یہ قیامت خیز مناظر ہے! اس مناظر کو ہم تو ہم اب ہمارے آنے والی نسلیں بھی ان مناظر کو اپنی یاداشت میں محفوظ رکھے گے۔
ہمارے بوڑھی ماؤں، معصوم بچوں اور چھوٹی بچیوں کے آنسو دل کو چیر رہے ہیں، یہ لمحہ تصاویر میں بھی انسانی وجود کو جھنجھوڑ رہا ہے لیکن ہم کل رات سے اس درد ناک اور قیامت خیز مناظر کا سامنا کررہے ہیں۔
یہ لمحہ ناقابل بیان اور ناقابل معافی ہے 💔
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کی لڑائیاں لڑی رہی ہیں لیکن ان عاقبت نا اندیشوں کو نہیں پتہ کہ بلوچ یکجہتی کونسل اور نہتی خواتین کے ذریعہ ایک ایسا پر امن انقلاب جنم لے رہا ہے جو ان سب کو بہا لیجائے گا
پاکستانی فوج بےغیرتی حرام زدگی کی ہر حد کراس کررہی ہے اور اب اسلام آباد میں اپنے بھائیوں کی بازیابی کے لئے بیٹھی خواتین کے گھر پر ریڈ کئے جارہے ہیں اور گھر میں موجود بچوں اور بوڑھے افراد کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے تاکہ اسلام آباد دھرنہ ختم کروایا جاسکے
#IStandWithBalochMarch
آپ لڑکیوں اور بلوچ عوام کی جدو جہد ژندہ باد۔ آپ کی جدو جہد نہ صرف بلوچ عوام کو ظلم و ستم سے آزادی دلائے گی بلکہ دیگر محکوم قوموں کو بھی آزادی کے ثمرات سے بہرہ مند کرے گی۔ بلوچ یکجہتی کونسل ژندہ باد۔
وڈھ اور خضدار میں مزاحمتی اجتماع عوامی انقلاب کی نوید ہے۔
خضدار اور وڈھ کے عوام گزشتہ ایک دہائی سے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے جبر کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں نہ کسی کی زندگی محفوظ ہے اور نہ ہی عزت نفس کو تحفظ حاصل ہے۔ لیکن اس عوامی تحریک نے ظلم و جبر کے خلاف ایک امید اور حوصلہ پیدا کی ہے اور یہ عوامی تحریک خضدار سمیت پورے بلوچستان میں ظلم و جبر کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
#IStandWithBalochMarch
#MarchAgainstBalochGenoscide
یہ کس طرح کا دعویٰ ہے کہ بلا چھینا گیا ہے دو دن کی کی طویل سماعت میں پی ٹی آئی کے وکلا نے تو خود ثابت کیا کہ الیکشن کروائے ہی نہیں گئے۔ اس نوعیت کی مشکوک گفتگو کرکے کن کے غیر جمہوری رویوں کو فروغ دیا جارہا ہے
2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے ایک فیصلے کے بعد سینیٹ الیکشن سے قبل مسلم لیگ ن سے شیر کا نشان چھینا گیا
2024 میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھین لیا
قاضی فائز عیسیٰ نے وہی کیا جو ثاقب نثار نے کیا
@ImtiazAlamSAFMA سیاست میں پہلا قدم رکھتے ہی پہلا سبق یہ ہوتا ہے کہ مصلحت سے کام لیا جائے اور کبھی سچ کو سچ نہ کہا جائے بلکہ ہمیشہ مصلحت کو اپنا ایمان بنا کر پیش کیا جائے
بلوچستان میں احتجاج کا سلسلہ جاری
اتوار کے روز واشک اور سبی میں ریلیاں نکالی گئی جن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے "بلوچ نسل کشی" کے خلاف مہم کے تیسرے مرحلے کے طور پر کی جارہی ہے۔
“Largest rally in Awaran’s history”
Thousands, including Baloch women and children, are out on streets today in the highly militarised area of Awaran. In Awaran, everyone entering or leaving the area needs an approval slip from Pakistani military.
#MarchAgainstBalochGenoscide
پی ٹی آئی وکیل نے کہا الیکشن ایکٹ کے مطابق ہر سیاسی جماعت نے پارٹی انتخابات کے7 دن میں سرٹیفکیٹ دینا ہے، جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا سرٹیفکیٹ پارٹی آئین کے مطابق انتخابات سے مشروط ہے۔
خاران : جبری گمشدگیوں فیک انکاؤنٹر ریاستی تشدد کے خلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی اسلام آباد دھرنے کی حمایت میں لوگوں کی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنا ہمارے موقف کی تائید اور سچائی کا ثبوت ہے
شکریہ خاران 🙏
#MarchAgainstBalochGenocide#IStandWithBalochMarch
جان اچکزئی نے انتہائی گھٹیا بات کی ہے، جو لڑکی اپنی قوم کے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جدو جہد کررہی ہے اور جسکے ساتھ پوری قوم کے مرد و عورتیں ہوں اسکی کردار کشی کیلئے کچھ نہ ملا تو ایسے حد درجے کے فضول الفاظ استعمال کرکے اپنی گھٹیا ذہنیت کا اظہار کردیا۔
ملالہ اگر بلوچ ہوتی تو آج ملالہ کی محبت میں ہزاروں بلوچ بچیوں کے نام ملالہ ہوتے، بلوچ شعرا ہزاروں اشعار ملالہ کے لیے لکھتے اور گلوکار ہزاروں گانے ملالہ کی محبت میں گاتے, بلوچ عورتیں ملالہ نام کی دلکش اور خوبصورت بلوچی کشیدہ کئے ہوئے بلوچی کپڑے زیب تن کرتیں، بلوچ مائیں ملالہ کی بہادری اور جرات کی لوریاں اپنی بچیوں کو سناتیں اور انہیں ملالہ بننے کی ترغیب دیتیں
اگرچہ ملالہ خوشحال خان خٹک، غنی خان اور باچا خان جیسے عظیم ہستیوں کی قوم میں ہوکر بھی، ملا فضل اللہ اور جان اچکزئی جیسے ناسور سے نہ بچ سکی، ایک بدبخت نے گولی چلاکر ملالہ کو جسمانی طور پر قتل کرنا چاہا اور دوسرا بدبخت زبان کے تیر چلاکر ملالہ کی کردار کشی کررہا ہے، اگر ملالہ بلوچ گل زمین کی بیٹی ہوتی آج ہم ملالہ پر ایسے فخر کرتے جیسے بانک کریمہ ماہرنگ سمی اور صبیحہ پر فخر کرتے ہیں.
#IStandWithBalochMarch
Thousands of people from across the country are taking to the streets to support this mass movement.
It is today’s rally of Malir Karachi, where thousands of people are protesting against the Baloch genocide.
It is a pure mass movement that has huge public support across the country. But the state wants to end this movement by force. Using such tactics will not end this movement but will spread with more intensity.
#StopBalochGenocide
#MarchAgainstBalochGenocide
#EndEnforcedDisappearances