گزشتہ سال بی وائی سی کی قیادت کو پابند سلاسل کرنے سے لیکر روان سال کی بربریت اور بلوچ قوم کی متحرک آوازوں کی عمر قید سوائے بچھی کچھی جمہوریت کے جنازہ نکالنے اور بلوچ نوجوانوں کو جمہوری سیاست سے مایوس کرنے کے اور کچھ نہیں۔
#ReleaseBYCLeaders
سترہ برس کی یہ اذیت
انصاف کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں
اے وقت! اگر عدالتیں انصاف نہ دے سکیں
تو تم ہی فیصلہ سنا دیتے
مگر تم بھی خاموش گزر گئے
جیسے زنجیریں تمہارے قدموں سے بھی لپٹی ہوں
#ReleaseDrDeenMuhammad
ملک کو جمہوری کہا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں، ایک پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ عوامی اجتماع منعقد کرنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے۔ جب لوگ اپنے آئینی اور جمہوری حق کے تحت احتجاج، پریس کانفرنس یا جلسہ کرنے نکلتے ہیں تو ریاستی ادارے دانستہ تشدد کا سہارا لے کر حالات کو خراب کرتے ہیں۔ پھر اپنے ہی ��یدا کیے گئے انتشار کو جواز بنا کر ایف آئی آر مظلوموں اور ان کی قیادت کے خلاف درج کر دی جاتی ہے۔
گوادر راجی مچی کے بعد درج کیے گئے مقدمات اور آج کوئٹہ پریس کلب کے باہر پیش آنے والے واقعات میں کوئی فرق نہیں۔ گوادر میں ایک پرامن اجتماع کو روکنے کے لیے کوئٹہ سے گوادر تک پورے بلوچستان کو جبر کی آماجگاہ بنا دیا گیا۔ عوام پر گولیاں چلیں، تشدد کیا گیا، گرفتاریاں ہوئیں، اور آخرکار مقدمات بھی مظلوموں کے خلاف قائم کیے گئے۔
آج کوئٹہ میں بھی صرف ایک پریس کانفرنس کی اجازت نا دیتا اور سیاسی کارکناں کے اہل خانہ کو دھمکانہ زدکوب کرنا ننگی بربریت کی مثال ہے۔ کوئٹہ پریس کلب سے نکلتے ہی پی ٹی ایم کے رہنماء زبیر شاہ اور دو دیگر افراد جنہوں نے لواحقین کو پانی پلانا چاہا ، پولیس گرفتار کر کے لے گئی۔ ایک نام نہاد جمہوری ریاست میں ایک پریس کانفرنس تک کو برداشت نہ کرنا اس ریاست کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب اظہارِ رائے، احتجاج اور اجتماع کی آزادی کو طاقت کے زور پر کچلا جائے تو ایسے نظام کو جمہوری کہنا حقیقت سے انکار ہے۔ ایک ایسا نظام جو ہر سیاسی آواز کو دبانے کے لیے طاقت، گرفتاریوں اور مقدمات کا سہارا لے، وہ اپنی فطرت خود آشکار کر دیتا ہے۔اب اس ملک کو جمہوری پاکستان نہیں بلکہ فسطائی پاکستان کہا جائے تو بہتر رہے گا۔
@HRCP87 @a_siab @MunizaeJahangir
@mjdawar
ڈاکٹر ماہ رنگ اور صغبت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا پاکستان کی بلوچ قوم کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔
اس فیصلے سے مزاحمت اور جدوجہد کی تاریخی مرحلے کا آغاز ہوگا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج جسٹس مبین نے آج میری بہن، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، اور ایک اور رہنما صبغت اللہ شاہ جی کو گوادر میں احتجاج کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق ایک نہایت متنازع اور سوالات سے بھرپور مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ مقدمہ خود اپنے بنیادی حقائق کے اعتبار سے مشکوک ہے۔ ایک ہی سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے واقعے پر دو مختلف تاریخوں میں دو الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئیں جو پورے کیس کو سوالیہ نشان بناتی ہیں۔ یہ انصاف نہیں بلکہ قانون کو سیاسی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک واضح مثال ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو پہلے 3MP کے تحت حراست میں لیا گیا، پھر ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے اور بعد ازاں ایک ایسا ٹرائل چلایا گیا جس پر ابتدا ہی سے جانبداری اور تنازع کے سائے منڈلاتے رہے۔ یہ بات ہم پر روزِ اول سے واضح تھی کہ ریاست کا مقصد انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ ماہ رنگ بلوچ کو ہر قیمت پر سزا دینا ہے۔
