Bought the car. Paid the taxes. Paid the transfer fee. Paid for insurance. Paid for new plates.
But ownership? Still stuck in the system.
In #Pakistan, buying a car is easy. Legally owning it is the real luxury. 🚗💸 #Karachi@SindhCMHouse
https://t.co/lg2pBQib24
رنگ برنگی سنڈی آصفہ جو گلگت بلتستان میں جمہوریت پر لیکچر دے رہی
وہ خود کیسے ممبر اسمبلی بنی سنیں ذرا
آصفہ کے مقابلے میں 10 امیدوار تھے سبکے کاغذات نامزدگی مسترد کروا دیے گئے
کیونکہ زرداری چاہتا تھا ان کو بلا مقابلہ منتخب کروایا جائے
⭕️ CNN Footage Reveals USS Gerald Ford Fire Was Far More Severe Than Pentagon Acknowledged
New footage obtained by CNN shows the fire aboard the USS Gerald R. Ford aircraft carrier two months ago was significantly more extensive than the Pentagon’s official account suggested, effectively disrupting the operational capability of the $13 billion warship at the height of the conflict with Iran.
The U.S. Navy claimed at the time that the fire was quickly contained and the carrier remained “fully operational.”
▪️ Internal fire suppression and defense systems were disabled during the incident
▪️ CNN footage shows devastation in sailors’ quarters — hanging wires from collapsed ceilings, burnt metal skeletons, and deformed beds amid piles of ash
The Pentagon has not issued a revised statement addressing the discrepancy between its original account and the new footage.
⛔️When the leader of a foreign country can write a letter to a U.S. Congressman telling him to put in our laws to more closely fuse our militaries AND THEY PASS IT, our country is in the hands of puppets and traitors ‼️
Trump called CNN a "corrupt organization" yesterday.
Today CNN releases a video that shows damage on USS Ford was more severe than the Navy suggested:
https://t.co/3PznwkX96y
#بم#شیل#نیوز
مندرہ چکوال روڈ پر محکمہ جنگلات کے بڑے رقبے پر برٹش نیشنل شہری کا مبینہ قبضہ
محمکہ جنگلات کے 1552 کنال سے زائد رقبہ پر مبینہ طور پر قابض شہری کی شناخت چوھدری عبدالغفور کے نام سے ہوئی ہے
زرائع مطابق بااثر و دولت مند پاکستانی چوھدری عبدالغفور (جو عرصہ دراز سے UK میں مقیم ہے) نے محکمہ مال کے چند کرپٹ افسران بشمول پٹواریوں ساتھ ساز باز کر کے موضع نوڈھیل موضع ہریال موضع بجنیال اور موضع رکھ تڑاگھر میں 1552 کنال پر قبضہ کر رکھا ہے
زرائع مطابق یہ رقبہ مرکزی حکومت کا ھے یہاں پہلے بہت بڑا جنگل ھوا کرتا تھا جو بعد ازاں اس طاقتور قبضہ مافیا نے ختم کردیا اور محمکہ مال کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کر کے اس پر قبضہ جما لیا
زرائع مطابق برٹش نیشنل شہری کے ناجائز قبضہ والا یہ رقبہ مندرہ چکوال روڈ گکھڑا گاؤں میں ہے ناکہ تحصیل گجر خان میں
حیران کن طور پر یو کے میں مقیم چوھدری عبدالغفور کا دعویٰ ہے کہ محکمہ مال کے پٹواری، منشی، گرداور و تحصیلدار اس کی جیب میں ہیں اور کوئی بھی اسکو اس رقبہ سے محروم نہیں کر سکتا
سندھ کے ایک 19 گریڈ کے طاقتور افسر کی کرپشن کی کہانی
جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو ورلڈ بینک، کراچی کی عوام اور ایف ڈبلیو او (FWO) کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سندھ حکومت نے ضمیر عباسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہی تو اینٹی کرپشن سندھ کے ماتحت عملے نے ضمیر عباسی کو خبر کردی، جس کے بعد وہ کراچی سے فرار ہوگیا۔
طاقتور افسرکو فرار کروانے کے پاداش میں ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نیز اس نااہلی کے سبب اینٹی کرپشن کا قلمدان سنبھالنے والے منسٹر محمد بخش مہر سے بھی یہ قلمدان واپس لیا جا رہا ہے۔
بی آر ٹی کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی منصوبے سے 17 ارب روپے کا غبن کیا اور کان سے کان ملا کر کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ تین ماہ پہلے جب پہلی بار سوشل میڈیا پر کراچی کے معروف صحافی ارباب چانڈیو نے یونیورسٹی روڈ کو پچھلے چار سال سے کدائی کر کے چھوڑ دینے کی خبر وائرل کی تو حکومتِ سندھ، عالمی بینک اور دیگر اداروں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوا۔ حکومتِ سندھ نے غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او (FWO) کو معاہدہ دے دیا اور انہیں پابند کیا کہ پروجیکٹ کو 90 دنوں میں مکمل کیا جائے۔
