مجھے اور میرے خاندان کو مسلسل ہراسمنٹ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔
پانچ دن پہلے جب میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اپنے آبائی علاقے مشکے گئی، تو میرے پہنچتے ہی پاکستانی فوج نے ہمارے گاؤں کا محاصرہ کر لیا۔ گزشتہ پانچ دنوں سے پورا گاؤں فوجی ��ھیرے میں ہے۔ چوبیس گھنٹے میری نگرانی کی گئی، دوربینوں، ڈرون کیمروں اور دیگر نگرانی کے آلات کے ذریعے۔ رات بھر ہمارے کمروں کے باہر سوتے ہوئے بستر پر ٹارچوں کی روشنی ڈالی گئی۔ میری نقل و حرکت کو محدود کیا گیا اور میرا نام لے کر میرے تمام رشتہ داروں کو مختلف طریقوں سے ڈرایا، دھمکایا اور ہراساں کیا گیا۔
جبکہ میرے گاؤں کے تمام گھروں کی تلاشی لی گئی۔ مردوں کی تصاویر لی گئیں اور خواتین کے شناختی کارڈ ضبط کیے گئے۔ راہ چلتے لوگوں کو شدید گرمی میں گھنٹوں کھڑا رکھا گیا۔ میرے دو کزن طالب علم ہیں انہیں جبراً حراست میں لے کر آرمی کیمپ منتقل کیا گیا۔ ان میں سے ایک کو 24 گھنٹے جسم��نی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کر دیا گیا، جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔
میرے رشتہ داروں کو زبردستی آرمی کیمپ لے جا کر ویڈیوز ر��کارڈ کروائی گئیں، جن میں ان سے مجھے، یعنی ‘سمی دین’ کو ایک دہشت گرد قرار دینے کا جھوٹا اور جبری اعترافی بیان دلوایا گیا۔
جس انداز سے مجھے اور میرے خاندان کو نشانہ بنایا گیا پروفائلنگ، ہراسانی، دھمکیاں اور جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے کردار کشی،ان اداروں کی خوف اور کمزوری کو واضح کرتا ہے، جو اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔
ہم جس اجتماعی اذیت کا ذکر کرتے ہیں چاہے وہ جبری گمشدگی ہو، یا محض سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن ہونے کے جرم میں رشتہ داروں کو اغوا، ہراساں یا دھمکایا جانا، یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ میرے قریبی رشتہ داروں کو صرف مجھ سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہو۔ ماضی میں بھی میرے خاندان کے افراد کو کئی کئی مہینوں، بلکہ سالوں تک جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا۔ انہیں انسانیت سوز سلوک و تشدد کا سامنا کرنا پڑا، صرف اس لیے کہ وہ میرے قریبی عزیز تھے۔
اس بار بھی میرے رشتہ داروں کی پروفائلنگ، زبردستی کی تفتیش، ہراسانی جبری گمشدگی کا مقصد صرف مجھے جسمانی طور پر نہیں بلکہ سماجی طور پر بھی Isolate کرنا ہے اور اور میرے خاندان کو میری جدوجہد کی اجتماعی سزا دے کر مجھے دباؤ کا شکار بنایا جائے تاکہ میں اپنے اصولی مؤقف، اپنی آواز اور اپنی جدوجہد سے دستبردار ہو جاؤں۔
میں سمجھتی ہوں کہ پاکستانی ادارے اور فوج جس طرح مجھے اور میرے ساتھیوں کو خاموش کرانے کے لیے جھوٹے مقدمات، تشدد، قتل کی دھمکیاں، اجتماعی سزا اور ہراسانی جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہی ہے، وہ دراصل ہماری پرامن جدوجہد کے سامنے ریاستی اداروں کی بوکھلاہٹ ا��ر کمزوری کی واضح علامت ہے۔ یہ تمام حربے ناکام ہو چکے ہیں، اور ہم ان جابرانہ طریقوں سے کسی صورت خاموش نہیں ہوں گے، نہ ہی بلوچستان میں جاری ریاستی بربریت اور جبر کے خلاف آواز اٹھانا بند کریں گے۔
ہماری جدوجہد جبر اور ناانصافی کے آخری نشان کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
If he is a M.phl scholar But a Baloch Disappear him.
If he is a translator But a Baloch Abduct him.
If he is a Bookseller But a Baloch Disappear him.
If he is a publisher,But a Baloch enforcely disappears him.
#ReleaseGhaniBaloch
ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، بیبو گلزادی، بیبگر شاہ جی بلوچ، غفار بلوچ اور زہیر بلوچ کو 45 دن سے زائد ہو چکے ہیں کہ وہ جھوٹے اور غیر قانونی مقدمات کے تحت جیلوں میں قید ہیں۔ یہ وہ سیاسی جہدکار ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، حق کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے، اور ریاستی جبر کو للکارا۔ ماما غفار جیسے باپ کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ بیبو بلوچ جیسے مظلوم سیاسی قیدی کے والد ہیں۔ کیا اب صرف رشتہ دار ہونا بھی جرم بن چکا ہے؟
آج پاکستان میں سیاسی کارکن بننا، بلوچ ہونا، یا صرف انصاف کا مطالبہ کرنا جرم تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ گرفتاریاں کسی ایک فرد یا چند آوازوں کی بندش نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کو اجتماعی سزا دینے کی ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ لیکن یاد رہے، یہ سیاسی قیدی نہیں بلکہ عزم، شعور اور مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔
ان اسیران کے چہروں پر خوف کے بجائے ہمت ہے۔ وہ صرف سیاسی کارکن نہیں، ایک زندہ تحریک، ایک سوال، اور ایک حقیقت ہیں جسے نہ جیل کی سلاخیں روک سکتی ہیں، نہ جبر کی دیواریں۔ ان کی قید کا مقصد صرف ایک تحریک کو روکنا نہیں بلکہ انصاف، وقار اور بلوچ قوم کی بقا کو کچلنا ہے۔
ایسے میں بلوچ قوم پر فرض ہے کہ وہ خاموش نہ رہے۔ ان اسیران کے ��اتھ، ان کے پیچھے، اور اس مقصد کو لیکر ہم قدم ہو۔ کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل ہماری اپنی آواز بھی سننے والا کوئی نہ ہوگا۔
#ReleaseBYCLeaders
اسان 4 اپريل تي شهيد ذوالفقار علي ڀٽي صاحب جي ورسي پنهنجي هندو ڀينرن ۽ ڀائرن سان جناح باغ لاڙڪاڻي ۾ ملهائينداسين، ۽ گڏوگڏ سنڌو درياء تي ٺهندڙ 6 ڪئنالن خلاف آواز پڻ اٿارينداسين.