ماہ رنگ کا جرم کیا ہے؟ نہ انہوں نے تشدد کیا، نہ کسی جرم کا ارتکاب کیا۔ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لوگوں کی آواز بلند کی، جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کی اور بلوچ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہوئیں۔
حقیقت یہ ہے ک�� ریاست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بڑھتی ہوئی قومی اور بین الاقوامی پذیرائی سے خوفزدہ ہو چکی تھی۔ گزشتہ دو برسوں میں انہوں نے بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد ہوئیں، بی بی سی کی 100 بااثر خواتین میں شامل کی گئیں اور ٹائم میگزین سمیت دنیا کے معتبر اداروں کی توجہ حاصل کی۔ ایک ایسی آواز جو عالمی سطح پر سنی جانے لگی، ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت بنتی گئی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گرفتاریاں، نظر بندیاں اور سزائیں ماہ رنگ بلوچ کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ وہ پہلے سے زیادہ ثابت قدم، باحوصلہ اور اپنے مقصد کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جب ہم نے اس جدوجہد کا راستہ چنا تھا تو ہمیں اس کی قیمت کا بخوبی اندازہ تھا۔ ہم جانتے تھے کہ ہم ایک طاقتور نظام کے سامنے کھڑے ہیں، جو سزا دے سکتا ہے، قید کر سکتا ہے، مار سکتا ہے، اغوا کرسکتا ہے مگر ہمارے نظریے، ہمارے حوصلے اور ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔
میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ثابت قدم رہے، منظم رہے اور مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ مزید استقامت، اتحاد اور مزاحمت کا ہے۔ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ سزاؤں اور جبر کے ذریعے ایک تحریک کو خاموش کیا جا سکتا ہے تو وہ تاریخ کے سبق کو فراموش کر رہی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اُن خواتین اور رہنماؤں کی روایت کا تسلسل ہیں جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ قید ان کے جسم کو محدود کر سکتی ہے لیکن ان کے نظریے اور آواز کو نہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور صغبت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا پاکستان کی بلوچ قوم کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔
اس فیصلے سے مزاحمت اور جدوجہد کی تاریخی مرحلے کا آغاز ہوگا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
جس طرح ریاست پاکستان پنتالیس سال قبل حمید بلوچ کو بغیر ٹھوس ثبوت اور شواہد کے پھانسی پر چڑھایا گیا، اور وہ مقدمہ آج تک وہ فیصلہ ریاست پاکستان کے پیشانی پر سیاہ داغ ہے۔ اسی طرح یہ مقدمہ بھی جج مبین، ان کے حواریوں، ان کے سرپرستوں، پیپلز پارٹی کی ڈیتھ اسکواڈ حکومت،محکمہ داخلہ اور اس پورے عدالتی بندوبست سمیت پورے ریاست کی پیشانی پر ایک ایسا داغ بن کر رہے گا جسے تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔
اس کیس میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ اگر ایک بھی قابلِ قبول ثبوت موجود ہوتا تو کم از کم یہ کہا جا سکتا تھا کہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس ایک کیس پر دو الگ الگ ایف آئی آر موجود ہے، مگر جہاں ایک بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، جہاں شواہد مشکوک ہیں، جہاں ایف آئی آرز خود ایک دوسرے سے متصادم ہیں، وہاں عمر قید کی سزا سنانا انصاف نہیں بلکہ جبر ہے، اور یہ جبر بھی معمولی نہیں بلکہ کھلا ریاستی و عدالتی جبر ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی ایف سی اہلکار ایک ایف آئی آر کے مطابق 27 جولائی کو مر جائے اور دوسری ایف آئی آر کے مطابق 29جولائی کو بھی مرے؟ ایک انسان دو بار کیسے مر سک��ا ہے؟ جب مقدمے کی بنیاد ہی اس قدر متضاد، مشکوک اور غیر معتبر ہو تو اس بنیاد پر عوامی رہنماؤں کو عمر قید دینا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کا جنازہ ہے۔
