے ڈر سے ترمیم لاتے ہیں پھر اسکے ڈر سے ترمیم میں ترمیم کرتے ہیں
عدیل راجہ
نہی جانتا یہ شخص کون ہے ۔۔۔
مگر اس کی باتوں نے بہت جذباتی کر دیا ہے ۔۔ خدا کی قسم انکھ سے انسو ا گے ۔۔
کہتے ہیں جج نے عمران خان سے کہا پانچ ارب پونڈ اپکو ملتے ہیں جمائما سے طلاق کے بعد عمران خان نے کہا مجھے کچھ نہی چاہیے میرے بچوں کو دے دیں ۔۔
جج نے کہا جمائما ایسے شخص سے طلاق لے رہی ہو کیوں ؟
جمائما نے پتہ ہے کیا جملہ کہا
میں پاکستان رہنا نہی چاہتی وہ پاکستان کو چھوڑنا نہی چاہتا ۔۔
اور اج اس شخص پر گھڑی لینے کا عدت جیسا بھونڈا کیس دہشت گردی قتل کونسی دفعات ہیں جو اس پر نہی لگی ۔۔
ظالمو کس حد تک گرو گے ۔۔ کچھ تو حیا کر لیتے ۔۔
سارا پاکستان جانتا ہے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو فارم 47 سے حکومت میں لایا گیا، یہ اپنی جماعتوں کے فیصلے نہیں کر سکتے، اسٹیبلشمنٹ نے جو کہنا ہے انہوں نے کرنا ہے، بچہ بچہ جانتا ہے ان کا کتنا اختیار ہے، اسکرپٹ سے تھوڑا سا بھی ہٹے تو کیسز آ جائیں گے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر
خدیجہ شاہ اورمہر بانو قریشی سے متعلق قابل اعتراض ٹویٹ پر آج بھی قائم ہوں ڈیلیٹ کسی دوست کے کہنے پر کی تھی، اقرار الحسن کا زیشان عزیر کے پوڈ کاسٹ میں کیے گئے سوال پر موقف
Dear @mehdirhasan, good interview with Pakistan’s Defense Minister (who came on stolen mandate)
I have to tell you that you are lucky you are not a journalist in Pakistan. If you were, you’d be gifted with the following after this interview:
1) You would have at least 10 cases against you, some in Anti Terrorism Court and your name would have been in ECL (exit control list) so you don’t leave the country
2) You would have been declared a threat to National Security
3) Your personal life have been attacked and then they would started propaganda against your wife too (Yes, they are that low)
4) You would be associated with all hostile intel agencies already
5) Your home would have been raided (illegally) by now and they would made sure to inflict trauma on your family by destroying your house and being rough on you in front of them
6) After raiding your house, they would have abducted you and taken to a safe house (read unsafe dungeon)
7) They would have asked you to submit an apology and bow your head to their boss, the dictator, Asim Munir
8) If you didn’t comply, they would look for your extended family and raid them too (again illegally) and then show you videos of their pain and misery to see if you have changed your mind
9) If you still didn’t apologize, they would get you fired from your job and then freeze your bank accounts
10) Let’s say you still resisted, they would get you convicted via their Kangaroo courts and seal all your property and your ancestor’s property.
If any social media team member of yours tweeted #JusticeForMehdiHasan from your account, they would say that your account is operated from India and you know what “evidence” they have for that … the one that they can’t share :)
This is just a glimpse of life in Pakistan for honest journalists who dare to conduct genuine interviews (haven’t seen this sort of journalism in a while cuz all honest ones are taken off air; and one of them got assassinated)
cc @MoeedNj@WajSKhan@worqas@ryangrim@piersmorgan@Jemima_Khan@HNadim87@realZalmayMK@DerekJGrossman@DarrenJBeattie@MarioNawfal@AzeemIbrahim@ImranRiazKhan@tariqmateen@MJibranNasir@MazMHussain@ClaudeRakisits@BenjaminNorton
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025