اور جب FWO نے پروجیکٹ کا کام سنبھالا اور وزیرِ اعلیٰ سندھ اور سندھ کی اہم شخصیات کو بریفنگ دی گئی تو وہاں یہ راز فاش ہوا کہ سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کرپٹ افسر ضمیر عباسی وزیرِ اعلیٰ سندھ اور دیگر اہم شخصیات کو پروجیکٹ کے متعلق جھوٹی بریفنگ دیتے رہے۔ جب ارباب چانڈیو کی خبر کے بعد چار سالوں سے کُنڈر (خستہ حال) کی صورت اختیار کرنے والے پروجیکٹ کے بارے وزیر اعلا سندھ نے ضمیر عباسی سے پوچھ گچھ کی تو ضمیر عباسی نے پھر جھوٹ بول کر پورا ملبہ ٹھیکیدار پر ڈال دیا اور ٹھیکیدار سے سندھ حکومت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دِلوا دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب یہ پٹیشن جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار بھمبرو کے سامنے پیش ہوئی تو دونوں جسٹس صاحبان بہت سمجھدار ہیں، انہوں نے ٹھیکیدار کی ایک نہ سنی اور حکومتِ سندھ کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہ کیا۔
ورلڈ بینک، FWO کے بعد جب سندھ حکومت گہرائی میں گئی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ساری جگ ہنسائی ضمیر عباسی کے دھوکے (bluff) اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سندھ حکومت نے پہلے تو FWO کو کنٹریکٹ دے کر اس غفلت اور غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، اور دوسرا یہ کہ ضمیر عباسی کو اینٹی کرپشن کے کیس میں گرفتار کر کے 17 ارب روپے وصول (recover) کرانے کی کوشش کی جائے تاکہ عوام، ورلڈ بینک، FWO اور سوشل میڈیا کو تسلی دی جا سکے۔
مگر حکومتِ سندھ کی یہ منصوبہ بندی اینٹی کرپشن نے لیک کر دی اور ضمیر عباسی کراچی سے فرار ہو گیا۔ اینٹی کرپشن نے کراچی میں ضمیر عباسی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن ضمیر عباسی ہاتھ نہیں آیا۔
ضمیر عباسی کون ہے؟ اور کیسے اتنی بلندی پر پہنچا؟
ضمیر عباسی اصل میں گمبٹ شہر، ضلع خیرپور کا رہنے والا ہے۔ یہ پہلے نیب میں 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوا تھا اور کچھ سال نوکری کرنے کے بعد سیاسی سفارش پر دسمبر 2008 میں ڈیپوٹیشن پر سندھ پولیس میں مساوی عہدے (گریڈ 17) پر ڈی ایس پی لگ گیا۔
جب ضمیر عباسی ڈی ایس پی سکھن تھا تو میری اس سے ملاقات اس وقت ہوئی جب یہ ہائی کورٹ کی طرف سے ایک انکوائری میں میرے پاس پیش ہوا۔ دیکھنے میں یہ اتنا معصوم اور بھولا (Innocent) لگتا ہے کہ اس پیارے کو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں، مگر بعد کے حالات اور اس کی اڑان دیکھ کر پتہ چلا کہ اس جیسا شارپ، شاطر، ہوشیار، چرب زبان اور چکر باز شخص آپ کو نہیں ملے گا۔ ضمیر عباسی ہمیشہ منفی سوچ رکھنے والا اور دوسروں کے نقصان کا سوچنے اور کرنے والا انسان ہے۔
سال 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر مقرر افسروں کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا، اور اسی طرح عباسی اپنے اصل محکمے نیب میں واپس چلا گیا۔ وہاں جاتے ہی ڈاکٹر عاصم کا کیس ضمیر عباسی کو تفتیش کے لیے دے دیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عاصم کو ضمیر عباسی نے کوئی فائدہ دیا یا نہیں، مگر ضمیر عباسی کو فائدہ یہ ہوا کہ...
ضمیر عباسی نے بڑی ہوشیاری سے ایک درخواست سندھ حکومت کو دی کہ 2003 میں گریڈ 16 (سیکشن افسر) کی بھرتی کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 20 اگست 2003 تھی، مگر ضمیر عباسی نے جعلسازی سے 18 دسمبر 2003 کو اپنی درخواست جمع کروا دی۔ ڈاکٹر عاصم صاحب بہت اچھے آدمی ہیں، انہوں نے 2016 میں پرانی درخواست (2003) کی بنیاد پر ضمیر عباسی کو سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں سیکشن افسر مقرر کروا دیا۔جاری ہے 👇
ملیر کراچی میں ٹھیکیدار گٹر لائن کو زمین کے اوپر بچھانے کا کامیاب تجربہ کرکے فرار ہوگیا۔
ٹھیکیدار سے اپیل ہے کہ واپس آجائے تاکہ اسے مزید ٹھیکے دیئے جا سکیں کیونکہ اس میں ٹائم اور پیسے دونوں کی بچت ہے۔
پنجاب حکومت سمیت وفاقی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کو پورے پیسے نا ملنے کے سبب بھنڈی ضائع کی جارہی ہے۔ جبکے حکومت کے کاغذات میں ملک ترقی کررہا ہے۔
@NadeemAfzalChan
ڈان اخبار کی خبر کے مطابق داتا دربار لاھور کے نذرانے چندے میں زائرین کی تعداد میں کمی کے باوجود خاطر خواہ اضافہ ہوا ۔ کروڑوں روپے نذرانے میں غبن گپھلا ہوا دربار کے عملہ سے ریکوری کی جارھی ھے ۔کیا یہ رقم پنجاب یونیورسٹی گورنمٹ کالج لاھور میں اعلی تعلیم اور سائنس کی جدید لیب بنانے کے لئے نہیں دی جاسکتی ۔
Abbottabad mourns again. Another murder, another family shattered. “Justice for Maazullah” isn’t just a hashtag, it’s a demand.
@SohailAfridiISF I urge you to take immediate action. Our city deserves peace, safety, and justice. #JusticeForMaazullah#Abbottabad@YarMKNiazi