جب بھی بلوچ قومی تحریک منظم ہونا شروع کر جاتا ہے تو ریاست ہما وقت کسی نہ کسی طریقے سے تحریک کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ اسلۓ کہ بلوچ قوم بغیر کسی قومی ضابطہ کے ریاستی ظلم و بربریت کے خلاف ری ایکشن کرکے انفرادی نوعیت سے منظم ہو کر جدوجہد کے میدان میں نکل آتا ہے اور پھر جلدی یا بدیر تحریک منجمد ہونے کا شکل اختیار کرنا شروع کرتا ہے۔
اِس طرح دشمن ریاست کے ساتھ دست و گیریبانی واقعات بلوچ قومی تحریک میں کئی بار ہوچکیں ہیں ۔ گوں کہ اِس بار بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں ایک تسلسل ہے مگر وہ بھی پارٹی اور جزوی شکل میں رواں ہے اور بقائدہ منظم قومی تحریک جیسا قومی ضابطہ کے ساتھ وجود نہیں رکھتا اسلۓ ابھی تک دشمن ریاست مکمل خوفزدہ نہیں اورتحریک بیرونی مہذب جمہوری ریاستوں کا حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔
یہ غور طلب سوالیں ہیں کہ خلوص اور ایمانداری کے ساتھ جدوجہد ، اِتنی قربانیوں کے باوجود بلوچ قومی تحریک متحد ہونے میں بھی ناکام کیوں ہے؟ حالانکہ قومی سیاسی تاریخ ، قومی ریاستی جغرافیہ اور پختہ نظریہ ہونے کے باوجود انتشاری کیفیت کا عالم کیوں ہے؟ کیا قومی تحریک کے متحد و منظم نہ ہونے کے سیاسی یا ذاتی وجوہات ہیں یا کوئی اور؟ شروع سے اِس طرح کے سوالات ہر کسی کے ذہن میں جنم لیتے رہتے ہیں مگر ابھی تک قولاً اور عملاً جواب سامنے نہیں آیا ہے کہ اِس کا حل کیا ہے حالانکہ حل بہت آسان ہے۔
تاریخ ثابت کرتا ہے کہ اتحاد کے بغیر کامیابی ممکن نہیں بلکہ کافی مشکل ہیں ۔ مظلوم قوم کا طاقتور دشمن کے خلاف منظم ہونا لازمی امر ہے۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے اتحاد کامیابی کا ضامن ہے۔ فلاسفر اپنے منطق اور دلیل سے اتحاد کو انقلاب اور آزادی کی کنجی قرار دیتے ہے۔ سیاسیات میں اتحاد ہر قوت پر غالب ہونے کا طاقت رکھتا ہے۔ یہی باتیں منزل تک پہچانے میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔
بلوچ خواتین عملاً قوم میں برابری کا حق ادا کرتے ہوۓ دنیا پر ثابت کر رہے کہ برابری کا دعویٰ صرف الفاظوں میں نہیں بلکہ مردوں کے شانہ بشانہ ہر میدان میں عملاًمعاشرے کا نصف حصہ ہے جس طرح انسانی جبلت میں کئی ایسے ذمہ داریاں ہے جو مرد و خواتین دونوں پر یکسان آئید ہوتئ ہیں اور کئی ایسی بھی ہیں جو مرد اور خواتین کے درمیان تقسیم ہیں ہر ایک اپنی سماجی ذمہ داری کوسمجھتے ہوۓ بنانے کی کوشش کرتاہے۔
بلوچ خواتین کو قومی اور معاشرتی ذمہ داریاں ورثے میں ملی ہیں جنہیں احساس دلاۓ ہوۓ بغیر بخوبی سرانجام دینے کیلۓ ہرمحاز میں تیار رہتے ہیں ۔ بلوچ قوم دنیا کا وہ واحد قوم ہیں جس کی خواتین گھریلو ی ذمہداری کے ساتھ ساتھ قومی ذمہداری بھی اپنی کندھوں پر اُٹھانے کی طاقت رکھتی ہیں ۔ میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں بلوچ ماؤں کا بیٹا اور بہنوں کا بھائی ہوں ۔
یہ سوچھ کر عجیب لگتا ہے کہ جس طرح قومی تحریک کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے تقسیم کیاگیا ہے بلکل اسی طرح یوم شہداء کو تقسیم کرکے قوم کو بھی تقسیم کیا گیا ہے ۔
