اس بےزبان بہن کی زبان بن جائیں۔۔۔!!
سال 2009 میں یہ معصوم بچی ملتان میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ ایک شیلٹر میں جمع ہوئی۔
بعد ازاں اسے کراچی کے ایک شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا، جہاں یہ بچی برسوں سے زندگی گزار رہی ہے۔ شیلٹر میں نام آمنہ عرف حمیرا ہے۔
جو بچیاں اپنے گھر والوں سے ملتی ہیں یہ انکو دیکھ کر بہت روتی ہے اور اشاروں میں کہتی ہے مجھے بھی کوئی میرے اپنے گھر والوں سے ملائے۔
سترہ سال گزر گئے…وقت بدل گیا، بچپن گزر گیا، عمر بڑھ گئی…
مگر ایک سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے:
آخر اس بچی کے اپنے کون ہیں؟
شاید وہ لوگ یہ سمجھ کر خاموش ہو گئے ہوں کہ ان کی بیٹی کبھی واپس نہیں آئے گی…لیکن ہم امید نہیں چھوڑیں گے۔
یہ تصویر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
ہو سکتا ہے یہ پوسٹ کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اس بچی کو پہچانتا ہو، یا اس کے خاندان کے بارے میں کوئی معمولی سی معلومات رکھتا ہو۔
ایک شیئر صرف ایک پوسٹ کو نہیں پھیلاتا، بلکہ کسی کی 17 سالہ جدائی ختم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
آئیے، اس بچی کو اس کے اپنوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
8 Aug 2026
#waliullahmaroof
We have been informed that my father, Imran Khan, has lost most of the vision in his right eye, with reports indicating only 15% eyesight remains. This is the direct consequence of 922 days of solitary confinement, medical neglect (denied blood tests) and the deliberate denial of proper treatment in jail.
The responsibility lies squarely with the regime in power, the Army Chief and the puppets enabling this cruelty. This physical deterioration is happening under their orders, their watch and their responsibility. They have manipulated and warped the justice system in order to keep my father in solitary confinement.
My brother and I are still being denied visas to see our father as his health deteriorates. History will record this injustice.
We urge human rights bodies, legal institutions and democratic nations to confront this persecution and ensure those responsible face consequences.
شوکت خانم کینسر اسپتال کراچی کو دسمبر 2026 تک آپریشنل کرنے کے لئے 9 ارب روپے کی ضرورت ہے لاہور و پشاور کے بعد کراچی کا اسپتال بھی آپ کے عطیات کا منتظر ہے اس رمضان میں اپنی زکوٰۃ اور عطیات شوکت خانم اسپتال کو دیجئیے تفصیلات کے لئے
https://t.co/29R8bisgv1
https://t.co/ZYy4sxgJjp
الله تعالیٰ عورت کے لیے غم کیوں نہیں چاہتا؟
قرآن میں الله تعالیٰ نے بار بار عورت کو غم نہ کرنے کی تلقین کی ہے۔
سورۃ القصص میں فرمایا: تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو جائے اور وہ غم نہ کرے۔
سورۃ الاحزاب میں فرمایا: تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم نہ کریں۔
سورۃ مریم میں فرمایا: اس نے اسے آواز دی کہ غم نہ کرو۔
سورۃ القصص میں فرمایا: نہ ڈرو اور نہ غم کرو۔
قرآن مجید کی ان آیات میں خاص طور پر عورت کو غم سے بچانے کی بات کی گئی ہے۔ کیونکہ عورت کا غم بہت گہرا ہوتا ہے، اس کے جذبات نازک ہوتے ہیں۔ غم اس کے چہرے سے رونق چھین لیتا ہے، اسے کمزور کر دیتا ہے۔
اور سائنسی طور پر بھی غم عورت کے جسم میں موجود ہارمونز پر اَثر ڈالتا ہے۔ کتنی عورتیں ہیں، جو غم کی وجہ سے ماں نہ بن سکیں۔ کتنی عورتوں کے بال جھڑ گئے۔ کتنی عورتوں کا رنگ غم کی وجہ سے زرد ہو گیا۔
اس لیے ان نازک دلوں کے ساتھ نرمی برتو۔ ماں کو سخت لفظ نہ کہو۔ بہن کے ساتھ سختی نہ کرو۔ بیوی کو نظر انداز نہ کرو۔ بیٹی کی بات سُنو، مسکرا کے جواب دو۔ اس کے دل کی خواہش پوری کرو۔ عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔ ان کے دل خوش رکھو، کیونکہ انہیں عزت صرف وہی دے سکتا ہے۔۔۔ جو خود باعزت ہو۔ اور انہیں ذلیل وہی کرتا ہے، جو خود ذلیل ہو۔
