نواز شریف واقعی فوجی جنرلوں کا ایک ایسا برینڈ ہے جسے فوجی جنرل نواز شریف کے روحانی باپ جنرل ضیاء الحق کی اپنی سگی اولاد کو بھی G.H.Q اتنا لاڈ نہیں کرتا جتنا نواز شریف پر نوازشات ہیں جنرلوں کا بھگوڑا برینڈ ہے اقتدار جاتے ہی لندن بھاگ جاتا ہے
ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ذہنی غلام ہیں کوئی باہر کی طاقتور کا کوئی فوجی جنرلوں کا کوئی سرمایہ دار کا کوئی مزہبی لیڈروں کا کوئی سکیورٹی ایجنسیوں کا کوئی عدالتوں کا سب غلام ہیں اس لئے ہم انقلاب نہیں لا سکتے
اس کمینے کا نام شفقت عباس ہے
اور یہ لعنتی اپنے آپ کو سجدے کرواتا ہے
اور یہ اپنے آپ کو عزت دار اور بااثر کہلواتا ہے
اللہ پاک کی رضا کیلئے اس معاملے میں کوئی ساتھ دے یا نہ دے میں اس کا اس وقت تک پیچھا کروں گا جب تک یہ اس کام سے توبہ نہیں کر لیتا
مختصر سا کلیہ ہے آزادی کا ہمارے ادارے ہمارے نام نہاد سیاست دان پالتو کتے نام نہاد علماء دین دانشور ننگے دو ٹکے پر بکنے والے ننگے صحافی جنرلوں کی دلالی کرنے والے جج وکیل اور بیرو کریٹس سب بیغرت بے شرم غلام بزدل لالچی سب خوبیاں اس نظام میں پائی جاتی ہیں
ٹیوٹر X کی دنیا کے دوستوں بزدل پاکستانیوں کو میرا سلام جہاں رہیں خوش رہیں رب کا شکر ادا کرتے رہیں صبر سے کام لیتے رہیں برائی کو برا کہتے رہیں حق کے لئے آواز اٹھاتے رہیں
جب ہی مرا جا رہا کہتا ہے مجھے آزاد کشمیر ہی وزیراعظم بنا دو وزیر اعظموں کے وزیراعظم کی یہ اوقات ہے لگتا ہے جاتی امرا میں سارے نوکروں کو یہ کہا ہوگا کہ یہ جاتی امرا کا وزیراعظم ہے جب ہی اس کا باہر نکلنے کو جی نہیں کرتا
ٹیوٹر X کی دنیا کے دوستوں بزدل پاکستانیوں کو میرا سلام جہاں رہیں خوش رہیں رب کا شکر ادا کرتے رہیں صبر سے کام لیتے رہیں برائی کو برا کہتے رہیں حق کے لئے آواز اٹھاتے رہیں
@jokkeerrr2 ایسا ہی تھا ہمارا پاکستان غریب کے لئے قانون کوئی اور امیر کے کے کتوں کے لئے بھی قانون کوئی اور یہ ظلم ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن پرانے وقتوں میں سوشل میڈیا کی طاقت نہیں تھی
@MoeedNj If there was knowledge and awareness, perhaps it wouldn't take the nation 80 years to realize that the bloodthirsty beasts we are feeding our blood to will also drink the blood of our future generations.
