~*میں وہ لڑکا ہوں جس نے مُخلصی کی آخری حدود کو چُھوا مگر پھر بھی خالی ہاتھ رہ گیا، میں خُوش نہ سہی مطمئن ہوں کہ میں نے رشتوں میں بے وفائی نہیں کی* ✨🔐♥~
#اردو_زبان
وہ سوچتے ہیں کہ جبر سے نظام چلایا جا سکتا ہے، وہ غلط ہیں۔ عمران خان وزیرِاعظم بننا ہی بننا ہے۔ وقتی طور پر آپ کچھ روک سکتے ہیں، مگر پی ٹی آئی کا دوبارہ اقتدار میں آنا طے ہے۔ جبر کے ذریعے اس کی مدت تو بڑھا سکتے ہیں، لیکن یہ نظام اب زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ اسد طور
#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
عمران خان کو کس چیز کی سزا دی جارہی؟ ان غلاموں نے عمران خان کی حکومت کیوں گرائی؟ کیونکہ اس نے Absolutely not بولا تھا، اس نے کافروں کی زمین پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیا،مسلمانوں کا مقدمہ لڑا، عمران خان کی حکومت میں پاکستان ترقی کررہا تھا، مزدور، کسان، خوشحال تھا لیکن ان امریکی غلاموں نے امریکی حکم پر ایک محب وطن لیڈر کو ہٹایا۔ جب سے عمران خان کو ہٹایا پاکستان تباہی کی طرف جارہا ہے۔ معیشت تباہ، زراعت، کسان تباہ لیکن ان کو کوئی فکر نہیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پانچ ہزار ارب کی کرپشن کی ہے لیکن کسی کو فرق نہیں پڑتا ایک بندے کو فرق پڑتا تھا جو اس وقت جیل میں ہے اور آپ کا انتظار کررہا ہے کہ یہ قوم میرا مقدمہ لڑے گی یہ قوم مجھے انصاف دلائے گی"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
یہ خونی درندے بن چکے ہیں، یہ ایک ایک انسان کو زندہ کھا جائیں گے۔ کیا آپ ان کی گولیوں، ٹینکوں اور راکٹوں سے ڈرتے ہو؟ اگر آپ بندوق سے نہیں ڈرتے تو میں آپ سب کو لیڈ کروں گا، میں مقابلہ کروں گا، سہیل آفریدی
پچھلے پندرہ بیس سال کی تاریخ یہ بتاتی ہے جب حکومت صحافیوں کے ساتھ سڑکوں پر مار پیٹ کرنے لگے ان پر مقدمات بنانے شروع کر دے انہیں ڈرانے دھمکانے لگے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے حکومت کمزور ہو چکی ہے اب حکومت کسی طاقتور کو تو آنکھیں دکھانے کے قابل نہیں رہی لہذا صحافیوں پر رعب جما رہی ہے
عمران خان شاہانہ زندگی گزار رہے تھے، وہ آج بھی اگر اِن بھگوڑوں کی طرح ایک دستخط کر دیں تو جیل سے باہر آ جائیں گے،
لیکن عمران خان جیل میں سختی اور گرمی برداشت کر رہے ہیں،
میرے اور آپ کے اچھے مستقبل کی خاطر، سہیل آفریدی
سہیل آفریدی نے نہیں بتایا کہ اتنے مظالم کس نے کیے
سہیل آفریدی نے نہیں بتایا عمران خان کو قید کرنے والے کون ہیں
سہیل آفریدی نے نہیں بتایا کہ احتجاج کن کے خلاف ہونا ہے
یہ ایک کمزور شخص کی کمزور تقریراور کمزور لائحہ عمل ہے۔