اس جھوٹے فیصلے کو عوامی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ آج طاقت کے بل بوتے پر قانون کو توڑا مروڑا جا رہا ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر عوامی رہنماؤں کو سزا دی جا رہی ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر بلوچ نسل کشی جارہی ہے، اورعوام خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگرتاریخ خاموش نہیں ہوگی یہ سب تاریخ میں لکھا جائے گا کیونکہ تاریخ طاقتور نہیں لکھتے، تاریخ عوام لکھتے ہیں۔
ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ بندوقیں عوام کے ہاتھوں میں نہیں تھیں، بندوقیں ایف سی کے کارندوں کے ہاتھوں میں تھیں۔ ۔راجی مُچی کے دوران چار بلوچ شہید کیے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے، ایک شخص کے سر میں گولی ماری گئی اور وہ آج تک معذوری اور اذیت کی زندگی گزار رہا ہے۔ مگر ان شہیدوں، زخمیوں اور معذوروں کے لیے کسی کو سزا نہیں ملی۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار کی، جنہوں نے عوامی اجتماع کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی کو سزا نہیں ملی۔
لیکن ایک ایسے ایف سی اہلکار کے قتل کے نام پر، جس کے بارے میں ایف آئی آرز خود متضاد ہیں،جس کے ب��رے میں شواہد مشکوک ہیں، پرامن عوامی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ یہی اس نظام کا اصل چہرہ ہے۔ یہی وہ انصاف ہے جو بلوچستان کو دیا جاتا ہے۔ قاتل آزاد ہیں، مظلوم قید ہیں۔ بندوق والے محفوظ ہیں، خالی ہاتھ عوام مجرم بنا دیے گئے ہیں۔
یہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ صبغت اللہ بلوچ کا مقدمہ نہیں۔ یہ بلوچستان کی عوامی سیاست، عوامی مزاحمت، لاپتہ افراد کے خاندانوں کی فریاد، اور بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کا مقدمہ ہے۔ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں پرامن رہنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے، سوال پوچھنا بھی جرم ہے، اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھانا بھی جرم ہے، اور ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا بھی جرم ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جدوجہد جمہوری ہے، سیاسی ہے، تاریخی ہے، اور حق پر مبنی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی، اپنی عزت، اپنی زمین، اپنے لاپتہ افراد، اپنے شہیدوں اور اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہماری نسل کشی کرے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمارے پرامن اجتماعات کو گولیوں سے جواب دے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ جھوٹے مقدمات کے ذریعے ہماری قیادت کو قید کرے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ جیلیں اس تحریک کو نہیں روک سکتیں۔ سزائیں اس شعور کو ختم نہیں کر سکتیں۔ جھوٹے مقدمات عوامی حقیقت کو دفن نہیں کر س��تے۔ آج وہ طاقت کے نشے میں فیصلے لکھ رہے ہیں، مگر کل تاریخ ان فیصلوں کا حساب لکھے گی۔
ہم حق پر کھڑے ہیں۔ وہ ظلم پر کھڑے ہیں۔ ہم سچ کے ساتھ ہیں۔ وہ جھوٹ، بندوق اور جبر کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کے قاتلوں، اپنے شہیدوں کے ذمہ داروں، اور اس جابرانہ نظام کے چہروں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔
آج کا فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ آخری فیصلہ عدالتوں کے بند کمروں میں نہیں ہوگا۔ آخری فیصلہ عوام کی تاریخ کرے گی۔
Sentencing life imprisonment to Mahrang Baloch along with other political workers is an attack to peaceful political activism. It’s a very serious and shameful act. This attempt to silence the peaceful voices will have severe consequences on Balochistan’s political arena.
