ب
ریکنگ نیوز :
وکلا ایکشن کمیٹی نے علی احمد کرد کو ملک گیر تحریک کی قیادت سونپ دی
جنرل مشرف کو اقتدار سے بھگانے والی سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد نے قیادت سنبھالتے ہی بڑے اعلانات کر دئیے
تفصیلات کچھ دیر میں ایم جے ٹی وی پر
جیفری ایفسٹین موساد کیلیے کام کرتا تھا ۔۔ امریکی نائب صدر کا بڑا انکشاف
یہ وہی جیفری ہے جس نے عمران خان کے الیکشن جیتنے کے بعد فوری بعد ایک ای میل کی تھی جس میں لکھا گیا تھا کہ عمران خان ۔۔ روسی صدر ۔۔ چینی صدر ۔۔ اور آیت اللہ شہید خامنہ ای سے بڑا خطرہ ہے ۔۔۔ جے ڈی وینس کے بیان کے بعد تو واضح لگتا ہے کہ ایفسٹین عمران خان کو اسرائیل کیلیے خطرہ سمجھتا تھا۔۔۔
@PTIofficial@BarristerGohar
مریم نواز سمجھتی تھیں کہ فوج بلوچستان میں نوجوانوں کو اٹھا لیتی ہے، مسنگ پرسن بنا دیتی ہے، ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دیتے ہیں
لیکن وہ ضمیر کی آواز نہیں تھی وہ اقتدار میں آنے کے لیے بلیک میلنگ تھی آج مریم ان مسخ شدہ لاشیں پھینکنے والوں کا بازوں بنی ہوئی ہے
یہ تو شُہدا کی توہین ہرگز نہیں؟
بلوچستان کے ضلع زیارت میں قتل کیے گئے پولیس اہلکار عطاء اللہ کی بہن کہہ رہی ہیں:
حکومت نے ایمبولنس نہیں دی۔ شادی کا جوڑا کسی کو دے کر 15 ہزار روپے حاصل کیے اور بھائی کی میت لانے والی گاڑی کا کرایہ ادا کیا۔
سوشل میڈیا پر ”شہدا کا مقدمہ“ لڑنے والے اِن بہنوں کے پاس دھرنے میں کب جا رہے ہیں؟
پہلے جیل سے رہا ہو کرآنے والے لوگ معدے اور ہیپاٹائٹس کی وجہ سے فوت ہوئے، اب گُردوں کے مسائل شروع ہو گئے ہیں، صنم جاوید خان کو اِس وقت گُردوں میں شدید تکلیف ہے لیکن کوئی بھی چیک اپ نہیں ہونے دے رہا، تمام لوگ آواز اُٹھائیں
یہ وہ ہے جو ایلون مسک نہیں چاہتا کہ آپ اس پلیٹ فارم پر دیکھیں۔ یہ وہی ہے جسے آپ کا میڈیا رپورٹ نہیں کرے گا۔
غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے والے فلسطینیوں کی چیخیں۔🥲
Famous British comedian Mr. Bean:
"I feel ashamed on behalf of the United Kingdom for allowing Israel to besiege two million people in Gaza, cutting off their electricity, water, and medicine, and then claiming to defend human rights."
Well done!
مصنوعی داڑھی لگا کر دہشتگرد بن جاتے ہیں اور جب نکالتے ہیں تو بریگیڈئر بن جاتے ہیں دفاعی ادارے ہمارے درمیان سے نکل جائیں پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دہشتگردی کیسے ہوتی ہے ! مولانا محمد خان شیرانی ۔۔
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
5 اگست کو پاکستان کے تمام اضلاع میں، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے تحریک انصاف، پشتونخوامیپ، جمیعت علماء اسلام اور دیگر تمام پارٹیاں مل کر مظاہرے کریں
میری PTI کے ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ تیاری پکڑے اور اس تحریک کو چلانے کے لیے اپنی تمام صلاحیت کو استعمال کریں
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
یہ نوجوان ۲۱ جون کو اغواہ ہوا تھا آج ان کو ظالموں نے شہید کر دیا یہ ملتان بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے پڑھا تھا
بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایسے بے دردی سے اغواہ کرکے قتل کر دہے جاتے ہیں کیا ان کا خاندان تمیں معاف کریگا
لوگ کہتے ہیں کہ یہ جنازوں پر سیاست کر رہے ہیں۔
اللہ پاک نے کہا ہے کہ قصاص میں تمہاری زندگی ہے۔ ہم کس سے قصاص لیں؟ تم ہمیں صبح شام مارتے ہو کیونکہ تمہارے پاس بندوق ہے؟ حکومت بزور قوت تمہاری ہے۔ غاصب ہو تم۔
Where is good governance?EU Commission report on GSP+ says that enforced disappearances and extrajudicial killings increased in Pakistan without accountability for perpetrators. The Commission also expressed concern over the deterioration in media freedom. https://t.co/cv6KvGmjuL
The European Commission’s latest GSP+ assessment confirms growing international concern over Pakistan’s rule of law and human rights crisis, including judicial independence, military trials, and the treatment of former Prime Minister Imran Khan.
We will continue engaging with international partners to ensure the Commission’s recommendations are translated into meaningful reforms before the GSP+ review concludes in December 2026. Thank you to everyone who has worked tirelessly to document, raise, and expose these violations. @Kasim_Khan_1999@JaredGenser@EU_Commission@EUPakistan
🚨🚨#BREAKING: On enforced disappearances issue in #Pakistan, @EUPakistan GSP monitoring mission states “Reports point to a high and growing number of cases of enforced disappearances, especially
in the provinces of #Balochistan and #KhyberPakhtunkhwa (KPK), as well as of extrajudicial executions. @EUCouncil GSP+ monitoring mission discovers that the Commission of Inquiry on Enforced Disappearances has been ineffective in
ascertaining the whereabouts of disappeared persons or ensuring accountability for perpetrators? There has not been any prosecution for enforced disappearances to date. The Commission closed over 9 000 cases to date, without finding evidence for involvement of state agents in any of them. When a case is closed because the victim is considered 'returned home' or dead, the Commission does not record the fate of the individuals during the time of their disappearance. Pakistan has compensated some families of victims of enforced disappearances, albeit without clear procedural framework to a limited extent. GSP+ monitoring mission was told that #Pakistan indicated that it was not planning to pass specific legislation against enforced disappearances' , arguing that existing
laws already extensively criminalise such acts.