قائد عمران خان کے آفیشل اکاؤنٹ سے باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ آج منگل کے روز 10 ہزار کارکن اڈیالہ جیل پہنچیں۔ مگر افسوس کہ پورے خیبرپختونخوا میں کسی بھی تنظیمی عہدیدار یا پارلیمنٹرین کی جانب سے کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے نہ کوئی ہدایات جاری کی گئی اور نہ ہی کوئی عملی انتظامات کیے گئے۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ ایک طرف علیمہ آپا کی جانب سے کال دی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف پارٹی خاموش دکھائی دیتی ہے، ایسے میں اگر کارکن بڑی تعداد میں نہ پہنچ سکیں تو مخالفین یہی تاثر لیں گے کہ عوام اور کارکن عمران خان کے ساتھ کھڑے نہیں، حالانکہ مسئلہ کارکنان کے نکلنے کا نہیں بلکہ علیمہ آپا اور تنظیم کی آپسی کوآرڈینیشن کا ہے۔
ارشد صاحب ایک بار ان لوگوں کا شکر گزار ہوتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے تھے جو ان کے کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی ان کیلئے آواز اٹھاتے تھے انکے لئے بولتے تھے۔
میں ارشد شریف نہیں ہوں کبھی ہو بھی نہیں سکتی لیکن آج میرے تاثرات ارشد صاحب والے ہیں کہ کیسے آپ سب لوگوں نے میرے لئے آواز اٹھائی مجھ تک رسائی کیلئے دوسرے لوگوں سے رابطے کئے، اورسیز پاکستانی جنہوں نے مجھ تک اپنے پیغامات پہنچائے، اور بالخصوص وہ لوگ جنہوں نے میرے کہنے پر میرے بارے میں مکمل خاموشی اختیار رکھی۔ آپ کا بے حد شکریہ!
میری کوئی حیثیت نہیں ہے ،اس آٹھ دس سال کے صحافتی کرئیر میں لفظوں کا ہیر پھیر کیے بغیر جو دیکھا، جو سنا، جو پرکھا وہ ہی بیان کرنا جانتی ہوں بس !
لیکن آپ لوگوں نے اتنی قدر کی یہ میرے لئے مشکل حالات میں اتنی خوشی کی بات تھی کہ مجھ میں دوبارہ لکھنے بولنے کا حوصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ لگتا تھا زندگی میں جڑیں کاٹنے والے حاسدین اور منافقین زیادہ ہیں لیکن آپ لوگوں نے احساس دلایا کہ ایسا نہیں ہے۔
سات سالہ نوکری چلی گئی اس کا قصہ پھر کسی اور وقت کے لئے سہی ۔!!
(لیکن اس نوکری کا ایک اعزاز میرے پاس ہے کہ میں نے شہید ارشد شریف، صابر شاکر، کاشف عباسی، چوہدری غلام حسین جیسے بہترین ، نڈر ، دلیر اور اپنے اصولی موقف پر قائم لوگوں کے درمیان کام کیا)
کوشش ہو گی کہ آپ لوگوں سے رابطہ رہے اور آپ سب کی توقعات پر پورا اترتی رہوں ۔ بہت شکریہ
مراد سعید کے بارے ہمیشہ منفی بات سے اجتناب کیا ۔ مگر ان کی کتاب کے پروف سے پرنٹنگ اور پھر سعید بک ڈپو تک پہنچنے کے مراحل دیکھنے کے علاوہ انکی انشائیہ پوسٹس پڑھ پڑھ کر اب دل اوبھ گیا ہے۔
یہاں معاملہ ترجیحات کا ہے۔ اگر وہ عمران خان کی سخت قید میں بھی کچھ کرنے یا سامنے آئے بغیر کچھ کرنے کے قابل نہیں تو خدا خواستہ خان کو جیل میں کچھ ہو جاتا ہے تو وہ کیسے؛ کیوں اور کس لئے سامنے آئیں گے۔ حقیقت یہی ہے وہ قصہ پارینہ ہو چکے
ہم لوگوں نے بہت سوں کو گنجائش دی ۔ ان میں مراد سعید سے بھی زیادہ مقدس سمجھے جانے والے نام بھی شامل ہیں
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہماری خان سے زیادتی ہے
سوشل میڈیا کو سوچنا پڑے گا کہ سلیکٹڈ تنقید کی بجائے ہر اس فرد پر بات کی جائے جس کا کردار یا اعمال up to the point نہیں ہیں۔ ان میں مرکزی قیادت سے صوبائی قیادتوں . انتظامی عہدیداروں کے علاؤہ وہ لوگ بھی ہیں جن کے پاس کوئی عہدہ نہیں مگر PTI کیلئے انکی حیثیت مسلم ہے
ہمیں "خان" یا "خان وغیرہ" میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑیگا
PTI leadership has requested opposition leader Mehmood Khan Achakzai that, if there is a time frame on the gathering outside Adiala Jail on Tuesday, they can mobilize 10,000 people. We welcome this proposal and have accepted their request.
