یہ طالبان کے زیرِ حکومت افغانستان ہے۔
ایک کم عمر لڑکی روتی ہے اور اپنے والد سے التجا کرتی ہے کہ اسے نہ بیچا جائے، لیکن اس کا والد قرض ادا کرنے کے لیے اسے بیچ دیتا ہے۔
یہ جدید دور کی غلامی ہے۔ ایک بہت ہی دردناک اور خوفناک حقیقت۔
خواتین کے حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟
انسانی حقوق کے کارکن کہاں ہیں؟
پشاور کی بچی حقیقت میں اغوا ہوئی یا خاندان والوں نے فروخت کی تھی؟؟ مختصر تفصیل یہاں اور مکمل تفصیل کل ویڈیو میں۔۔۔
عبداللہ جان صابر۔۔
چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک بچی کی اغوا کی خبر بہت زیادہ وائرل ہے۔ہر کوئی اپنی سوچ کے مطابق سوشل میڈیا پر دل کا بھڑاس نکال رہا ہے لیکن حقیقت کا کسی کو نہیں پتہ کہ اصل معاملہ کیا ہے۔۔۔میری خواہش ہے کہ بچی کو نہ صرف بازیاب کرایا جائے بلکہ خاندان سمیت تمام مجروموں کو قرار واقعی سزا بھی دی جائے لیکن بحیثیت صحافی دنیا کو حقیقت بتانا بھی میری ذمہ داری ہے۔
یہ بچی اپنی ماں نے صدام نامی بندے کے ذریعے آٹھ لاکھ روپے کے عوض ایک مولوی کو فروخت کی،مولوی نے کچے کے ایک رہائشی سے پندرہ لاکھ روپے لیکر بچی کا نکاح اس سے کروایا۔اس ڈیل میں بھی صدام موجود تھا اور بچی کی ماں کو بھی اس ڈیل کا علم تھا ۔صدام نے بچی کی ماں کو یہ باور کرایا تھا کہ پہلی رات کو میں وہاں سے بچی نکال کر پشاور پہنچادوں گا لیکن جس سے نکاح ہوا وہ بندہ چالاک نکلا اور بچی پھنس گئی۔پھر صدام اور بچی کی ماں کی لڑائی بھی ہوئی ۔پہلی ڈیل چھبیس نمبر (راولپنڈی) میں ایک کرائے کے گھر میں ہوئی جس میں بچی کی ماں بھی موجود تھی۔صدام باجوڑ کا رہنے والا ہے اور اس وقت پنڈی میں رہائش پذیر ہے ۔۔ان تمام حقائق کے ثبوت میرے پاس موجود ہیں۔۔۔مزید تفصیل کل ایک ویڈیو میں انشاءاللہ
سوال:عوام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے پیچھے ریاست ہے؟؟
جواب:امریکہ نے جاتے ہوئے افغان طالبان کیلئے 7 ارب ڈالر کا جدید اسلحہ چھوڑا تھا۔۔آج افغان طالبان اور ٹی ٹی پی وہی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔۔۔
افغان طالبان=پشتون
ٹی ٹی پی =پشتون
مرنے والے=پشتون
مرنے والوں پر احتجاج کرنے والے=پشتون
13 سالوں سے اس صوبے پر حکومت کرنے والے=پشتون
لیکن نعرہ یہ لگایا جاتا ہے کہ پشتون کا دشمن پنجابی ہے۔۔۔جب تک ہم حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے تب تک ہم مرتے رہیں گے۔۔جب تک ہم بندوق سے محبت اور تعلیم سے نفرت کریں گے تب تک ہم مرتے رہیں گے۔۔
پشتون قوم میں عقل کب آئے گی؟؟
کوئی کہتا ہے کہ پنجابی پشتونوں کا دشمن۔۔۔کوئی کہتا ہے سندھی پشتونوں کا دشمن۔۔۔کوئی کہتا ہے انقلاب کیلئے نکلو۔۔۔کوئی کہتا ہے دھرنے اور جلسے کیلئے نکلو۔۔۔لیکن کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ تعلیم حاصل کرو اور اپنا مستقبل بناؤ۔۔۔جس نے خیبر پختونخوا کو ترقی دی ہے آج ہم انکو گالی دے رہے ہیں لیکن جو صرف نعروں اور دعوؤں پر ہمیں ورغلاتے ہیں انکو ہم اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔۔۔مذہب،لسانیت اور پیسے کے آگے ہم پشتون ڈھیر ہوجاتے ہیں۔
میزبان:عبداللہ جان صابر
ملا فضل اللہ کو چندہ کون دیتے تھے؟ جنت کی لالچ میں جہاد کے لیے افغانستان کون گئے تھے؟
تحریک انصاف نے پشتونوں کو کسطرح اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا؟
پشتون قوم کے لیے سبق آموز تجزیہ:صحافی عبداللہ جان صابر
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ کے تحصیل ماموند کے علاقے ڈمہ ڈولہ میں نامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ندیم خان ولد غلام خان شدید زخمی ہوا۔زخمی کو ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
جبکہ ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کرلی
جب سے افغان طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے تب سے وہاں نہ صرف نوجوان نسل کیلئے روزگار کے مواقع ختم ہوچکے ہیں بلکہ منشیات کے پیداوار اور استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ کو بھی افغانستان سے وافر مقدار میں منشیات کی سمگلنگ جاری ہے،تفصیل اس رپورٹ میں
ضلع خیبر کی تحصیل لنڈیکوتل میں واقع حضرت حمزہ بابا کے مزار کے قریب قائم غیر قانونی افغان مہاجرین کے ہولڈنگ کیمپ سے افغانستان واپس بھیجے جانے والے شہریوں کا پہلا قافلہ طورخم بارڈر پہنچ گیا ہے، جہاں سے وہ اپنے ملک افغانستان روانہ ہو جائیں گے۔
#Pakistan
پاکستانی عوام اور پاکستانی حکومت نے ہمیں عزت اور محبت دی۔ ہم ان کے بے حد مشکور ہیں۔ اب حکومت کی پالیسی کے تحت واپس جا رہے ہیں، مگر افغانستان میں مشکلات بہت زیادہ ہیں۔افغان عوام
#Afghanistan#PakistanAfghanistan#sincerão#qsmp2#٢٦رمضان
کیلئے افغانستان بھیجے گئے ہیں حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے افغانستان کو چاہئیے کہ پراپیگنڈوں کے بجائے پاکستان کے مطالبات تسلیم کریں تاکہ اس جنگ کا خاتمہ ہوجائے
پاک-افغان کشیدگی اور مذاکرات کے حوالے سے افغانستان کا پراپیگنڈہ؟؟؟ صحافی عبداللہ جان صابر کا تجزیہ پاک افغان کشیدگی تاحال جاری ہے،ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں مذاکرات بھی ہو اور امن بھی قائم ہوجائے لیکن سیکیورٹی ذرائع اور حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے مطالبات منوانے تک
جنگ جاری رکھے گا پاکستان کے مطالبات میں ٹی ٹی پی کے خلاف فتوہ جاری کرنا،دہشتگرد تنظیموں کا خاتمہ اور اور ٹی ٹی پی کی لیڈرشپ کو پاکستان کے حوالے کرنا ہے افغانستان نے پراپیگنڈہ کیا ہے کہ پاکستان نے مولانا فضل الرحمان خلیل،مولانا عبداللہ شاہ مظہر اور مولانا ساجد کو مذاکرات