Hayat Khan Khetran a journalist from Barkhan area of Balochistan was arrested today by FC. Local administration never disclosed any details about charges against Hayat Khan Khetran. Pakistan was dropped from 150 to 152 this year on world press freedom index. @RSF_inter
Yes I know Zakir Baloch came to Islamabad just few days before his assassination. He met some anti-establishment people. Some powerful people in Balochistan were not happy on his posting as DC. He once said that “we are a herd that grazes on conflicts”. Those who are beneficiary of the conflict have no right to condemn his murder.
حسینہ واجد نے اپنے ایک رشتہ دار جرنیل کو دسمبر 2023 میں سی جے ایس بنایا پھر چند مہینوں میں اسے آرمی چیف بنا دیا لیکن مرضی کا آرمی چیف جنرل وقار الزمان انکی حکومت کو بچانے میں ناکام رہا سبق یہ ہے کہ حکومتیں عوامی حمایت سے چلتی ہیں آرمی چیف کی حمایت سے نہیں چلتیں
Thousands have been protesting for nearly a week in the port city of Gwadar against a growing Chinese presence in Balochistan and what members of the Baluch community say is a pattern of "forced disappearances" that they blame on Pakistani authorities. https://t.co/zFzGbnWboq
Journalism is the first rough draft of history. Yet this draft remains silent on Baloch and Balochistan. Today, security forces opened fire on a sit-in in Gwadar, and news outlets, both national and international, are silent. Your journalism fails to represent oppressed people.
بلوچ راجی مچھی کے شرکاء اور ان کی حمایت میں سریاب روڈ کوئٹہ میں بیٹھے مظاہرین پر ریاستی جبر و بربریت کی مذمت کرتے ہیں
گزشتہ کئی دنوں سے ریاست بلوچ قوم پر مسلسل حشر برپا کیئے ہوئے ہے۔
جبر و تشدد کے ذریعے عوامی رائے کو دبانے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
سامراجی میگا پروجیکٹس اور ہماری قومی بقاء
بلوچستان گزشتہ سات عشروں سے ایک باقاعدہ سامراجی کالونی کی طرح مظالم اور جبر کا سامنا کر رہی ہے۔ بلوچ قوم ہزاروں سالوں سے اس سرزمین کا وارث ہونے کے باوجود اس سرزمین میں مہاجروں کی طرح زندگی گزار رہی ہے اور بلوچ سرزمین کو بلوچ قوم کے لیے حد سے زیادہ تنگ کیا گیا ہے۔ بلوچ اپنے گھروں میں محفوظ نہیں ہیں، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، جبری بے دخلیاں، فوجی آپریشن، روڈ ایکسیڈنٹ میں قتل اور دیگر متعدد ذرائعوں سے بلواسطہ یا بلاواسطہ بلوچ عوام کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔
جبکہ دوسری جانب اسی بلوچستان میں ریاست پاکستان ترقی، خوشحالی اور میگا پروجیکٹس کے جھوٹے دعوے کر رہی ہے۔ جس گوادر کو سی پیک کا مرکز قرار دیا جاتا ہے، اس گوادر میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی میسر نہیں ہے، شدید گرمی (۵۰ ڈگری) میں وہاں بجلی دن میں بمشکل چار سے چھ گھنٹے دی جاتی ہے، ماہی گیروں سے ان کی صدیوں پرانی روزگار کے ذرائع چھینے جا رہے ہیں، گوادر کے شہریوں کو اپنے گھروں میں جانے اور آنے کے لیے روزانہ تنگ کیا جاتا ہے، ان سے سوال پوچھے جاتے ہیں کہ کہاں سے آ رہے ہو اور کہاں جا رہے ہو، انہیں مسلسل ہراساں کیا جاتا ہے، گوادر کی نوکریوں پر غیر بلوچوں کو تعینات کیا جا رہا ہے اور سیکورٹی کے نام پر گوادر کو میگا جیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے، ہر کچھ کلومیٹرز پر فوجی کیمپ اور چیک پوسٹ بنائے گئے ہیں۔
اب ہمیں یہ بتایا جائے کہ یہ کون سی ترقی ہے جس سے ہماری زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں اور ہم اپنے ہی گھروں میں جیل کے قیدی بن گئے ہیں؟ یہ کون سی میگا پروجیکٹس ہیں جو ہماری زندگی میں خوشحالی لانے کے بجائے اذیت اور مشکلات لائی ہیں؟
بلوچستان کے حالات اور ریاستی ظلم و جبر کے بعد اب اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ریاست کو بلوچ عوام نہیں، صرف بلوچستان کی زمین اور وسائل عزیز ہیں اور یہ میگا پروجیکٹس بلوچ قوم کی خوشحالی کے لیے نہیں بلکہ بلوچ قوم کے استحصال کے لیے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں جب سے بلوچستان میں سی پیک سمیت باقی تمام نام نہاد میگا پروجیکٹس شروع ہوئے، اس دن سے بلوچ نسل کشی میں تیزی آئی ہے، سیکورٹی کے نام پر پورے بلوچستان کو ایک جیل میں تبدیل کیا گیا ہے اور بلوچ عوام کی زندگی دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ عوام کی اس حالت اور ان پر ہونے والے ظلم و جبر کے ذمہ دار ریاست پاکستان کے ساتھ چین سمیت ہر وہ ملک شامل ہے جن کے فنڈ اور پیسوں سے ریاست بلوچستان میں بلوچ نسل کشی کر رہی ہے۔
