صورتحال
عاصم منیر یا کسی بھی فوجی آمر کی اصل منزل اقتدار اپنے ہاتھ میں کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ زیادہ دیر کٹھ پتلیوں کے پیچھے نہیں چھپ سکتے۔ لہذا اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ عاصم منیر صدر مملکت یا چیف ایکزیکٹو یا کوئی بھی نیا عہدہ تخلیق کرکے اس ملک کا اعلانیہ سربراہ بننا چاہتا ہے۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔ ایوب خان ، ضیاء ، مشرف نے جب براہ راست اقتدار سنبھالا تو انہیں عوامی حمایت بھی مل گئی۔ یہ اگر پاپولر نہیں تھے تو پہلے دن اکثریت کو ان سے نفرت بھی نہیں تھی۔ عاصم منیر کے ساڑھے تین سالہ اقتدار نے اسے غیر مقبول بلکہ نفرت کا نشان بنا دیا ہے۔ عاصم منیر نے ڈنڈے کے زور پر ہی اقتدار چھیننا ہے اور ڈنڈے کی ناکامی کا اعتراف فوج خود کررہی ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ فوج جن کٹھ پتلیوں کے پیچھے چھپتی ہے یہ پردہ ہٹنے سے فوج براہ راست تنقید کی زد میں آئے گی۔ موجودہ صورتحال میں اس کا بوجھ بھی بہت زیادہ ہے۔ فوج اس بوجھ کو اٹھانے سے گھبرا رہی ہے۔
اگلا مسئلہ ہے ٹھنڈی ہواؤں کا۔ یہاں تو بغیر کچھ ہلے ٹھنڈی ہوائیں چلانے والوں کی کوئی کمی نہیں اب تو انہیں مواد ہی بہت میسر آگیا ہے۔ لہذا کوئٹہ سے چلنے والی ٹھنڈی ہوائیں اگلے کچھ روز کراچی کا موسم سرد رکھیں گی۔ اکثریت کی آنکھیں کھل چکیں۔ ایک جانور کی اولاد کی دیر سے کھلتی ہیں۔ لہذا کچھ لوگوں کے جیکٹیں پہننے کا امکان بہرحال موجود ہے۔ کچھ تبصرہ پاڑ پچھلے کئی مہینوں سے ستمبر میں سب ٹھیک ہونے کی ہوائیں چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی رہائی فوجی اقتدار کی شکست ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ عمران خان رہا ہو ، اقتدار میں آئے اور فوج کا موجودہ سیٹ اپ بھی چلتا رہے۔ فوج نے جہاں ناکامیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے وہیں پھدو دماغوں نے انتظامی یونٹس والی پریزنٹیشن کو ٹاکی مار لی ہے۔ یعنی فوج کا اقتدار چھوڑنے یا پسپا ہونے کا فی الوقت کوئی ارادہ نہیں۔
اگلا پوائنٹ ہے بیچارہ شریف و زرداری خاندان۔ یہ نا مزاحمت کرسکتے ہیں نا ہی فوج کو آنکھیں دکھا سکتے ہیں۔ رات کو الیکشن کمیشن یاسمین راشد ، افضال عظیم پاہٹ یا مہر شرافت کی سیٹ پر ری کاونٹنگ کا ایک نوٹیفکیشن نکالے تو صبح ہونے تک شریف خاندان یا جدے ہوگا یا پھر پنڈی میں سجدہ ریز ہوگا۔ یہ عمران خان یا تحریک انصاف نہیں۔ یہ مشکل سے بھاگنے اور اقتدار چوسنے والے لوگ ہیں۔ لہذا فوج انہیں جو کہے گی یہ کریں گے۔ شریف و زرداری نے فوج کا تھوکا ہوا اقتدار چاٹ لیا انہیں فوج کا ہگا ہوا کھانے میں بھی کوئی کراہت نہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سبھی اسمبلیوں کے اراکین کو فارم سینتالیس پنڈی سے جاری ہوا ہے رائیونڈ یا نوڈیرو سے نہیں۔ لہذا آنکھ کے اشارے کی دیر ہے کہ ان سب کا سب کچھ ان پر پلٹ دیا جائے گا۔ بلاول مسکین نے دن کی بڑھک کی شام کو صفائی دے ڈالی اور یہی ان کی کل اوقات ہے۔ تو واقعہ یہ ہے کہ ان مسکینوں کی جانب سے فوج کو کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں آنے والی۔
حاصل بحث یہ ہے کہ عاصم منیر کے اندر صدر مملکت بننے کی خواہش موجود ہے۔ شریف و زرداری خاندان انکے کسی منصوبے کے سامنے ہرگز رکاوٹ نہیں بنے گا اور جو بھی ہڈی پھینکی جائے گی اس پر صبر شکر کرے گا۔ عمران خان کو اس کشمکش کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جب تک فوج عوامی ردعمل سے خوفزدہ نہیں ہوگی نا ہی عمران خان رہا ہوگا اور نا ہی فوج سیاسی کردار سے پسپا ہوگی۔
اللّٰہ تعالیٰ کو رعونت اور تکبر پسند نہیں جنرل پرویز مشرف اپنے دور کا بہت طاقتور حکمران تھا کہتا تھا بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو پاکستان واپس نہیں آنے دیگا پھر وہ وقت آیا کہ انہیں خود جلاوطنی اختیار کرنی پڑی اور جلاوطنی میں وفات پائی افسوس کسی نے مشرف کے انجام سے سبق نہیں سیکھا