A mighty state—terrible in its fear of women. It beats them, drags them, strips them of dignity in full daylight, and calls it law. Today, Beebow Baloch was tortured, and brutally dragged from Hudda Jail Quetta where over a month she’s been already detained.
The silence is louder than the violence. People have learned to believe what the state says—because believing is easier than resisting. If we had placed our faith in propaganda, we would have never entered politics. But we did. Because politics, for us, was never about power—it was about survival.
We rose not for ambition, but because the most basic right—the right to live—was denied to us. When you are stripped of life, you fight not for comforts, but for breath, for memory, for survival. You scream because silence means death.
#ReleaseBYCLeaders
The jail superintendent admits Beebow Baloch was moved in the dark of night without informing her family or lawyer to Pishin Jail . Pishin Jail confirms she hasn’t arrived there,this is an enforced disappearance.
Dr. Mahrang’s family and legal reps are also being denied access.
The arrests of Mahrang Baloch, Beebow Baloch, and Gulzadi reflect not just the desperation of a repressive state, but the rising power of a resistance led by women.
In a region where the state often writes the script of who speaks, who mourns, and who resists, these women tore through every imposed silence. Their activism has exposed the violent core of so-called “development” and “security” policies in Balochistan, and in doing so, they’ve become more than political prisoners, they are now role models for all the region or even of South Asia.
In a world where courage is often measured by who can shout the loudest, they’ve shown that real defiance is quiet, consistent, and deeply rooted in truth.
#StopBalochGenocide
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
You are so afraid that when you try to challenge them legally, you fail. You threatened them and made a variety of baseless demands, but still, you failed. Now,you have reached your lowest standards by attempting to drag them down and attack them,yet you still cannot defeat them.
BYC central leader Dr Sabiha has rejected police claims that Beebow Baloch was transferred to Pishin District Jail, stating she has not been produced there. If she isn’t in Pishin jail, then where is she? As a detained woman activist, her safety and wellbeing are gravely at risk.
At this late hour, Gulzadi Baloch’s sister has reached at Hudda Jail Quetta, fearing for her safety. Yet the police have denied them a meeting.
#StopBalochGenocide#ReleaseBYCLeaders
میری بہن ڈاکٹر ماہ رنگ، بیبو بلوچ اور گلزادی کو تھوڑی دیر پہلے ہُڈا ڈسٹرکٹ جیل سے CTD اہلکاروں نے زبردستی اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر CTD نے ان پر تشدد کیا، بالخصوص ماہ رنگ اور بیبو کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ اس کے بعد وہ بیبو، کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ ہم اپنی وکلاء ٹیم کے ساتھ ہدہ جیل میں موجود ہیں۔ براہِ کرم اپنی آواز اٹھائیں
I am very distressed to inform you that the Counter Terrorism Department forcibly attempted to abduct Mahrang, Beebow, and Gulzadi a short while ago from Hudda district jail. They all resisted. CTD assaulted and physically tortured Mahrang, Beebow and others. They have reportedly taken Beebow with them, while Mahrang and others resisted. We are on our way to the jail with the lawyers.
آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی غیرقانونی قید میں 3MPO کے تحت تیس دن کی مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے جہاں پُرامن شہریوں کو بغیر جرم قید کیا جاتا ہے اور حقیقی مجرم آزاد گھومتے ہیں یہ کیسا آئین ہے جو سچ بولنے والوں کو سزا دیتا ہے، اور ظلم کرنے والوں کو تحفظ؟
یہ ایک مہینہ گزر چکا ہے تکلیف دہ، اذیت ناک تیس دن جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو غیرقانونی طور پر 3MPO کے تحت قید کیا گیا۔ اس پورے مہینے میں ہم نے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر آئینی راستہ اپنایا، جو اس ملک کے قانون میں ہمیں حاصل تھا۔ لیکن ہر موڑ پر ہمیں انصاف نہیں، تذلیل ملی۔ عدالتوں نے ہمیں مایوس کیا۔ انصاف کے نظام نے ہمیں ٹھکرا دیا۔ ہر سرکاری دفتر نے نہ صرف بے حسی کا مظاہرہ کیا بلکہ ہمیں طنز و تمسخر کا نشانہ بنایا جیسے روز ہمیں یاد دلایا جا رہا ہو کہ ہم اس ملک کے شہری نہیں بلکہ دشمن ہیں۔
جب لوگوں نے پُرامن احتجاج کیا تو اُن پر ظلم ڈھایا گیا۔ اُن کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، خاندان کے افراد کو ہراساں کیا گیا، گرفتار کیا گیا۔ ریاست نے صرف ہماری آواز کو دبانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ میڈیا اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہمیں بدنام کرنے کی مہم شروع کی۔ ہمیں پُرامن مظاہرین کی بجائے ایک خطرہ، مسلح گروہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ اُس وقت بھی یہ جھوٹ تھا، آج بھی جھوٹ ہے۔ ہم کل بھی پُرامن تھے، آج بھی ہیں۔ لیکن آخر کب تک ہم برداشت کریں گے جب ہر طرف سے صرف جبر، تحقیر اور زیادتی ہی ہمارا مقدر بنا دی جائے؟
یہ صرف بنیادی حقوق کی لڑائی نہیں، یہ ایک ذاتی زخم ہے۔ ایک خاندان کی، ایک بہن کی، ایک ایسی عورت کی جو پہلے ہی اپنے والد کا سایہ کھو چکی ہے۔ میں وہ درد جانتی ہوں جو دل میں ایک خالی پن چھوڑ جاتا ہے۔ اور اب، میری بہن میری روشنی، میری طاقت، میری صبر اور ہمدردی کی استاد زندان میں ہے۔ میں یہ تکلیف اس وقار کے ساتھ سہہ رہی ہوں جو اُس نے مجھے سکھایا لیکن ہر کوئی اتنا مضبوط نہیں ہوتا۔ اگر ریاست کا یہی رویہ رہا تو کتنے اور لوگ صبر کی اس آخری لکیر سے آگے نہ نکل جائیں گے؟
بس بہت ہو چکا۔ ہم کوئی مجرم نہیں ہم پُرامن لوگ ہیں جو باوقار زندگی کے حق کے لیے کھڑے ہیں۔ چاہے آپ جتنے چاہیں ہمیں قید کریں، ہم خاموش نہیں ہوں گے۔
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
ہمیں کیا کرنا ہے؟
میرے جرات مند ساتھیوں!
ہمارے لیے آج یہ سوال بہت اہم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ آج، جس وقت میں یہ خط کال کوٹھریوں سے تحریر کر رہی ہوں، اس وقت ہماری تنظیم اور تحریک بدترین ریاستی مظالم کا سامنا کر رہی ہیں۔ ہمارے متعدد ساتھی جیلوں میں قید ہیں، اور جیل سے باہر ہماری تنظیم پر بدترین قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ میرے نزدیک اہم سوال یا اہم مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم پر تشدد کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، ہمیں گرفتار کیا جا رہا ہے یا ہم جیلوں میں قید ہیں، بلکہ میرے نزدیک اہم سوال یہ ہے کہ ہمیں بحیثیتِ تنظیم ان حالات میں کیا کرنا ہے؟ میں سمجھتی ہوں کہ اگر ہم اس سوال پر غور و فکر کیے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو شاید ہم بحیثیتِ تنظیم آگے نہ جا سکیں۔
جب میں گرفتار ہوئی، میرے ساتھی گرفتار ہوئے، تنظیم پر بدترین جبر (کریک ڈاؤن) (ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اس لفظ “کریک ڈاؤن” کا بھی غلط استعمال کر رہے ہیں، ہم پر کریک ڈاؤن نہیں ہو رہا بلکہ ہم کالونیل جبر کا سامنا کر رہے ہیں) کا آغاز ہوا ہے، تو اس صورتِ حال کا خاصا اندازہ تو ہمیں اور ہماری تنظیم کو پہلے سے تھا، لیکن پھر بھی ہمیں حالات کی گہرائی سے جستجو کرنے کی ضرورت ہے۔