80 19 کی دہائی میں BSOنے 15 جولائی کو نواب نوروز خان اور ساتھیوں کی شہادت کو یوم شہداء مقرر کرکے 2020 کی دہائی 40 سال تک ہر سال یوم شہداء مناتے رہے جو بلکل حقیقت پر مبنی تھا کیونکہ بلوچستان پر پاکستانی قبضہ اور شہادت کا پہلا واقع تھا۔
چند بااثر شخصیتوں کے مشورہ سے BSO آزاد نے یوم شہداء کو تبدیل کرکے 13 نومبر 1839 بلوچ برطانیہ جنگ میں شہید ہونے والے شہداء اور خان مہراب خان کی شہادت کے دن کو یوم شہادت مقرر کیاگیا جو بلکل بلوچ سیاسی تاریخ کے منافی ہے کیونکہ برطانیہ نے اپنے قبضہ سے بلوچستان کو 11 اگست 1947 کو آزاد کیا تھا اور اِس سے پچھلی جنگیں اور شہادتیں تاریخ کے حصے نہ کہ قابض پاکستان کے قبضہ و جبر کے حصے ہیں ۔ برطانیہ اور پاکستان کے قبضہ کو ملا کر ایک طرف برطانیہ کا دیاہوا آزادی کا دن اور دوسرا طرف برطانیہ کے قبضہ کے خلاف ماتم منایا جارہا ہے اور درمیان میں پاکسان کی طرف سے نواب نوروز خان و ساتھیوں کی شہادت کو فراموش کیا گیا جو پاکستانی جبر اور قبضہ کا پہلا واقعہ و تحریک کا بنیادی حصہ ہیں ۔
BSO آزاد کے پیداوار بی این ایم نے 13 نومبر کو یوم شہدا ء ماننے کے بجاۓ 8 نومبر کو نیدرلینڈ اور 9 نومبر کو جرمنی میں یوم شہداء منایا گیا پھر سوشل میڈیا میں نشر 13 نومبر میں کردیا گیا۔ بی آر پی نے میانیہ روی اختیار کی ہے۔
FBM نے 11 نومبر قبضہ ایران اور 13 نومبر یوم شہداء منایا اِس کا مطلب 13نومبر BSO آزاد کا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ با اثر لوگوں نے اپنی سیاسی مقاصد کیلۓ BSO آزاد کو استعمال کیا گیا تھا اور ذاتی رنجش کی بنیاد پر 15 جولائی یوم شہداء کو تبدیل کردیا گیا۔
اگر ہم مان بھی لیں کہ 13 نومبر یوم شہداء حقیقت پر مبنی بلکہ سازش نہیں ہیں تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا کہ آیا BSO کو برطانیہ بلوچ جنگ و خان مہراب خان کی شہادت کے بارے پہلے معلوم نہیں تھا کہ 40 سال تک وہ 15جولائی کو یوم شہداء مناتے رہے۔ کیا وہ ایک غلطی تھا ؟
تعجب کی بات ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ اور دانشور طبقہ عقل مند سیاسی تاریخ و جدوجہد کو مسخ ہوتے ہوۓ دیکھ رہے ہیں پھر بھی خاموشی سے ایسے لوگوں کے پیچے چلے جارہے ہیں ۔ 15 جولائی کو ختم کرنے سے زہری قبیلہ کے قربانیوں کے خلاف اور 6 فروری 1976پہلا مسنگ پرسن اسد مینگل کے دن کو یاد نہ کرنا اور 26 اگست کونواب اکبر خان کی شہادت کو فراموش کرنے سے آپس کی دوریاں اور بڑ گئی ہیں ۔
آزادی کی مقصد کو انتشاری کیفیت میں ڈالنا ، یوم شہداء کو متنازعہ کرنا اور تحریک کو ذاتی رنجش کی بنیاد پر آپسی دوریاں پیدا کرنا ، ہر کسی کا اپنا قومی چارٹر بنانا اور بلوچ قوم کو مغرب و مشرق میں تقسیم کرنا ، یہ سب ہماری کارستانیاں ہیں جن سے دشمن مکمل فائدہ اُٹھا رہا ہے
جب آپ بلوچستان کا وزیر تعلیم تھے تو آٹھ پاس کو ٹیچر ، میٹرک پاس کو ہیڈ ماسٹر اور ایف اے پاس کو لیکچرار بنا دیا ۔ اب کیا نظام تعلیم کو بہتر بنانے کیلۓ پرائمری پاس کو ایجوکیش میں تقرری کراۓ گے ؟
انسانیت کے خلاف بغاوت اور غیر شرعی طور پر گندی پھیلانے والے کے اِس طرح انصاف نہیں بلکہ اِس بد تر سلوک کرنا چاۓ ۔
