نیشا پومی"جملے سے وائرل ہونے والے ان پڑھ دیہاتی لڑکے کا استقبال اور ساتھ سیلفی لینے والے کالجز اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں پڑھے لکھے نوجوانوں کا رش ملاحظہ فرمائیں!
یہ احمقوں کی صدی ہے 🙇♂️
"اس قوم کی جہالت کو تعلیم کبھی ختم نہیں کر سکتی"
پین یکوں کو تیز آب سے غسل دینے کی ضرورت ہے
اگر پاکستان کے پڑھے لکھے نوجوان نیشا پومی والے لڑکے کیساتھ تصاویر بنوا رہے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں انکے ملک کا سربراہ کونسا ٹیپو سلطان ہے ، نا انکا مستقبل محفوظ ہے ، نا انکو بنیادی سہولیات میسر ہیں ۔ دو چار پانچ سال میں ذمہ داریوں کا بوجھ سر پر ہوگا کسی پرائیویٹ دفتر میں چالیس پچاس ہزار کے لیے سارا دن ذلیل ہوں گے اور پھر کہیں گے یو فرام نیشا پومی یے یے۔
یاد دہانی!
پاکستان کے چپے چپے پہ آگ لگی ہے، یا محرومیاں عروج پہ ہیں، یا بھوک و افلاس کے ڈیرے ہیں، یا مہنگائی کی چکی میں پستی عوام ہے، یا بدترین فسطائیت کا شکار عوام ہے۔
یہ آیا نہیں
اسے لایا گیا ہے!
مقصد پاکستان کو کھوکھلا کرنا ہے.
#خان_کو_قوم_کے_سامنے_لاؤ
شرمناک سرینڈر کرتے پاکستانی فوجیوں کے پاس اس قدر بھاری مقدار میں اسلحہ موجود تھا کہ اگر وہ چاہتے تو کئی ماہ تک جنگ لڑ سکتے تھے
مگر بدکار فوجی اپنی عیاشیوں اور بدفعلیوں کے سبب لڑنا بھول چکے تھے، انہیں جان بچا کر پاکستان آنا تھا جہاں کے وہ نواب تھے اور پاکستانی عوام ان کی رعایا ۔
امتیاز چانڈیو کی بہن اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے اور ان کے ساتھ کی گئی بدسلوکی کی ہم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ خواتین، بچوں اور بے گناہ افراد کے ساتھ ناروا سلوک اور تشدد کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔
واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کر انتہائی دکھ اور تشویش ہوئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں، تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور جو عناصر اس ظلم، بدسلوکی اور تشدد میں ملوث ہیں انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جا سکے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، خواتین کی عزت و وقار کو یقینی بنایا جائے اور اس واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہ صرف متاثرہ خاندان کے زخموں میں اضافہ کرے گی بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرے گی۔
ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام فوری اور مؤثر اقدامات اٹھا کر انصاف کے تقاضے پورے کریں گے۔
شزہ فاطمہ خوابہ فیڈرل منسٹر IT اینڈ ٹیلی کام ہیں جو کہ خواجہ آصف کی بتیجھی یا بھانجی ہیں
یہ ایک سفارشی عہدے پر بیٹھی ہوئی ہیں اس خاتون نے ٹیلی کام کمپنیوں سے نہ جانے کتنے پیسے یا مراعات لے کر ایک بیہودہ بل اسمبلی میں پیش کروایا جس بل کے تحت ٹیلی کام کمپنیاں کسی بھی شہری کو نوٹس بیجھ سکتی ہیں کہ آپ کے گھر ٹاور لگایا جاۓ گا اس لیے آپ کو اپنا گھر خالی کرنا ہو گا نہ کرنے کی صورت میں پانچ کروڑ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے
فارم 47 کی قومی اسمبلی نے یہ بِل بغیر پڑھے منظور کر لیا لیکن جب یہ بل سینٹ میں گیا تو اس بیہودہ بل کے اندر موجود بیہودگی پر سب سے پہلے سینٹر علی ظفر نے سوال اٹھایا پھر سینٹر پلوشہ خان نے بھی اس گھٹیا بل کے خلاف اپنی آواز اٹھائی جس کے بعد یہ بل سینٹ میں آ کر رک گیا
لیکن اس بل نے شزہ فاطمہ جیسے سفارشی عہدوں پر بیٹھے نااہل لوگ اور فارم 47 کی نیشنل اسمبلی کو ایک بار پھر ایکسپوز کیا ہے
"غزہ میں خاموش ہونے والی ماں کے بعد، اب اس کی 11 سالہ بیٹی بول رہی ہے"
فلسطینی صحافی ماں، جو اسرائیلی حملوں میں اپنی جان گنوا بیٹھی، ان کی جگہ اب اس کی صرف 11 سالہ بیٹی نے لے لی ہے۔ دنیا کی سب سے بھیانک جنگوں،
میں سے ایک کے بیچ، اس بچی نے کھلونوں کے بجائے مائیکروفون اٹھایا ہے. اور دنیا کو غزہ کا سچ بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