Mehrab Khalid, a student of “Filming ” at the National College of Arts (NCA),Lahore, was reportedly taken on the night of 29 May at around 12:30 a.m. Along with him, eight of his classmates were also detained and later released. However, Mehrab’s whereabouts remain unknown.
His disappearance has raised serious concerns among Baloch students studying across the country. The continued lack of information about his fate is deeply troubling and raises questions about due process and fundamental rights.
We demand the immediate disclosure of Mehrab Khalid’s whereabouts and his safe release.
#ReleaseMehrabKhalid
بلوچ طالب علم مہراب خالد کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب بلوچ طالب علم مہراب خالد کی تاحال عدم بازیابی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے۔
مہراب خالد کا تعلق بلوچستان کے شہر تُربَت سے ہے اور وہ اپنے خوابوں کی تعبیر اور فلم ساز�� (Filmmaking) کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور میں زیرِ تعلیم تھے۔ 29 مئی کی رات وہ اپنے چند کلاس فیلوز کے ہمراہ ایک پروجیکٹ پر کام کرنے کی غرض سے اپنے ایک دوست کے گھر موجود تھے، جہاں سے انہیں دیگر ساتھیوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کے بیشتر ساتھیوں کو رہا کر دیا گیا۔ لیکن مہراب خالد تاحال رہا نہ ہوسکا۔
یہ انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ امر ہے کہ ایک بلوچ طالب علم، جو علم حاصل کرنے اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے سینکڑوں میل دور اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ رہا تھا، آج خود اپنے خاندان سے دور کر دیا گیا ہے۔ مہراب خالد کے اہلِ خانہ مسلسل بے چینی، اضطراب اور کرب کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور اپنے پیارے کی واپسی کے منتظر ہیں۔
بلوچ طلبہ پہلے ہی تعلیمی میدان میں بے شمار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی طالب علم کا اس طرح غائب ہو جانا نہ صرف اس کے خاندان بلکہ پورے بلوچ طالب علمی حلقے میں خوف اور تشویش کو جنم دیتا ہے۔ ایک نوجوان جو کیمرے اور قلم کے ذریعے اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈ رہا تھا، آج خود غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب سمجھتی ہے کہ مہراب خالد کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اور انہیں اپنے خاندان کے پاس واپس لانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی خاندان کو اس اذیت سے دوچار رکھنا کہ وہ اپنے بچے کی خیریت تک سے لاعلم ہو، ایک نہایت تکلیف دہ صورتحال ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب انسانی حقوق کی تنظیموں، طلبہ تنظیموں، وکلاء، صحافیوں اور تمام انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مہراب خالد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب۔
پروفیسر غمخوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے شعور، زبان اور ثقافت کی بقا کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کا نوشکی میں دن دہاڑے بہیمانہ قتل صرف ایک فرد کی جان لینے کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ بلوچ ادب، فکری شعور اور قومی شناخت پر براہِ راست حملہ ہے۔ ان کی ادبی جگہ، “راسکوه ادبی دیوان”، جو شاعری، مکالمے اور علمی گفتگو کا مرکز تھی، مسمار ک�� گئی، انہیں ہراساں کیا گیا، اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کر کے سبی منتقل کیا گیا، تاکہ ان کی علمی آواز کو خاموش کیا جا سکے۔ آخرکار ریاستی حمایت یافتہ قاتلانہ دستوں (جو ڈیتھ سکواڈ کے نام سے جانے جاتے ہے) نے انہیں شہید کر دیا۔
یہ قتل بلوچستان میں جاری ایک وسیع اور منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جسے علمی و فکری نسل کشی کہتے ہیں۔ طاقتور ادارے اور قبضہ مافیا اس وقت سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں جب پرامن استاد، شاعر اور دانشور نوجوان نسل کو قومی شعور، مادری زبان اور تاریخی حقیقت کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف موجودہ جبر کے لیے خطرہ ہوتے ہیں بلکہ وہ ایک روشن فکری مزاحمت کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔
بلوچستان میں جاری یہ منظم علمی نسل کشی محض جسمانی قتل تک محدود نہیں۔ اس کا مقصد بلوچ زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کو جڑ سے اکھاڑنا اور قوم کو فکری طور پر مفلوج کرنا ہے۔ ریاستی مشینری اور پروکسی م��یشیاؤں کے ذریعے اہل علم، شاعر اور ادیب دن دہاڑے نشانہ بنائے جاتے ہیں، تاکہ نوجوان نسل خوفزدہ ہو کر قلم و کتاب سے دور ہو جائے اور قومی و فکری مزاحمت کی کوئی بنیاد باقی نہ رہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کے قتل سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ دانشور اور شاعروں کو صرف ان کے قلم اور خیالات کی وجہ سے نشانہ بنایا جا ��ہا ہے۔ یہ سلسلہ الگ الگ سانحات نہیں بلکہ بلوچستان میں علمی نسل کشی کے طویل اور منظم تسلسل کی کڑیاں ہیں، جس میں پروفیسر صبا دشتیاری، پروفیسر رزاق، استاد سر زاہد آسکانی، رفیق اومان اور عبدالرؤف سمیت کئی نامور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔یہ حکمت عملی محض تشدد نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور فکری حربہ ہے، جس کا مقصد معاشرے کے مورال کو توڑنا اور تعلیمی اداروں کو خوف کا آماجگاہ بنانا ہے۔ بالادست قوتیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خون کی بہاؤ سے نظریات نہیں مرتے بلکہ شہید دانشور کی فکر اور قلم کی سیاہی اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتی ہوں ،اور اس واقعے کی شفاف، آزادانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں۔ بلوچستان میں جاری علمی نسل کشی کے تمام پہلوؤں پر عالمی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ دنیا اس منظم اور خوفناک مظالم سے آگاہ ہو۔ مزید برآں، ریاستی اداروں کی جانب سے فکری اور ادبی مزاحمت کو دبانے کی منظم پالیسی کا خاتمہ ضروری ہے، تاکہ بلوچ دانشور آزادانہ طور پر علم اور ادب کی خدمت کر سکیں۔
تاریخ نے واضح کر دیا ہے کہ قلم، علم اور فکری مزاحمت کو کبھی گولی یا خوف سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پروفیسر غمخوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے شعور، زبان اور ثقافت کی بقا کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی ہے، اور یہ قربانی ہر آنے والی نسل کے لیے مزاحمت، تعلیم اور قومی شناخت کے دفاع کی مثال قائم کرتی رہے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
18مئی2026
ہدہ جیل کوئٹہ
"I have just read the response from Iran’s so-called 'Representatives.' I don’t like it — TOTALLY UNACCEPTABLE! Thank you for your attention to this matter." -President DONALD J. TRUMP
We Thank the UN Committee Against Torture for Highlighting Ongoing Rights Violations
The UN Committee against Torture (CAT) raises concerns about the detention of Dr. Mahrang Baloch, along with former Prime Minister Imran Khan, Bushra Bibi, Idris Khattak, and Ali Wazir.
The Committee also expressed concern over the denial of medical care to detained rights activists and political figures. The UN Committee against Torture (CAT) on May 1st issued its findings on Pakistan after reviewing the States Parties in its latest session.
The Committee’s findings confirmed what we have long said: arbitrary detention, reprisals, and abuse against dissenting voices must end.
The Committee further highlighted reports of torture, enforced disappearances, and retaliation against human rights defenders, journalists, and critics of the government.
We join CAT in calling on the Government of Pakistan to end these violations, review the cases of all those detained or imprisoned on political grounds or in retaliation for their work, ensure access to adequate medical care in detention, and guarantee fair trials.
https://t.co/tMnvkURw3Z
خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل اور تشویشناک رجحان کی عکاسی ہے جہاں بلوچ خواتین کی گمشدگیاں بتدریج ایک خطرناک “نارملائزیشن” کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
#SaveBalochWomen#ReleaseKhadijaBaloch#SaveBalochStudents
The attempt by Fozia Baloch to hold a press conference for her forcibly disappeared brother, Daad Shah Baloch , reflects a basic exercise of fundamental rights. The refusal by the Karachi Press Club raises serious concerns about access to freedom of expression and the right to seek public accountability. When a family is denied even a small space to speak about an enforced disappearance, it signals a wider erosion of lawful protections and civic space.
Press clubs have long served as platforms where the voiceless can speak without fear. Closing these doors in such circumstances sends a troubling message that even peaceful and lawful avenues are no longer available. This moment calls for reflection and corrective action to ensure that families like Fozia’s are not silenced, and that spaces meant for public discourse remain open, accessible, and committed to justice.
#ReleaseDaadShahBaloch
@VeengasJ@MaryLawlorhrds@amnestysasia@hrw
"You do not have the reins of your brute army in your hands, and we cannot handle our radicalized youths. But as a rule of thumb, you should not expect bouquets of flowers from us in return of mutilated corpses."
Happy Birthday Baba Khair Baksh Marri ❤️
Nabeel Arman, a graduate of National University of Modern Languages (English Literature), former member of BSC Islamabad, and a professional working in climate action and energy access, was forcibly disappeared today from G-7 at around 6:30 pm.
These acts represent grave