لیکن اب ہم، بلوچ عوام، بلوچ نسل کشی اور اپنے استحصال کے خلاف کسی بھی صورت خاموش نہیں رہیں گے۔ ہم بلوچ نسل کشی، نام نہاد میگا پروجیکٹس کے صورت میں بلوچ ساحل اور وسائل کے استحصال اور سیکورٹی کے نام پر بلوچستان کو ایک جیل میں تبدیل کرنے کے خلاف ایک ایسی عوامی تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں جو عوامی طاقت کی بنیاد پر بلوچستان میں ظلم، جبر اور بربریت کا خاتمہ کرے گی۔ ہم ریاست پاکستان اور چین سمیت تمام ممالک جو بلواسطہ یا بلاواسطہ بلوچ نسل کشی اور بلوچ ساحل اور وسائل کے استحصال میں شامل ہیں، ان سب کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اب مزید اپنی ہی سرزمین پر اپنی نسل کشی کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ بلوچستان میں بلوچ نسل کشی کا خاتمہ اور بلوچ قومی حق و حقوق کو تسلیم کرنا اب ناگزیر ہے۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی ۲۸ جولائی کو گوادر میں بلوچ راجی مچی(بلوچ قومی اجتماع) کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔ بلوچ قومی اجتماع بلوچ نسل کشی، نام نہاد میگا پروجیکٹس کے صورت میں بلوچ ساحل اور وسائل کے استحصال اور سیکورٹی کے نام پر بلوچستان کو ایک جیل میں تبدیل کرنے کے خلاف ایک تاریخی عوامی ریفرنڈم ہوگا اور ایک طاقتور عوامی مزاحمت کا آغاز بھی ہوگا۔
#بلوچ_راجی_مُچی
#BalochNationalGathering
بلوچ قوم ، بلوچ سماج اور بلوچ سرزمین پر تمام تر کالونیل ذہنیت اور سازشی عزائم سے پیدا کردہ مصنوعی اور غیر فطری قبائلی، طبقاتی، علاقائی، مذہبی، لسانی، جنسی، سرحدی، پارٹی بازی، گروہی مفادات، اور تقسیم کاری سے بالاتر ہو کر صرف عملاً بلوچ بن کر بلوچ راجی مچی 28 جولائی کو گوادر میں اپنی شرکت کو یقینی بنا کر بلوچیت کا ثبوت دینا ہر بلوچ کا قومی فرض ہے۔
اگر بلوچ اور بلوچ سرزمین کو بچانا ہے تو بلوچ کے پاس اب اٹھنے، جاگنے اور میدان میں نکلنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ ہمارے پاس متحد ہونے اور بحیثیت ایک زندہ قوم ثابت کرنے اور پوری دنیا کو یہ بتانے کا وقت ہے کہ بلوچ اب مزید اپنی سرزمین پر اپنی نسل کشی برداشت نہیں کرے گا۔
بلوچ راجی مچی تمام تر تقسیم و سازشوں کو پس پشت ڈال کر بحیثیت ایک قوم متحد ہونے کا تاریخی اور سنہری موقع ہے۔ اس موقعے کو ضائع کرنے کے نقصانات "بلوچ قوم" کو ہوں گے اور موقع سے قومی و اجتماعی فائدہ حاصل کرنا قومی بقاء ہے۔
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مچی
Baloch woman Fazila Mastianzai was injured when Frontier Corps opened indiscriminate fire towards the civilian population in Kharan. Such tragic incidents are normal occurrence in Balochistan. State atrocities against Baloch masses is clearly identifying the systematic destruction of Baloch Nation.
#StopBalochGenocide
During the recent PEN Norway conference, Dr. Mahrang Baloch, leader of the Baloch Yakjehti Committee (BYC), shared her thoughts about the oppression faced by the Baloch people. She highlighted the ongoing oppression in Balochistan and the disturbing cases of enforced disappearances.
Unethical Pak army is flying surveillance drones over Sui all day. Even now, drones are hovering over our homes. There is no electricity in Dera Bugti, forcing women & children to sleep outside. Using drones, Army is recording everything happening in & around our homes. @HRCP87
Unethical Pak army is flying surveillance drones over Sui all day. Even now, drones are hovering over our homes. There is no electricity in Dera Bugti, forcing women & children to sleep outside. Using drones, Army is recording everything happening in & around our homes. @HRCP87
It was an honor meeting the two young, resilient children of the brave and courageous Nargis Mohammadi, the Nobel laureate of 2023, at a reception dinner organized by the Norwegian Helsinki Committee. The event was chaired by the head of the Norwegian Nobel Prize Committee and Norsk PEN Secretary General, Jørgen Watne Frydnes. It was also an honor to meet Elisabeth Eide, the Norwegian journalist and an ex-professor. Women from Iran and Balochistan face similar challenges. We hope to keep meeting and continue this cooperation in the future.
@PEN_Norway
#MarchAgainstBalochGenocide