It’s worth recalling again that while Nawaz Sharif was allowed a weekly meeting with about 100-150 people which included party workers/leaders, doctors, lawyers, Imran Khan has been denied this basic right for over 8 months. Even during periods of martial law, no political leader was ever denied this facility.
ہر منگل کو ملاقات نا کروانے میں شاید وہ اپنی طاقت منوانا چاہتے ہیں مگر ہر منگل سب سے زیادہ نفرتیں بٹورتے ہیں۔ دنیا میں کم از کم ۹۹٪ پاکستانی اس وقت چاہتے ہیں کہ عمران خان رہا ہوں، اور وہ روز طاقت کے ناجائز استعمال دیکھ کر نظام سے نفرت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ باہر سے تو انویسٹمنٹ آ ہی نہیں رہی اور ملک کے اندر بےچینی کی وجہ سے کوئی اندر سے بھی انویسٹمنٹ نہیں کر رہا۔ لوگوں کا حال کافی برا ہے اور جب وہ یہ بولنے کی آزادی محسوس نہیں کرتے تو نفرتیں اور بڑھتی ہیں۔
اگر یہ سودہ فائدہ مند نظر آتا ہے انہیں تو ان سے زیادہ بدنصیب شاید کوئی نہیں۔
عمران خان کو تکلیف دینے کے لیے پوری قوم کا پہلے بھروسہ توڑا اب روز بد دعائیں اور نفرتیں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ایک گھاٹے کا سودہ ہے، آج نہیں تو کل اس ظلم کا ایک ایک لمحہ پچھتائیں گے عاصم منیر، ان کی ٹیم اور شاید”اللہ کی فوج“ ۷ لاکھ سپاہی بھی، جو دیکھ سب کچھ رہے ہیں مگر قیادت سے سوال نہیں کرتے کہ عمران خان کے جیل کے حقوق کیوں نہیں دیے جا رہے ۔
طاقت ہمیشہ نہیں رہے گی۔ یہ وقت مشکل عمران خان اور پاکستانیوں کے لیے بہت مشکل ضرور ہے مگر حق پر ہونا کافی حوصلہ بھی دیتا ہے۔ کوئی ہار نہیں مانے گا۔ سب سے اچھی تجویز ظالموں کے لیے یہ ہے کہ عدالتیں آزاد کریں ، اللہ سے اور پاکستان کی عوام سے معافی مانگیں اور انصاف کا جمہوری نظام قائم ہونے دیں۔
گزشتہ مالی سال میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1564 ارب روپے وصول کیے۔ کروڑوں موٹر سائیکل چلانے والے اور بسوں میں سفر کرنے والے کم آمدن والے افراد نے اس ٹیکس کے ذریعے حکومتی خزانہ بھرا۔
بات نہ ہوتی اگر جہاز باپ کے پیسے سے خریدا ہوتا جہاز عوام کے خون پسینے کی کمائی سے خریدا تبھی بات ہوئی ، بے شرمو تم جہاز میں بیٹھ کر سیریں کررہے ہو اور عوام اپنے پیاروں کو غربت کے ہاتھوں مجبور بغیر کفن دفنانے پر مجبور ہے اوپر سے اتنی ڈھٹائی اور بے شرمی سے چوری پر سینہ زوری بھی کرتے ہو۔
1۔ دکھ درد عوام کے لئے۔2۔ آمدن کی فراوانی شرفا کے لئے۔3۔پاکستان سٹیٹ آئل کا منافع 15 ارب سے 38 ارب روپے۔4۔اٹک پٹرولیم۔کا 7۔78 ارب روپے سے14۔76 ارب 5۔پاکستان ریفائنری اب 293 ارب روپے سے 25 ارب روپے۔
6۔ خریداروں کا لہو اب اور بھی ارزاں۔ائل۔کمپنیاں شاد و آباد۔
ڈاکٹر فرخ سلیم
آپ نے چھوٹی مریم کی رعونت اور اس کا تکبر تو دیکھا لیکن آپ نے سپیکر کی کرسی پر بیٹھے نمونے کی کمینی ہنسی نہیں دیکھی اور نہ ہی پیچھے ڈیسک بجاتی آنٹیاں۔۔ ان کو دیکھیں اور جانیں یہ سب مل کر آپ پاکستانیوں کا کیسے تمسخر اڑا رہے ہیں کیونکہ 11 ارب کا جہاز کسی کے جہیز میں نہیں آیا ، یہ ہم پاکستانیوں کی دیا سلائی سے لے کر گاڑی تک کے ٹیکسوں سے خریدا گیا ہے۔اسکی maintenance کا خرچہ ،اس تیل کا خرچہ اس کے پائلٹس تک کا خرچہ ہم پاکستانیوں کی کمائی سے جا رہا ہے جن پر درجہ چہام کی کنیز خاص اور ہم نوا مل کر ہنس رہے ہیں اور چیلنج کر رہے ہیں اکھاڑ لو جو الھاڑنا ہے ۔
