یہ خاندان انتہائی غریب ہے اور اب علاج کے اخراجات برداشت کرنا ان کی استطاعت سے باہر ہو چکا ہے۔ لہٰذا مخیر حضرات، اہلِ خیر اور انسانیت کا درد رکھنے والے افراد سے اپیل کی جاتی ہے کہ ان کی مالی مدد کریں تاکہ وہ اپنی والدہ کا علاج جاری رکھ سکیں۔
03702453688
مجروح شدن دستکم هفت زن بلوچ و بازداشت شش شهروند، از جمله سه زن، در پی یورش و برخورد خشونتآمیز نیروهای جمهوری اسلامی با معترضان معدن کرومیت پشموکی در فاریاب (گلاشکرد)، جنوب استان کرمان (رودبار زمین).
حکومت با ملی کردن اراضی شخصی و سند دار بلوچ های بومی فاریاب ، معادن فاریاب را غصب و اراضی کشاورزی کناره معادن را آلوده کرده است.
#فاریاب
#کهنوج
#بلوچستان
🚨 Third Update: Several Taliban fighters assaulting a male protester today. Women nearby can be heard crying and pleading as the incident unfolds. Reports indicate that tensions remain high following protests over the detention of women and girls.
نوای مکران-میناب:
با کمک مردم و خیرین بومی بلوچ اهل میناب ، بزرگترین مسجد اهل سنت هرمزگان به زودی در منطقه بندر کلاهی میناب فعالیت خود را آغاز خواهد کرد.
ساخت مسجد علی ابن ابی طالب (رض) در شهرستان میناب پیوند مراکز مذهبی بلوچستان را با هرمزگان را بیش از پیش تقویت خواهد کرد.
مکران غربی (شرق هرمزگان) نماد همزیستی
بلوچ های جعفری، حنفی و شافعی است.
#میناب
#بلوچستان
#ایران
Prior to the attacks in 2014, religious extremist militants allegedly affiliated with Shafiq Mengal had distributed pamphlets in Quetta warning women against leaving their homes unaccompanied or uncovered.
On July 21, 2014, drive-by motorcyclists used syringes to spray highly concentrated acid directly into the faces of four women shopping for Eid in Quetta's busy Sariab district, followed by similar attacks in Mastung and Kalat that left at least six women severely disfigured.
خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کو مارنے کے بجائے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟
یہ بتایا جائے کہ صبح یہ بندہ آیا، اسے تیزاب کس نے پکڑایا؟ ڈاکٹرز
#Balochistan
In broad daylight, a criminal entered a female doctor’s office in a government hospital, sprayed acid on her, and managed to escape from there. Isn’t there any security in the hospital to protect staff, especially women, who work in difficult conditions for 10 to 12 hours a day?
صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر حملہ نہیں، بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا ایک المناک ثبوت ہے، اس پر خاموشی جرم کے برابر ہے۔ اس واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی طاقتور ہاتھ کی پشت پناہی چھپ نہ سکے اور اصل حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
Makran Sea and its protector statue, Admiral Mir Hammal Jehand Kalmati Baloch.
A remembrance of sacrifices made
during Baloch-Portuguese conflicts
in the Mid and late 1500s.