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
A strong gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, Islamabad, in the presence of his family and personal physician.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.
لیفٹیننٹ جنرل دھیراج سیٹھ بھارتی فوج کے اگلے آرمی چیف مقرر۔ وہ 30 جون کو موجودہ چیف کی جگہ سنبھالیں گے
مگر کوئی رولا ہوا نہ منظوری کیلئے لسٹ امریکہ گئی نہ کسی نے امریکہ جا کر اگلی ہدایات پر عمل کی یقین دہانی کروائی۔
بھارت عسکری حساب سے بہت ٹھنڈا ملک ہے۔ سواد نئیں آیا
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
فوج سے اچھی بات کیوں نہیں سیکھتے؟
گزشتہ وفاقی بجٹ (2025-26) میں دفاع کیلئے 2,550 ارب روپے مختص تھے جو ترمیمی بجٹ کے بعد تقریباً 2,595 ارب ہو گئے تھے
فوج کے زیرِ انتظام 80 سے زائد کمپنیوں اور اداروں میں سے صرف 'فوجی فاؤنڈیشن گروپ' کی سالانہ مجموعی آمدنی 760 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
فرٹیلائزر سیکٹر کا سالانہ "خالص منافع" تقریباً 74.7 ارب روپے تھا جبکہ عسکری بینک کا 20% اضافے کے ساتھ 25 ارب اور فوجی سیمنٹ کا 51 % اضافے کے ساتھ 13 ارب روپے رہا۔ اسی طرح پیٹرولیم' انرجی اور فوڈ سیکٹر نے بھی اربوں کا خالص منافع کمایا۔
ان کمپنیوں کا مجموعی سالانہ خالص منافع 100 ارب سے 150 ارب روپے کے درمیان رہا
فوج کا مؤقف ہے کہ اس منافع کا ایک بڑا حصہ (تقریباً 30 ارب روپے سالانہ) ریٹائرڈ فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی صحت اور تعلیم کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔
چونکہ حکومت نے تو تعلیم اور صحت کیلئے فنڈز میں بڑی کٹوتی تجویز کر دی ہے
اس لئے واپڈا ' سوئی گیس اور دیگر اداروں کو فوج سے سبق سیکھ کر اپنا کمرشل بزنس شروع کرنا چاہیئے تاکہ اپنے ملازمین اور انکے خاندانوں کی تعلیم 'صحت اور فلاح و بہبود پر خرچ کر سکیں
عمران ریاض ، شہباز گل ، معید پیرزادہ ، صدیق جان ، وقار ملک ، وجاہت سعید سب دوکاندار ہیں۔ انکے یوٹیوب پر سپر سٹور چلتے ہیں۔ پھر احمد علی خان ، ابوبکر ، الہ دین جیسے فیس بک کے مارتا اونرز ہیں جنکی وہاں اچھی خاصی دوکانداری ہے۔ جٹ اٹھ سو چار جیسے ٹک ٹاک والے بڑے بڑے سیٹھ الگ ہیں۔ ہم جیسوں کے بھی چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر چلا رہے ہیں۔ ہماری پراڈکٹس میں خبر ، تجزیہ ، تبصرہ ، سیاست ، معیشت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں دس بارہ کروڑ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کی معلومات اور خبریں ان تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب ہمارے گاہک ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو مرضی کی خبر خریدتے ہیں۔ اپنی پسند ناپسند کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سارا دن ونڈو شاپنگ کرتے رہتے ہیں اور جو چیز نظر آئے وہ اٹھا کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اب یہ ساری مارکیٹ یہ ساری انڈسٹری اتنی بڑی آڈینس کو کیا بیچ رہی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیا بیچ رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ بیچ رہی ہے ، سہیل آفریدی کی ملاقات بیچ رہی ہے ، سرپلس بیچ رہی ہے ، بیرسٹر گوہر پر تنقید بیچ رہی ہے ، قیادت بیچ رہی ہے ، کور کمیٹی بیچ رہی ہے ، اسمبلی کا اجلاس اور اس میں ہونے والی تقریر بیچ رہی ہے۔ پھر اس میں یہ سیٹھ لوگ اپنی ذاتی پسند ناپسند ، سوجھ بوجھ ، لابئینگ یہ سب بھی بیچ رہے ہیں۔ اس دوران واردتیے ہر دوسرے تیسرے ہفتے ٹھنڈی ہوائیں والا ٹھیلا بھی لگا کر نکل جاتے ہیں۔