تمہیں معلوم نہیں کہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ لا کر تم الله تعالیٰ کے کتنے قریب ہو جاتے ہو۔ یہی عورتیں الله تعالیٰ کے بعد تمہاری خوشیوں، تمہارے رزق، تمہارے سُکون کا ذریعہ ہیں
عورتوں کے بارے میں الله تعالیٰ سے ڈرو، ان کا خیال رکھو، ان کا مان بنو اور ان کا غم نہ بڑھاؤ۔
اِسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا
ترجمہ: عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کو سنجیدگی سے لو۔
#حوالہ:
📘 صحیح البخاری: 3331
📘 صحیح مسلم: 146
@tayyabaraja_ That's good decision..kr tou ya kch rha nae tha... even k ek provience Ka CM hoty huway protest b sahi sy nae kr skta... finally sense prevail
پاکستانی شہریوں کے اسرائیلی حراست کے معاملے پر حکومت چپ سادھے ہے، روزانہ پاکستانیوں کو احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کی کوئ حیثیت یا اہمیت نہیں ہے، شہباز شریف کو بیرونی دوروں سے فرصت نہیں ، پاکستانی شہریوں کئ رہائ کیلئے سنجیدہ کوشش کریں
مختصر یہ کہ
عمران خان مقبوضہ فلسطینی علاقے واپس فلسطین کو دے کر دو ریاستی حل کی حمایت کر رہے تھے۔
شہباز شریف مقبوضہ فسلطینی علاقے اسرائیل کو دے کر دو ریاستی حل کی حمایت کر رہے ہیں۔
اس سے آگے اور پیچھے سب شور ہے۔
#Pakistan#Palestine#Gaza#USA#Israel#ImranKhan#ShehbazSharif
کسی مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک عورت کو گرفتار کیا جائے مگر نہ اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور نہ ہی اس کے اہلِ خانہ یا وکلاء تک رسائی دی جائے۔ سیاست میں سب کے اپنے اپنے نظریات ہیں، مگر فلک جاوید کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کے خلاف ہم سب کو مل کر آواز بلند کرنا ہوگی۔ آج اس کے ساتھ ہو رہا ہے، کل کسی بھی جماعت یا کسی بھی سیاسی وابستگی رکھنے والی خاتون کے ساتھ ہو گا۔
تمام خواتین کو اپنی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر اس عمل کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
فلک جاوید کی گرفتاری کیسے ہوئی؟؟؟
فلک جاوید گذشتہ دو اڑھائی سال سے نو مئی کیسیز میں روپوش تھیں اور انکے خلاف FIA میں ایک مقدمہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی درج کروا رکھا ہے۔ فلک جاوید زیادہ تر لاہور میں ہی رہی اور گزشتہ روز گرفتاری اسلام آباد ایکسپرس وے پر واقع Kazani heights کے اس اپارٹمنٹ سے ہوئی جو انکی ایک خاتون دوست کے ذریعے بک کروایا گیا جہاں سے وہ پشاور جلسے کے لئے جانا چاہ رہی تھیں۔
میری معلومات کے مطابق لاہور سے انکے خاوند شکیل ریاض جو کہ پی ٹی آئی کے ورکر بھی ہیں نے انہیں بس اڈے پہ چھوڑا جبکہ انکے پانچ بچوں میں سے کوئی بھی انکے ہمراہ نہیں تھا۔ فلک جاوید ڈائیوو بس کے ذریعے اسلام آباد پہنچیں جس کے بعد اوبر کے ذریعے وہ Kazani heights پہنچیں اور آدھے گھنٹے کے اندر اس بلڈنگ کو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھیر لیا۔ کنٹرول روم میں لگے کیمروں کی مدد سے انکو تلاش کیا گیا کیونکہ جیسا پہلے کہا کہ یہاں اپارٹمنٹ اپنے نام پہ نہیں بلکہ کسی خاتون دوست کے نام پہ بک کروایا گیا تھا اور غالبا Airbnb کے ذریعے بک کروایا گیا تھا۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اپارٹمنٹ تک آنے اور فلک جاوید کو گرفتار کرنے تک وہ اپنی بہن صنم جاوید سے مسلسل رابطے میں بھی تھیں۔ دونوں بہنوں کے خاوند سگے بھائی بھی ہیں۔
ذرائع کے مطابق فلک جاوید اسلام آباد کے سیف سٹی کے کسی کیمرے میں capture ہوئیں لیکن یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہوسکتا ہے مخبری بھی ہوئی ہو۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اب تک فلک جاوید کے علاوہ PTI کے تین سے چار لوگوں کو گرفتار کرچکے ہیں جو نو مئی کیسیز میں اشتہاری تھے یا سزائوں کے بعد مطلوب تھے جن میں پی ٹی آئی کی ایک خاتون MPA فردوس رائے بھی شامل ہے جو سزا کے بعد روپوش تھی لیکن گھر سے کپڑے لانے گئی تو مخبری کے ذریعے گرفتار ہوگئیں۔
فلک جاوید ہو یا کوئی اور انہیں جبری طور پر لاپتہ نہیں ہونا چاہیے اگر کسی کو گرفتار کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر عدالت پیش کیا جانا چاہیے۔