اسلام کے نہ ماننے والوں کے خلاف اُس اسلامی ریاست پر جنگ فرض ہے جس ریاست میں مکمل اسلامی قانون نافذ و عمل ہو۔ کسی فرد ، گروہ یا جمہوری قانون رکھنے والے ریاست کو اِس طرح کی بات کرنے کا حق نہیں ہے ۔ ایک فرد کون ہوتا ہے کہ کسی غیر مسلم ریاست کے خلاف زبان درازی کرے۔
فرد ، گروہ یا جمہوری قانون رکھنے والے ریاست کا ایسا کہنا قرآن اور سنت کے خلاف ہے قرآن میں ایک چھوٹا صورت ہے قل یا ایھاالکفرون مذہبوں کے بارے واضح کرتا ہے کہ مسلمان تمہارا دیں تمہارے لۓ اور اُن کا دین اُن کیلۓ۔ لیکن یہ شر انگیز اور فسادی ملا اپنی جاہلانہ حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ خود تو برباد ہیں اسلام کو بھی بدنام کردیا ہے۔
جب ڈونلڈ ٹرمپ 2024کے الیکشن میں کامیاب ہوا تو میں نے فیس بک اور ایکس میں لکھ کر کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آدھورہ میشن پورا کرنے کیلۓ دوبارہ آیا ہے۔ یعنی نیو ورڈ آرڈر جس کے تحت گریٹر اسرائیل، گریٹر بلوچستان، کردستان، شیعہ اور سنی ریاستیں کے قیام ہونگے۔
اسلۓ ایک دم اسرائیل اور حماس جنگ شروع ہوا ۔ جب جنگ اپنی عروج میں تھا کہ سامراجی قوتوں کی معاشی اور سیاسی مفادات اِس جنگ کے اسٹراٹیجک میں براۓ راست شامل ہو تے ہوۓ نظر آرہے تھے کیونکہ ایک طرف اسرائیل ، امریکہ اور انڈیا تو دوسری طرف ایران ،چین اور روس ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہوگۓ ۔
شام پرحملہ ہونے سے میں نے اظہار خیال کیا تھا اب یہ جنگ یہاں روکے گا نہیں بلکہ جنوبی اشیاء میں پہنچ کر جغرافیہ کی تبدیلی اور نئے ریاستوں کا قیام کرے گا ۔ اب چونکہ جنگ جنوبی اشیاء میں پہنچ کر آگے کیلۓ منصوبہ بندی میں انڈیا اور پاکستان کا مختصر جنگ اور پھر فوراً جنگ بندی آدھورہ میشن کا ایک وارنگ اور اِس کے بعد نیو ورڈ آرڈر کیلۓ منصوبہ بندی کا راستہ ہموار کرنے کیلۓ سب سے پہلے پاکستان کا گیرا تنگ کرنا ضروری تھا ۔
امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل آصف منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو دو مہینہ قبل بلا کر اپنے خفیہ وفد سے ملاقات کروا کر اپنا آخری پیغام دیلاؤا۔ وہ پیغام یہ تھے 1۔ کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارا ساتھ دو، 2۔ جب سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرےگا تو آپ بھی تسلیم کریں، 3۔کشمیر کا مسلہ حل کرو، 4۔ ایران پرحملہ ہوا تو ایران کا ساتھ مت دو ۔ اِن سب شرائط کو تسیلم کۓ گۓ ۔ پہلا شرطہ کے بدلے پاکستان نے امریکہ کو پسنی دے دیا۔ امریکہ نے پسنی تولیا مگر پھر بھی پہلا شرط پر عمل درآمد کرنے کیلۓ پاکستان اور افغانستان کا جنگ شروع کروایا تاکہ افغانستان کو کمزور کرکے بلگرام واپس لیا جاۓ ۔