یعنی دس بارہ کروڑ ونڈو شاپرز کو ستر اسی فیصد پراڈکٹ وہ بیچی جارہی ہے جس کا امپیکٹ صفر ہے۔ یعنی بیرسٹر گوہر پر تنقید سے کیا حاصل ؟ سلمان اکرم راجہ پر تنقید سے کیا حاصل؟ کسی ملاقات پر تنقید سے کیا حاصل ؟ ادھر ادھر کی فضول لاتعداد چیزیں بہت سارا قیمتی وقت کھا جاتی ہیں۔
اب زرا سی دیر کو فرض کریں کہ درمیان میں سے تحریک انصاف کی قیادت ، اسمبلی ، حکومت والا سب کچھ نکل جاتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف اسمبلیوں سے الگ ہوجاتی ہے ، اس سسٹم سے بالکل آوٹ ہوجاتی ہے تو یہ سب دوکاندار کہاں جائیں گے؟ دوکانیں ٹھپ کردیں گے؟ گاہک کدھر جائیں گے؟ نیپال چلے جائیں گے؟
نہیں ! یہ دوکاندار پھر مختلف قسم کی پراڈکٹس بیچنا شروع کردیں گے۔ یہ حقیقی عوامی مسائل کا ذکر کریں گے۔ انکی وجوہات پر فوکس کریں گے۔ عوام میں شعور پیدا کریں گے۔ جو وقت اور توجہ سہیل آفریدی ، سلمان اکرم اور بیرسٹر گوہر پر ضائع ہوتا ہے یہ نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی کمزور اور بے بس قیادت کی آڑ میں جس طرح تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ان کی شمولیت سے نظام کو جو لیجٹمیسی حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ پھر وہ ہوگا جو آج کشمیر میں ہورہا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے اپنی مرضی کی قیادت چن کر نکلیں گے۔
تحریک انصاف کا اب ایوانوں ، اسمبلیوں میں موجود ہونا تحریک انصاف کے لیے عمران خان کے لیے اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ تحریک انصاف اتنی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرپارہی ، ان کے لیے علاج کی سہولت نہیں لے پارہی۔ الٹا کٹھ پتلیوں سے تعاون اور خفیہ ملاقاتوں کے سبب ذلیل ہورہی ہے۔
طور صاحب اس ہجوم نے بنی اسرائیل کیطرح کفران نعمت کیا ہے جب اللہ نے ایک مخلص لیڈر عمران خان انھیں دیا جو غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہتا تھا تو اس ہجوم نے اسے ٹھکرا دیا اور ہائبرڈ سسٹم کی تعریف کرتے ہوئے چوروں اور ظالموں کو خوش آمدید کہا جس روز خواجہ آصف نے اسمبلیوں میں کھڑے ہو کر ہائبرڈ سسٹم کی تعریف کی تو اس وقت میں نے خبردار کیا کہ موجودہ ہائبرڈ سسٹم پاکستان کی قبر کھود رہا ہے یہ ریاست کو بھی تباہ کریگا اور عوام کو بھی یہ ہر لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا لیکن لوگوں نے چوروں اور بدعنوانوں کے ٹولے (PDM) جسے فضل الرحمن نے اسٹیبلیشمنٹ کے کہنے پر بنایا تھا کا ساتھ دیا اور عمران کے ساتھ دھوکہ کیا اب زندگی اسی نظام کے تحت گزاریں یا پھر اللہ سے معافی مانگیں ،،،،
صوبائی کابینہ پوری کرنا
فیصل کریم کنڈی سے ائے روز ملاقاتیں
مولانا فضل الرحمان صاحب سے ملاقاتیں
وفاقی وزیر احسان اقبال سے ملاقات
آج شہباز شریف سے بجٹ پر ملاقات
بجٹ میں 305 ارب روپے وفاق کو دینا
صوبائی بجٹ تیار کرنا اور کابینہ سے پاس کرنا
یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کر رہا ہے لیکن جب سوال ہوتا ہے کہ خان صاحب کی رہائی کیلئے تحریک کا اعلان کا کرو تو آگے سے کہتے ہے کہ جب خان صاحب کا حکم ائے گا تب ہم نے کرنا ہے باقی ہر ایک کام خان کی مرضی اور مشاورت کے بغیر ہو رہا ہے لیکن جو اصل کام ہے خان صاحب کی رہائی کی تحریک وہ کام یہ نہیں کر رہے ۔۔!