I am profoundly grateful to all the activists, lawyers, journalists, politicians, and members of civil society who have supported me and raised their voices against my arrest. To name a few @asmashirazi@HamidMirPAK@mustafa_nawazk@mohammedhanif@BhuttoZulfikar@abbasnasir59@MunizaeJahangir and @NidaKirmani , and extend special thanks to my lawyer, @MJibranNasir, for his unwavering commitment and sorry if i miss anyone names. I also deeply appreciate the Karachi Bar Council for standing by my family and me throughout this challenging time.
I am thankful for the support received both online and offline.
I am deeply grateful to @sakhtarmengal@MediacellBNP for his unwavering support and relentless efforts. He has stood by us with courage and remains fully committed to the struggle for the release of all arrested BYC leaders and workers.
Thanks to everyone’s solidarity, my release has become possible. However, our struggle must continue until all BYC leaders and workers are freed.
Our movement has always been peaceful and will remain so. May this peaceful struggle flourish as we continue to fight for our rights, justice, and the release of all those who have been forcibly disappeared.
The March led by @sakhtarmengal has a single demand. Release the BYC leaders and activists especially the women. @MahrangBaloch_@SammiBaluch and others are in Jail under Administrative Orders called MPO issued by Provincial Govts of Balochistan and Sindh where PPP claims to be in power. If @BBhuttoZardari wants to show some political courage he can direct the Govts to withdraw the MPOs and release BYC members. If the High Courts of Balochistan and Sindh wanted to show some judicial courage they could have ordered the release of Mahrang and Sammi the day the petitions were filed challenging their illegal detention. It is the surrender of the civilian forces both political and judicial that has led to the Constitutional guarantees of human rights becoming worthless.
ہم اس وقت لکپاس پر موجود ہیں جہاں تمام داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ سے لانگ مارچ میں شریک افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور شدید شیلنگ کی جا رہی ہے۔ میری سینئر قیادت پر بھی براہ راست شیلنگ اور فائرنگ ہو رہی ہے۔
ہم کوئٹہ کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ لکپاس کے دوسری جانب پہنچیں، اور مستونگ کے عوام سے گزارش ہے کہ وہ ا��نی طرف سے لکپاس پر جمع ہوں۔ یہ بات واضح ہے: ہم اپنے مقصد کی طرف بڑھیں گے، چاہے ہمیں لکپاس کے نیچے ایک نئی سرنگ ہی کیوں نہ کھودنی پڑے۔
ہم مضبوط ہیں، ہم اپنے مقصد سے پُرعزم ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ہم پُرامن ہیں۔ کوئی طاقت، کوئی جبر، ہمارے حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتا، نہ ہمیں ہمارے راستے سے ہٹا سکتا ہے۔
آج صبح 5:30 بجے پولیس اور دیگر ریاستی اداروں نے دھرنے پر حملہ کر دیا، مظاہرین سے شہداء کی لاشیں چھین لیں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما، ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ شہید نوجوانوں کی لاشیں بھی زبردستی اپنی تحویل میں لے لی گئیں۔ اس کے علاوہ، خواتین اور بچوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا۔
ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے اور بلوچستان میں پہلے سے بھڑکتی آگ کو مزید ایندھن فراہم کر رہی ہے۔ ایسے وحشیانہ اقدامات سے لوگ خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ مزید مزاحمت اور انتشار جنم لے گا۔
Dr. Mahrang Baloch and Others Arrested: Dead Bodies Seized, Women and Children Attacked in Brutal Pre-Dawn Crackdown by State Security Forces
The Baloch Yakjehti Committee (BYC) had announced a sit-in yesterday in Quetta, demanding the release of its central committee member Bebarg, his brother Hammal, Dr. Ilyas, and others who have been forcibly disappeared, as well as the release of Baloch woman Saeeda and several others.
From the very beginning, the state responded with violent repression. Police arrested protesters, security forces escalated their assault with baton charges, tear gas shelling, and mass arrests. Networks were shut down, and a search operation in Saryab was launched to hunt down more protesters, whereas firing took three leaves and several others injured.
Then, today, at 5:30 AM, security forces carried out a brutal pre-dawn raid on the sit-in. Baloch women, children, and peaceful protesters were subjected to extreme violence. The authorities forcefully seized the dead bodies that protesters had planned to offer funeral prayers for today. BYC Organizer Dr. Mahrang Baloch, along with many others, was dragged and arrested.
@MaryLawlorhrds@amnestysasia@UN@HRCP87
On February 28, four young Baloch men—Saif, Mehraj, Momin, and Kamra were forcibly disappeared. Their families waited in anguish. Today, in the sacred month of Ramadan, they received only their mutilated bodies.
These were sons and brothers, has dreams of life in their own mother land. The Baloch nation mourns yet another unbearable loss. How many more sons must we bury before the world listens?
#StopBalochGenocide