#Balochistan
کوئٹہ جہاں ہر ایک کلومیٹر کے فاصلے پر چیک پوسٹ موجود ہے وہاں کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ایک مجرم دن دہاڑے پستول اور تیزاب لے کر داخل ہوتا ہے، ایک خاتون ڈاکٹر پر باآسانی تیزاب پھینکتا ہے اور پھر فرار ہو جاتا ہے۔ کیا ہسپتال میں کوئی سیکیورٹی انتظامات یا عملہ موجود نہیں تھا؟ 1/2
ایک لیڈی ڈاکٹر، جو روزانہ 12 سے 14 گھنٹے انسانوں کی جانیں بچانے کے لیے خدمات انجام دیتی ہے، بلوچستان کے سب سے بڑے اسپتال، سول ہسپتال کوئٹہ میں اپنی ہی جان سے تقریباً ہاتھ دھو بیٹھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں ان کے دفتر کے اندر تیزاب سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا تقریباً 70 فیصد جسم جھلس گیا۔
مگر اس المناک واقعے کے بعد حقائق سامنے لانے اور عوام کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے کہانی ایک اندھیرے میں چلی گئی کہ مبینہ ملزم کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے ایک پستول اور چار زندہ کارتوس برآمد ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کی موت نے پورے معاملے کو مزید پراسرار اور مشکوک بنا دیا ہے۔
یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جو مسلسل اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی شہریوں کے تحفظ، میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بڑے سرکاری اسپتال کے اندر سکیورٹی کہاں تھی؟ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں ہر چند قدم پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، ایک شخص تیزاب اور اسلحہ لے کر اسپتال کے اندر کیسے داخل ہوا؟ اور اتنا ہولناک حملہ انجام دینے میں کامیاب کیسے ہو گیا؟
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ انصاف کے عمل کو گولیوں کی آواز میں کیوں دفن کر دیا گیا؟ اگر واقعی مبینہ ملزم کے پاس سکیورٹی اداروں سے منسوب ہتھیار تھا، جیسا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے دعویٰ کر رہے ہیں، تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ تک پہنچا کیسے؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟
مزید افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس پورے سانحے کے دوران حکومت اپنی ائیر ایمبولینس سروس کی تشہیر اور میڈیا بیانیے کو بہتر بنانے میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں، ہیلی کاپٹر ایمبولینسز اور تشہیری مہمات کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر اسپتالوں میں برن سینٹرز جیسی بنیادی اور ناگزیر سہولتیں آج بھی موجود نہیں۔ تیزاب حملوں کے متاثرین کے لیے فوری اور خصوصی علاج زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے، مگر بلوچستان میں ایسے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی منتقل کرنا پڑتا ہے کیونکہ مقامی سطح پر ضروری طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔
یہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر حملہ نہیں، بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا ایک المناک ثبوت ہے، اس پر خاموشی جرم کے برابر ہے۔ اس واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی طاقتور ہاتھ کی پشت پناہی چھپ نہ سکے اور اصل حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
حبیبہ پیر جان، ایک بلوچ شاعرہ، کو پہلی مرتبہ 2022 میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ایک ہفتے بعد رہا کیا گیا، اور گزشتہ ماہ 25 مئی کو انہیں دوبارہ کراچی سے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
بلوچستان میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ عرصۂ دراز سے جاری ہے۔ متعدد بلوچ خواتین کو جبری گمشدگی کے بعد میڈیا کے سامنے لا کر زبردستی بیانات دلوا کر سامنے لایا گیا، جبکہ ماہ جبین سمیت کئی خواتین آج بھی جبری گمشدگی کے بعد لاپتہ ہیں اور ان کے اہلِ خانہ ان کی بازیابی کے لئے منتظر ہیں۔
حبیبہ پیر جان کی جبری گمشدگی کو ابتدا میں ریاستی سرپرستی میں چلنے والے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پروپیگنڈا مشینری نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ بعد ازاں انہی اکاؤنٹس نے اپنی تمام پوسٹس ڈیلیٹ کر دیں اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حبیبہ مفرور ہو چکی ہیں۔ اس کے بعد ان کے سر کی قیمت مقرر کر کے انہیں مطلوب قرار دیا جانے لگا۔
اور اب ان کے اہلِ خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ریاستی اہلکار ان کے گھر پہنچے، خاندان کے افراد کے موبائل فون ضبط کیے، مختلف الزامات عائد کیے اور منظم انداز میں ان کی کردار کشی کی مہم شروع کر دی گئی۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ ایک بلوچ خاتون اور اس کے خاندان کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہیں۔
بلوچ قوم ایک ایسے جبر کا سامنا کر رہی ہے جہاں قانون، اخلاقیات اور انسانی وقار کی کوئی اہمیت دکھائی نہیں دیتی، اور خواتین کے احترام اور تحفظ کو یقینی بنانے کے بجائے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کی تضحیک کی جا رہی ہے اور ان کی کردار کشی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہم تمام قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ اداروں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس گھناؤنے عمل کا فوری نوٹس لیں، حبیبہ پیر جان کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں اور بلوچ خواتین کے خلاف جاری جبری گمشدگیوں اور انتقامی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
دِھبارِز | Rudan | رودان
- شهر زیبای دهبارز ( رودان فعلی) واقع در شمال شرق هرمزگان در اوایل قرن پانزدهم توسط سه برادر بلوچ؛ بارز خان، بادرگ خان و کمیز خان در کناره جبال تاریخی قفص (کوچ) تاسیس و مسکن دوم بلوچ های بارِزی پس از جیرفت شد.
#Balochistan
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او پجار) کے مرکزی وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے سنگین مسئلہ ہیں، جن کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے۔
#EndEnforcedDisappearances