یہ پارلیمانی پارٹی کے گروپ میں پوسٹ کیے ہوئے وائس نوٹس ہیں جنہیں “آڈیو لیک” کا نام دے کر سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ فی زمانہ سیاسی ورکر، ایکٹیوسٹ اور "صحافیوں” میں فرق روا رکھنا بےحد مشکل ہو گیا ہے۔ 95 فیصد صحافی پاکستان تحریکِ انصاف کی اندرونی سیاست میں باقائدہ دھڑہ بنے ہوئے ہیں، پارٹی لیڈرز کے خلاف، حتی کے ورکرز اور عہدیداران کے خلاف پیڈ کیمپینز کرتے ہیں اور پھر دھڑلے سے خود کو صحافت کے لبادے میں چھپا لیتے ہیں۔ نو مئی کے بعد بیشمار خود ساختہ صحافیوں کی ٹائم لائن دیکھیں، باقائدہ سیاسی ورکرز کی طرح ہماری پارٹی کی قیادت کو نا صرف طعنے تِشنے دینے میں مصروف ہیں بلکہ اشارے پر غداری کے ٹائٹل بھی بانٹتے ہیں۔
میں اکثر سوچتی ہوں پاکستان تحریکِ انصاف نا ہوتی تو ان کا کام دھندا کیسے چلتا، اپنے گھر چلانے کے لیے باقائدہ فساد مچایا ہوا ہے ان سب نے۔ بیگناہ متاثرین، ورکرز کی فکر صرف ورکرز کے گھر والوں کو ہے۔
مہاجرین کی 12 نشستوں کو تشکیل دیتے وقت کوئی بدنیتی شامل نہ تھی۔ یہ کشمیر کی حق خود ارادیت کے راستے کا ایک قدم تھا۔ مگر بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ نے کشمیر کی سرکار اور وسائل پر کنٹرول کرنے کے لیے جس انداز میں ان 12 نشستوں کو لگاتار استعمال کیا یہ نشستیں کشمیری عوام کے لیے ناقابل قبول بن گئیں۔
دراصل حق لینے کے لیے اٹھایا قدم حق مارنے لگا۔ جیسا کہ کوئی دشمن کے لیے خریدی بندوق اپنوں پر ہی تان دے۔
یہ دیکھیے بھائی کشمیر میں اتنے سارے را کے ایجنٹ گھس آے ہیں ‼️
چند بد بخت بیمار ذہنوں اور سیاسی بونوں نے سارے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے آج ملک کے ہر کونے میں اپنے حقوق کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اوکاڑہ کے کسان، گوادر کے باسی قبائلی علاقوں کے مکین سب مل کر آپ سے محض جینے کا حق مانگ رہے ہیں اور آپ کا لالچ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ان کو دو وقت کی روٹی دینے میں بھی قباحت ہے
سہیل آفریدی وہ بادام ہے جو فوج نے کچہ ہی توڑ لیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بتایا گیا ہے کہ وفاق سے مکمل تعاون کی صورت میں تحریک انصاف کو “ سپیس “ ملے گی۔ محسن نقوی سے ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں یہی طے پایا ہے۔ سہیل آفریدی کو سبز باغ یہ دکھایا گیا ہے کہ عمران خان “ سپیس “ جیسی نعمت ملنے پر خوشی سے پاگل ہوجائیں گے اور سہیل آفریدی کو اس عظیم کارنامے پر اپنا جانشین نامزد کردیں گے۔ فوج بھی مکمل تعاون کے بدلے عمران خان کو سہیل آفریدی کی سفارش کردے گی۔
اس سلسلے میں محمود اچکزئی , بیرسٹر گوہر وغیرہ بھی ضمانتیں دینے اور سہیل آفریدی کو یقین دہانیاں کروانے میں شامل ہیں۔ صدیق جان بھائی اور ان کا اسلام آبادی صحافتی ٹولہ و آئی ایس پی آر اپنے اثاثوں کی مدد سے اور اندر کی خبر والے نیٹ ورک کے ذریعے عمران خان کی رہائی ، سابق آرمی چیف سے ملاقات ، عمران خان قومی حکومت پر رضا مند اور وغیرہ وغیرہ والی خبریں تواتر سے چلا رہا ہے ، تاکہ سہیل آفریدی کو اور یوتھیوں کو یہ تاثر ملتا رہے کہ واقعی کچھ نا کچھ ہورہا ہے۔