میرے ساتھیوں،
میرے نزدیک تشدد، گرفتاری، جیل یا ان کے ردِعمل میں بڑے پیمانے پر احتجاج نہ کرنا شکست کی علامت نہیں ہے، اور میں قطعی طور پر ایسی باتوں پر ذرہ برابر بھی یقین نہیں رکھتی ہوں۔ میرے نزدیک شکست، سیاسی اور فکری پسماندگی ہے۔ جب ہم سیاسی اور فکری طور پر پسماندہ ہو جائیں یا کھوکھلے ہو جائیں، تو وہ دن ہماری شکست کا دن ہوگا۔ان حالات میں ہماری دیگر اہم ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ سیاسی کارکن اپنے آپ کو سیاسی اور فکری پسماندگی سے کیسے محفوظ رکھیں گے۔ فکری پسماندگی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ “تنظیم” ہے۔ لیکن صرف تنظیم کا ہونا ازخود کافی نہیں ہے،بلکہ تنظیم میں مرکزیت کے گرد ایک ترقی یافتہ سیاسی شعور کا موجود ہونا بھی ضروری ہے، جو پورے ایک نیٹ (جال) کی طرح یونٹ سے لے کر مرکز تک تمام کیڈرز اور ذیلی اداروں کو اس ترقی یافتہ سیاسی شعور سے لیس کرے۔
اگر ہم تنظیمی اور تحریکی ترقی چاہتے ہیں، اور اپنے آپ کو سیاسی پسماندگی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو اس وقت ہماری تمام تر توجہ ان امور پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس نکتہ سے انکار کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے کہ اس وقت ہمارے پاس نہ صرف سیاسی شعور سے لیس تنظیم موجود ہے بلکہ عہدِ حاضر میں وہ منظم بھی ہے۔ لیکن اپنی موجودہ حیثیت پر مکمل طور پر مطمئن ہونا یا خوش فہمی کا شکار ہونا، اپنے آپ کو جمود کا شکار کرنے جیسا ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت ترقی اور آگے بڑھنے کے سفر کو نہیں روکنا چاہیے، اور اس کے لیے ہمیں مسلسل محنت، غور و فکر، اور جستجو جیسے تخلیقی ماحول کو پروان چڑھانا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بی وائی سی جیسی تنظیم کسی حادثے یا ایک مخصوص ایونٹ کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ یہ مسلسل جدوجہد، غور و فکر، اور جستجو کی پیداوار ہے، اور اس کی کامیابی کے لیے بھی مسلسل جدوجہد، غور و فکر، اور جستجو ضروری ہے۔
میرے دوستوں،
ہمارے لیے ہر وقت تنظیم اعلیٰ اور اہم رہی ہے، اور اسے ہمیشہ اہم و اعلیٰ ہونا چاہیے، کیونکہ ہم جس جبر کے نظام کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، اُسے ایک منظم تنظیم کے بغیر شکست دینا ناممکن ہے۔لہٰذا، اس وقت ہماری توجہ ایک منظم تنظیم پر ہونی چاہیے۔ہمیں کسی ایک لمحے کے لیے بھی اپنے جذبات کو عقل پر حاوی نہیں ہونے دینا ہے۔ہمیں کسی بھی ایسے نقطے سے دور رہنا ہے جو ہماری تنظیم کی اجتماعی قوت کو کمزور کرے۔ہمیں بد سے بدترین صورتِ حال میں بھی منتشر نہیں ہونا ہے۔منظم رہنا ہماری مجبوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔ہمیں ہر طرح کی صورتِ حال میں منظم رہنا ہے۔ہمارے ہر ایک کارکن کو اپنے نفسیات اور اعصاب پر مکمل اختیار ہونا چاہیے، اور کسی بھی دباؤ کی صورت میں ایسے عمل سے اجتناب برتنا چاہیے جس سے تنظیم اور اجتماعی مقصد متاثر ہو۔ معمولی سے معمولی فیصلہ لینے کے لیے بھی ہمیں حالاتِ حاضرہ کا مکمل ادراک ہونا ضروری ہے۔ہمیں سوشل میڈیا کی کج بحثی سے متاثر ہو کر کسی بھی صورت تنظیمی فیصلے نہیں لینے ہیں۔
کامیابی ہر حال میں ہماری ہے، بس ہمت، جرأت اور غور و فکر سے اس جدوجہد کو آگے لے جانا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل، کوئٹہ
15اپریل 2025
