اگر آج۔۔تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو
قوم پر احسان عظیم ظاہر کیا جائے گا۔اگر
نا کم ہوئیں تو پھر بتایا جائے گا کہ
"سستا تیل آنے میں وقت لگتا ہے"
جبکہ
*عالمی مارکیٹ میں جب تیل مہنگا ہو تو اسی دن پاکستان پہنچ جاتا ہے۔
(اسد آر چوہدری)
یہ غریب کی ریڑھی تو قانون کی سختی کے نام پر چور چور کر دی درباریوں نے تالیاں بجا بجا کر رول آف لا اور گورنس کی تعریف کر دی
اسلام آباد کی ون کانسٹیٹیوشن کی غیر قانونی بلڈنگ عدالتی فیصلے کے بعد بھی جی آئی ٹی بن گئی
اعتراض اس امتیازی قانون پسندی پر ہے
آپ معاملہ یوں دیکھیں کہ ایک بجٹ دینے پر وزارت خزانہ اور وزیراعظم کے تمام ملازمین کو چھ مہینے کی ایکسٹرا تنخواہ بطور بونس دے دی
جبکہ عام غریب ایک یونٹ 200سے اوپر استعمال کر لے اسے چھ مہینے کے لئے بارہ ہزار بل بھیج دیتے ہیں
یہی آپ کے بل سے وصولے چھ مہینے کے پیسے ان کی عیاشیوں پر لگ رہے ہیں
مطلب ان کو چھ مہینے کی ایکسٹرا تنخواہ مفت میں دے دی کیا ان کی کارکردگی سے قرضے اتر گئے یا خزانہ بہت بھر گیا کہ یوں بانٹنے لگ گے ہیں ؟
عجیب ڈرامہ ہے ججوں نے اپنی تنخواہیں بڑھا لیں وزیروں نے اپنی چھ سو فیصد بڑھا لی تھیں پھر ججوں نے عدالتی عملے کی تنخواہ بھی بڑھا دی
جب عام سرکاری ملزمان یا پینشنر کی بات آ جائے کہتے خزانہ میں پیسہ نہی ہے
ایک بندہ غلط ہو سکتا دو غلط ہو سکتے مگر یہاں تو وہ لوگ جو تیس چالیس سال سے پارلیمنٹ کور کر رہے وہ صحافی کہہ رہے کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے جیسا معاملہ ہے اور وہ حیران رہ گئے ہیں کہ حکومت کی ہر سطح پر اس بل پر کسی نے کوئی اعتراض نہی کیا ہے
حکومتین عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ھیں لیکن پاکستان میں حکومتیں اربوں کھربوں منافع کماکر حکومت کو ٹکے برابر کا ٹیکس دینے والی کمپنیز کے مفادات کا تحفظ کرتی ھیں۔ملاحظہ ھو اگر کوئی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کسی کی پرائیویٹ پراپرٹی پر اپنے آلات لگانا چاھے تو پراپرٹی مالک کو ھر حال میں اس کمپنی کی بات ماننی پڑے گی اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس پر پانچ کروڑ کا جرمانہ ھوگا۔واہ
ڈی سی صاحبہ کا پروٹوکول دیکھیں!!
اِس ڈی سی کو 2.50 کروڑ کی گاڑی 5/6 پولیس اہلکار, Driver, مفت گھر گھر میں نوکر چاکر بچوں کی مفت تعلیم مفت علاج,
صرف اسلیے دی جارہی ہے کہ میڈیم دوکاندار کو جرمانہ کرسکے بس!!
یہ کام ایک عام بابو بھی کرسکتا, جو 35 ہزار تنخواہ پر کام کرتا ہو!!
پاکستان میں عوام کے ٹیکس پر پلنے والوں نے کاروبار کرنا ایک جرم بنا دیا ہے اس ملک میں حرام کما کر الیٹ ترین بننے والوں کے علاوہ ہر روزی روٹی کمانے والے کی زندگی ذلت بنا دی ہے
ایک باپ کو بیٹے کے سامنے تھپڑ مارنا ساری زندگی کے لئے ایک جذباتی صدمہ دینا ہے
مزے کی بات فضیلہ قاضی کا بیٹا وہی جن زی والا وہ سارا دن پاکستان اس کے نظام اور اس کے خلاف باتیں کرتا رہتا باپ اس کا پی پی میں اور ماں نے سرکاری تمغہ بھی کل وصول کر لیا ہے
یہ بھی اچھا فارمولا ہے خاندان کا ہر بندہ الگ پارٹی میں گھسا دو نظام کے مزے بھی اٹھاؤ اور تنقید کر کے بھی ڈالر کما لو
گلن بھارو کی کہانی،انصاف کے لئے ایک آواز، ایسی آواز جو سنی جانی چاہیے۔ ایک ایسی حقیقت جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسے معاشرے میں جو اکثر بہت تیزی سے آگے بڑھتا ہے، اس طرح کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ احتساب، قانون اور انسانیت کیوں اہمیت رکھتی ہے۔ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ جو صحیح ہے اس کے لیے کھڑے ہوں۔ جو نہیں کر سکتے ان کے لیے بولیں۔ #JusticeForGullanBharo #Pakistan #Sindh #HumanRights #Justice #VoiceForTheVoiceless #StandForTruth
مریم نواز صاحبہ کے پنجاب میں وردی والے غنڈوں کا راج ہے اس ملک میں الیٹ کے خلاف عدالت فیصلہ دے تب بھی وزیراعظم شہباز شریف کمیٹی بنا دیتا ہے
غریب کی پاکستان میں یہی اوقات ہے اور اس کے لیے کوئی آواز بھی نہی اٹھائے گا
الیٹ کے غیر قانونی ٹاور کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کمیٹی بنا دیتا ہے جبکہ غریب دوکان دار کے لیے مریم نواز صاحبہ یہ غنڈے پیرا فورس کے نام پر رکھ لیتی ہیں
غریب کے لئے کوئی صحافی نہی لکھتا کہ اس سے سرمایہ بھاگ جائے گا کاروبار تباہ ہو جائے گا
غریب تباہ دے 🥲