تیسرا فیکٹر یہ ہے کہ سہیل آفریدی کو “ ناراض اراکین “ والی جھلکیاں بھی دکھائی جارہی ہیں ، نومئی اور دیگر کیسز پہلے سے موجود ہیں اور دس بیس سال کی قید ، وزارت اعلی کا چھن جانا وہ خوف ہے جو ساتھ ساتھ دکھایا جارہا ہے۔ وزارت اعلی جاتی دیکھ کر علی امین گنڈاپور علیمہ خانم کو ایم آئی کی ایجنٹ کہنے پر اتر آیا تھا سہیل آفریدی بھی اسی ہی کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے۔
فوج کسی نا کسی بہانے سے وقت لیتی جاتی ہے اور اس امید میں ہے کہ کوئی معجزہ ہوگا اور ملکی معاشی و سیاسی حالات بدل جائیں گے۔ اگر چار دن اچھے لگ جائیں جیسے بھارت سے جھڑپوں اور ٹرمپ کی پوسٹس کے دوران ہوا تو اوقات سے باہر ہوجاتے ہیں ، کوئی مشکل آپڑے ، تیل مہنگا ہوجائے ، نئے ٹیکس لگانے ہوں اور احتجاج شروع ہوجائیں جیسا کہ آجکل ہورہا ہے تو ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
فوج کی موجودہ پالیسیز کے ہوتے ہوئے ملکی حالات بہتر ہونے والے نہیں۔ عمران خان کی رہائی موجودہ نظام اور اسکے بینفشریز کی موت ہے۔ کچھ وقت بعد جب سہیل آفریدی پر سوشل میڈیا اور عوام کا دباؤ زیادہ آئے گا اور فوج حسب سابق ، حسب توقع “ سپیس “ نہیں دے گی تو پھر سہیل آفریدی کو اندازہ ہوگا کہ انکے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی کا ڈنگ مکمل نکل چکا ہے۔ عوامی پذیرائی ختم ہوچکی ہے ۔ فوج سہیل آفریدی کو یوتھیوں کے آگے پھینک دے گی ، ویسے ہی جیسے گنڈاپور کو استعمال کرکے پھینک دیا تھا۔ یوتھیے ا س کچے بادام کو چکھے بغیر پھینک دیں گے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔
پونچھ میں اس وقت قافلوں کی صورتحال یہ ہے کہ نہ کیمرے کی آنکھ سے انسانوں کے سیلاب کی منظر کشی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں عوام کو لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں
منڈہول سے قافلے ہجیرہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ شرکاء کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ مختصر یہ کہ جب قافلے کی پہلی گاڑی راولاکوٹ کی حدود میں داخل ہوگی، تب بھی آخری گاڑی ہجیرہ میں موجود ہوگی۔تمام بھائیوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے، آسانیاں پیدا کرے اور ہر مسافر کو خیریت کے ساتھ اس کی منزل تک پہنچائے۔
#جموں_کشمیر_جوائنٹ_عوامی_ایکشن_کمیٹی
#RightsMovementAJK
تمام قافلے اپنی اپنی جگہ پُرامن طور پر موجود ہیں۔ رات کے دوران کسی قسم کی گڑبڑ یا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ نوجوانوں کے حوصلے بلند ہیں اور شرکاء نظم و ضبط کے ساتھ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ان شاء اللہ اتحاد، صبر اور پُرامن جدوجہد کے ساتھ یہ سفر جاری رہے گا۔
سینئر صحافی حامدمیر نے پاکستان کے فیصلہ سزاوں کو مودی قرار دے دیا ؟؟؟
بھارت میں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والوں کے خلاف جو مودی کر رہا ہے
وہ گلگت بلستتان اور آزاد کشمیر میں اپنے حقوق مانگنے والوں کے خلاف آپ کر رہے ہیں
سینئر صحافی حامد میر کا انکشاف