The World’s Convenient Blindness to Pakistan’s Military State and its brutality- Why such insensitivity to the fate of 250 million people? https://t.co/vInKVZjSPl
خیبرپختونخوا کے غیور قبائل 1948 کے بعد آج 2026 میں کشمیریوں نے تمہیں پھر یاد کیا 1948 میں ہندوستان کی فوج سے آزاد کشمیر کو آزاد کرایا تھا اج2026 میں پاکستان کی فوج سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے پاکستان کی فوج آزاد کشمیر میں کشمیریوں کے خون خون کی حولی کھیل رہی ہے بچالو کشمیریوں کو
خیبرپختونخوا کے غیور قبائل 1948 کے بعد آج 2026 میں کشمیریوں نے تمہیں پھر یاد کیا 1948 میں ہندوستان کی فوج سے آزاد کشمیر کو آزاد کرایا تھا اج2026 میں پاکستان کی فوج سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے پاکستان کی فوج آزاد کشمیر میں کشمیریوں کے خون خون کی حولی کھیل رہی ہے بچالو کشمیریوں کو
@ArifRetd دنیا کو چلانے والا ایک خاص مافیا ہے جس کے لئے سب سے بڑا خطرہ دین اسلام ہے دین اسلام کو ختم کرنے کے لئے تمام اسلامی ممالک کی حکومتیں فوجی جنرل انٹیلیجنس ایجنسیوں کے چیف کہنے کو تو مسلمان ہیں لیکن یہ وہی منافقین کی نسل ہے جو جنگ بدر میں 313 ایمان والے مسلمانوں کو دھوکا دے دیا تھا
1897 کی بات ہے۔ امریکی فوج جاننا چاہتی تھی کہ کیا پیدل فوج میں گھوڑوں کی جگہ سائیکل استعمال ہو سکتی ہے؟ اس تجربے کے لیے 25ویں انفنٹری کے 20 سیاہ فام فوجیوں کا انتخاب کیا گیا۔ انہیں بفیلو سولجرز کہا جاتا تھا۔ انہیں ایک کٹھن مشن سونپا گیا۔ وہ مشن مونٹانا کے قلعے سے سینٹ لوئس تک کا سفر تھا۔ یہ کل 1900 میل کا طویل فاصلہ تھا۔
ان آئرن رائیڈرز نے اپنے کندھوں پر 60 پونڈ وزنی سامان لاد رکھا تھا۔ ہر ایک کے پاس رائفل اور ایک فالتو ٹائر تھا۔ راستے میں کوئی سڑک نہیں تھی۔ وہ بھاری بھرکم اور بغیر گیئر والی سائیکلوں پر خطرناک پہاڑوں، بنجر زمینوں اور کھلے میدانوں سے گزرے۔ پرائیویٹ جان فنڈلے نے اپنی قمیض کے ٹکڑے پھاڑ کر سائیکل کے پنکچر لگائے۔
اس سفر کے دوران ان کے ساتھ انتہائی شرمناک سلوک ہوا۔ سیاہ فام ہونے کی وجہ سے وائومنگ کے قصبوں میں گوروں نے انہیں پینے کے لیے پانی تک دینے سے انکار کر دیا۔ پیاس بجھانے کے لیے انہیں مجبوراً جانوروں کے ٹینکوں سے پانی پینا پڑا۔یہ کٹھن سفر 41 دن میں مکمل ہوا۔ انہوں نے روزانہ اوسطاً 52 میل سائیکل چلائی۔ جب وہ سینٹ لوئس پہنچے تو گوروں کے اخبارات نے ان کی اس عظیم محنت کو محض ایک کرتب کہہ کر مذاق اڑایا۔ فوج نے بھی اس منصوبے کو غیر عملی کہہ کر بند کر دیا۔ مگر ان سیاہ فام جوانوں نے ثابت کر دیا کہ یہ کام ممکن تھا۔ ان کے کمانڈنگ افسر نے لکھا: کوئی گھوڑا یہ سفر طے نہیں کر سکتا تھا، مگر ان انسانوں نے کر دکھایا۔
آج سے محض سو ڈیڑھ سو سال پہلے تک وہاں سیاہ فاموں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر اور امتیازی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ رنگ و نسل کے تعصب کی وجہ سے ان کی اتنی بڑی کامیابی کو بھی مٹی میں ملا دیا گیا۔اس تاریک تاریخ کے برعکس، ذرا اسلام کی روشن تاریخ پر غور کریں! ان نام نہاد مہذب اقوام سے صدیوں پہلے، ہمارے نبی کریم ﷺ نے رنگ، نسل اور ذات پات کے تمام بتوں کو ہمیشہ کے لیے پاش پاش کر دیا تھا۔ آپ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں واضح اعلان فرما دیا تھا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ انسانیت اور مساوات کی جو معراج اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے سکھا دی تھی، یہ مغربی دنیا آج تک اس معیار تک نہیں پہنچ سکی۔