بلوچستان کی تاریخ میں ایک ایسا تاریک باب بھی آیا جب انسانی لاشیں تیزاب میں جلی ہوئی ملیں، کچھ کو ہیلی کاپٹروں سے پھینکا گیا، کئی کے جسم بلیڈ سے کاٹے گئے، کچھ پر ڈرل کی گئی، اور بعض اوقات صرف ہڈیوں کے ڈھانچے باقی رہ گئے۔ کچھ لاشیں چون میں لپٹی ہوئیں تھیں گویا انسانیت دفن کر دی گئی ہو۔ ایسے مظالم کے بعد آج ریاست خود کو “ہارڈ اسٹیٹ” کہتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان ہولناک واقعات میں کہیں کوئی “سافٹ” ریاست نظر آتی ہے؟ اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ عوامل کوئی ہارڈ یا سافٹ ریاست سے نہیں، بلکہ محض بد تہذیبی، ظلم اور جبر کی علامت ہے۔
اور پھر وہ لاشیں کن کی تھیں؟ وہ بلوچ سیاسی کارکنوں کی تھیں۔ ریاست نے انہیں آزادی پسند مسلح تنظیموں کے نام سے جوڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا، تاکہ اصل حقیقت چھپائی جا سکے۔ سیاسی شعور رکھنے والے کارکن ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں ناقابلِ قبول رہے ہیں، کیونکہ سیاسی تحریکیں عوام کو بیدار کرتی ہیں، انہیں یکجا کرتی ہیں، اور پھر یہی بیداری انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
اسی لیے ہم اپنی قوم سے بار ہا کہتے ہیں، سیاسی شعور اپناؤ، یہیں شعور انقلاب کی راہیں ہموار کرے گا
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide
They (the Pakistani Establishment) use tools like Article 5 not to uphold the law, but to weaponize it.
To cast doubt, to intimidate, to isolate.
But what they fail to understand is that Mahrang have already proven her loyalty,
Not to regimes, but to her people.
Not to silence, but to justice.
Not to fear, but to truth.
You can ask for a thousand affidavits,
But Mahrang and BYC carry her/their proof in her/theirs scars!
In her struggle,
And in her unwavering refusal to be erased.
She will not bow.
She will not disappear.
She will not be made strangers on her own soil.
#WhatSortOfJusticeIsThis
#BalochLivesMatter
#StopDehumanizingBalochVoices
#MahrangBaloch
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
Nizam is a very bright person, always looking for productive activities in the education sector. Recently passed PCS, Nizam Baloch is forced to be caged behind dungeons. Help him by joining the campaign using the given hashtag: #ReleaseNizamHassan tonight from 6 to 12 (April 10).
Arresting leaders and subjecting them to torture will quell the movement. These actions are not only ineffective; they are completely misguided. Ideas cannot be crushed through violence; rather, such brutality only fortifies and educates the leaders, making them stronger.
I appeal all lawyers and members of legal fraternity to stand with us in court tomorrow not just for Mahrang, but for what she represents. She has risked everything to speak for the disappeared, the oppressed, the unheard and marginalised in Balochistan. Her fight is not just hers. It's a fight for justice for you all. Please stand by her.
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
Today marks the 16th martyrdom anniversary of Ghulam Mohammad Baloch, Lala Muneer Baloch, and Sher Mohammad Baloch the brave souls who paid the ultimate price for their people.
In this 36-year-old video, a young, dynamic, and charismatic Ghulam Mohammad Baloch speaks with passion and clarity about the very same struggles the Baloch nation still faces today. His voice then still echoes in our hearts now.
Though Ghulam Mohammad, former Chairman of @BNMovement_, is no longer with us physically, his vision, courage, and guidance remain deeply alive in our collective spirit.
#MartyrsOfMurgaap