اب ایسا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو افغانستان کے ساتھ انگیج کردیا تو دوسری انڈیا کو پاکستان کے خلاف طاقتور بنا رہا ہے تاکہ پاکستان کا گیرا مزید تنگ کیا جاۓ ۔ پاکستان نے حالات کو سمجھ کر بنگلہ دیش سے ہاتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ انڈیا کو بنگلہ دیش کے ذریعے انگیج کیا جاۓ لیکن ابھی تک اِس کا ختمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ چین پاکستان کے اِس دوگھلا پالیسی کی وجہ سے سخت ناراض ہے اور روس نے براۓ راست کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو یہ روس پر حملہ تصور کیا جاۓ گا کیونکہ جنوبی اشیاء اور سنٹرل اشیاء ہمارا گھر ہے۔
میں نے اِسطرح کے کئی بیانات یک بعد دیگر لکھے ہیں ہر بیان میں میں نے لاظہار کیا ہے کہ بلوچستان کی آزادی اِسی جنگ میں ہے اور بلوچ قوم کا متحد ہونا نہایت ضروری ہے اور میں یقین کے ساتھ کہتا کہ بلوچستان کی آزادی اِسی جنگ میں ہے شاہد کہ خود غرض لیڈران کو یہ گوارہ نہ ہو کہ بلوچ متحد ہوجاۓکیونکہ بلوچ کا متحد ہونے سے کافی لوگوں کی نام و شہرت کو گزند پہنچے گا ۔ اگر بلوچ قوم ایک قومی فلیٹ فارم پر متحد ہو کر قومی قائد کا مسلہ حل ہو کریں تو بلوچستان کی آزادی کیلۓ ہوم ورک و سامراجی قوتوں کے حما یت کاروں سے لابی اِنگ کیا جا سکتا ہے اور اِس طرح سفارت کاری کا مواقع بھی کافی موجود ہونگے وگرنہ تحریک میں شامل قوم پرستوں کے علاوہ بلوچستان پرنام نہاد پارلیمانی قوم پرست اور دہشتگردوں کی حکومت قائم ہوگی اور آزادی پسند قوم پرستوں کی تمام قربانیاں رائگاں جائیں گے۔
بلوچستان پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔ بلوچ آزادی چاہیں نہ چاہیں بلوچستان آزاد ضرور ہو گا کیونکہ اب بلوچستان مغربی سامراجوں کی سیاسی و معاشی ضرورت بن چکی ہے ۔
آرمی چیف آصف منیر، وزیر آعظم شہباز شریف، مریم نواز اور دیگر کا پچھلے مہینہ عمرہ کا جانا امریکی وفد سے ملاقات کیلۓ ایک بہانہ تھا بلکہ اُنہیں وفد نے پانچ پیغامات پہچان دیئے ہیں ۔ ایک چائنا کے ساتھ مزید تعلوقات نہیں رکھنا ہے ، سی پیک کی ایسی کی تیسی۔ دوسرا جب سعودی عرب اسرائیل کو تسیلم کرے گا تو پاکستان کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ تیسرا کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہوگا اور انڈیا کے ساتھ محاذ آرائی ختم کریں ۔ چوتا دہشت گردی کے بارے جو کچھ امریکہ کہے گا وہ ماننا پڑے گا ۔ پانچواں ایران کے خلاف جو ہونے جا رہا ہے ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔ پاکستان کے پاس ماننے کے سواۓ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔
ایران کا رجیم تبدیل ہونے کے بعد پاکستان ایک مہرہ بن کر رہے گا نیو آرڈر کی تشکیل کیلۓ پاکستان کا مداخلت کرنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا ۔ نیو آرڈر کے مطابق جغرافیہ کی تبدیلی اور جنوبی اشیاء میں بلوچستان کی آزادی ایک نئے ریاست کے طور پر بھی شامل ہیں ۔ اِس تناظر میں بلوچ قوم کا متحد ہونا نہایت ضروری ہیں وگرنہ بلوچ ریاست بلوچ قوم اور قوم پرستوں کے بجاۓ شفیق منگل اور ڈاکٹر مالک جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں ایک کٹ پتلی حکومت ہوگا اور بلوچ ساحل وسائل کا مالک مغربی سامراج ہونگے اور بلوچستان آزادی کے بعد بھی غلام ریاست رہے گا ۔ اب تک بلوچ آزادی اور خود مختاری کیلۓ جتنے قربانیاں دی جا رہی ہیں سب رائیگاں جاینگے ۔