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی اور بالاچ قادر سمیت سیاسی کارکناں کو بغیر فیئر ٹرائل اور قانونی تقاضے پورے کئے عمر قید کی سزا سنانا نہ صرف اس نظام پر سولات کھڑا کرتے ہیں بلکہ یہ انصاف کی بنیادی تقاضوں کی نفی ہے۔ اس پر کُھل کر آواز اُٹھانی چاہئے کہ پُرامن سیاسی کارکناں کو اسطرح بغیر قانونی تقاضے کے ایک سال کے زائد عرصے سے رکھنا، اور پھر اپنی مرزی کی سزا دلوانا قانون کی دھجیاں اُڑانے کی مترادف ہے۔
میں اس کو برابری، سماجی بھلائی، قانون اور انصاف کی نہ صرف برعکس سمجھتا ہوں، بلکہ یہ سمجھتا ہوں کہ اسطرح کے بنی بنائی حربوں سے یہ اُس پُرامن سیاسی نظام کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی ایک کُھلی سازش ہے۔ اس واقعہ نے انصاف کی غیرشفافیت پر اُن شک و شبہات کو حقیقت میں بدل دیا ہے، کہ یہاں قانون، فیئر ٹرائ��، اور انصاف صرف نام تک محدود رہی ہے، لیکن میں اب یہ اخذ کرتا ہوں کہ یہ نام تک بھی موجود نہیں۔
یہ انصاف اور قانون کے لئے ایک ساہ دھبہ ہے، اسے دُھلنے کے لئے اس نظام کو صدیاں لگیں گیں، اور بلوچستان میں جُرت مند وکلاء برادری اور بلوچ قوم اس نظام کے خلاف آواز بلند کرے۔ کیونکہ یہ سب کو پتہ ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت باقی اسیران صرف پُرامن سیاسی کارکناں ہیں، انہیں ��سطرح کی القابات سے نواز کر سزا دینا سماجی حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
The continuous detention of MPhil scholar Ghani Baloch without trial or official acknowledgement directly violates Articles 10 & 10-A of the constitution. Total disregard for the rule of law cannot become the norm. The courts must act. #ReleaseGhaniBaloch
The enforced disappearances are serious crimes against humanity. The world has experienced severe inhumanity in past but unfortunately Baloch are facing it in this century. This trend has traumatized Baloch society where every single person lives in fear.
#EndEnforceDisappearance
میرا بھائی شبیر بھی اُن بلوچ طلبا میں شامل ہے جو برسوں سےریاستی زندانوں میں قید ہیں ان کی آزادی سلب کردی گئی ہےجبکہ ان کے اہلِ خانہ مسلسل انتظار، بے چینی اوراذیت کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں جب کسی فرد کواسکے خاندان اور معاشرے سے جداکردیا جائےتو اس کا درد صرف ایک شخص تک محدود نہیں
Behind bars, yet present in every conscious mind, they remain a symbol of unwavering commitment and resilience through years. Their sacrifices inspired a generation to stand and resist.
#BalochMissingPersonsDay#EndEnforcedDisappearances
Bsc Wafaq and Punjab will hold an X space formerly twitter concluding our Campaign on 8 June Missing persons day
Tittle: The Missing, The Waiting, The Resistance
Further details regarding space will be shared
8 June is not merely a day of remembrance but a day of political resistance against the ongoing policy of enforced disappearances in Balochistan.
We call upon all students, political activists and supporters of human rights to change their profile pictures and stand in solidarity with the families who continue to demand justice for their loved ones.
Let every profile become a voice for the missing and a reminder that their absence will not be forgotten.
#8junebalochmissingpersonsday