جہاز خریدا ہے بھئی
گندی ویڈیوز سے بلیک میل کیا ہے بھئی
الیکشن مینڈیٹ چھینا ہے بھئی
فوج سے ڈیل کی ہے بھئی
جعلی میڈیکل رپورٹس بنائی ہیں بھئی
اثاثوں کی منی ٹریل نہیں ہے بھئی
مشرف سے بھی ڈیل کی تھی بھئی
یاسمین راشد سے ہارے ہیں بھئی
مہر شرافت سے ہارے ہیں بھئی
سیٹیں سترہ ہی ہیں بھئی
خریدا ہے بھئی
یہ بات محترمہ مریم اورنگزیب نے پنجاب اسمبلی میں دس ارب روپے کا جہاز خریدے جانے پر سوال اٹھانے والے کو جواب میں کہی ہے۔ یہاں اکثر وہ افسانہ پوسٹ ہوتا رہتا ہے جس میں ایک شخص شدید گرمی میں ایک طوائف کے ہاں جاتا ہے وہ ڈبل اے سی لگا کر کمبل اوڑھے سو رہی ہوتی ہے۔ شخص حیرت سے استفسار کرتا ہے کہ بہت بل آئے گا تو وہ جواب میں کہتی ہے کونسا میں نے دینا ہے۔ وہی شخص ایک سرکاری دفتر جاتا ہے جہاں ایک افسر یونہی اے سی فل کیے بیٹھا ہوتا ہے آدمی کے اعتراض پر کہتا ہے بل کونسا ہم نے دینا ہے۔ پھر وہ ملاقاتی طوائف اور افسر کا موازنہ کرتا ہے۔
یہاں محترمہ مریم اورنگزیب کا اس افسر اور اس طوائف کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ خریدا ہے بھئی اور بل کونسا محترمہ مریم اورنگزیب نے دینا ہے اور اتنی تڑی اس لیے کہ کونسا ووٹ لیکر آئے ہیں اور اگلی اہم بات کہ اکثر پنجاب کی ایک طاقتور منسٹر کی کبھی دوبئی میں پراپرٹی کی تفصیلات آجاتی ہیں تو کبھی لندن کی۔ خریدے ہیں بھئی کونسا یہاں رہنا ہے، خریدے ہیں بھئی۔
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
جب ہم چھبیسویں ترمیم کے بعد والی عدالتوں کے ججوں کے پاس کیس لے کر گئے تو ان کی شکلوں پر کیا تھا؟ جج سومرو میں عاجزی نظر آئی اور وہ شرمندہ لگے، لیکن جج ڈوگر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ پورا مینڈیٹ لے کر آیا ہے عمران خان کے خلاف فیصلے دینے کا۔ وہ عہد کر کے آیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں رکھنا ہے۔ جج ڈوگر نے ایک بار بھی انسانیت نہیں دکھائی کہ عمران خان اور بشری بی بی آٹھ ماہ سے قید تنہائی میں ہیں۔
عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے عدالت کی عمارتیں بنی ہیں، ان کے پاس پروٹوکول اور گارڈز ہیں، یہ سب عوام کے پیسے سے ہیں۔ اگر انصاف نہیں دے سکتے تو یہ عدالتیں بند کر دیں اور بتا دیں کہ اوپر سے حکم آیا ہے۔ علیمہ خان
ڈاکٹریاسمین راشد صاحبہ نے کورونا کے دوران بطور وزیرِ صحت پنجاب آؤٹ اسٹینڈنگ کام کیا اور لاکھوں انسانوں کی جانیں بچانے میں کردار ادا کیا۔ اگر وہ کسی اور ملک میں ہوتیں تو انہیں وہاں کا اعلیٰ ترین اعزاز دیا جاتا، جبکہ یہاں انہیں عاصم منیر اور فوج کے حکم پر جیل میں ڈال رکھا ہے، اور قصور صرف پی ٹی آئی سے وابستگی اور عاصم منیر کے لیڈر نواز شریف کو ہرانا ہے۔
راولپنڈی اور لاہور، زندہ ریٹائرڈ جرنیلوں کے وہ قبرستان ہیں جہاں آج بھی وہ انقلاب سے قبل والے فرانسیسی شاہی خاندان کی طرح زندگی گزار رہے ہیں!
پاکستان ان کے لئے رعایا سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ ایک ریٹائرڈ جرنیل کو آج بھی 5 سے 7 فوجی سٹاف بشمول کک، ڈرائیور، فون آپریٹر ،مالی، ویٹر، بیٹمین اور گارڈ مہیا ہوتا ہے جس کی تنخواہ قومی خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔
بھارتی جرنیل ریٹائرمنٹ کے بعد 3 بیڈروم کے اپارٹمنٹ میں النے خرچے پر رہتا ہے، اور پاکستانی جرنیل کا سمر ہاؤس، فارم ہاؤس، مین ہاؤس، گاؤں میں حویلی، لندن اپارٹمنٹ اور نیو یارک اپارٹمنٹ ایک عام سی بات ہے۔ بھارتی جرنیل پینشن پر گزارا کرتا ہے، اور پاکستانی جرنیلوں کے کمرشل پلازوں کے کرائے ہی کروڑوں ماہانہ میں موصول ہوتے ہیں۔
اب ایسے میں یہ ملک کیسے اور کیوں چل رہا ہے؟ اللہ کے رازوں میں ایک بڑا راز یہ بھی ہے۔
نہ تو عمران خان مجرم ہیں اور نہ ہی وہ جیل میں کوئی سزا بھگت رہے ہیں۔ عمران خان کو فوج نے زبردستی اغوا کر کے اپنی گرفت میں رکھا ہوا ہے۔
عمران خان کو ان اغواکاروں سے آزاد کروانے کے لیے پاکستانی عوام کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں!
یورپ میں گرمی کی لہر آئی تو گورے مرنے شروع ہوگئے۔ صرف سپین میں دو سو سے زائد لوگ مرے ہیں۔ لوگ گھر چھوڑ کر مہنگے ہوٹلوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
اور یہ گرمی ویسی نہيں ہے جیسی پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں ان مہینوں میں سورج آگ برساتا یے۔ جب آسمان دے آگ برس رہی ہے اور زمین کوئلے کی طرح دھک رہی ہے تو یہ بےگناہ انسان، پاکستان کا سابق وزیراعظم، قومی ہیرو، دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان، ایک تندور نما کوٹھڑی میں قید ہے۔ یہ تیسری گرمیاں ہیں جو اس نے یہاں گذاری ہیں۔
جس ملک میں اتنا ظلم ہو۔ ایسا جبر ہو۔ کبھی اس ملک میں برکت آسکتی ہے؟
دعا کریں ہم پر آللہ کا قہر نازل نہ ہو۔ ہم نے جبر کے سامنے کمزوری اور بزدلی کی انتہا کر دی ہے۔ خاص کر ہماری پڑھے لکھے طبقے نے۔ 😢
A brilliant effort to voice over this write up about the most well-known missing person of Pakistan. Imran khan is essentially a missing person now.
@MoeedNj@ImranRiazKhan
Imagine the low rationality of those over the moon about the mediation role of this illegitimate regime and can't deduce that it got the role by sucking up to Trump, played a mere secretarial role of passing msgs back and forth in it and that it will not bring any major benefits to Pak and may actually harm it badly economically, politically and security-wise.
Imagine the low morality of those who can deduce all this but are still over the moon about the role.