یقین جانیں یہ اداکار ابوبکر اگر بالی وُڈ کے پاس ہوتا تو اس نے روز ناشتے میں ایک خان اور ایک کپور کھا جانا تھا اسوقت ہماری ڈرامہ انڈسٹری اپنے عروج پر ہے اگر ان ڈراموں کو ڈب کرکے دنیا کے مختلف ممالک میں دکھایا جائے تو انڈسٹری اربوں روپوں میں جاسکتی ہے اور سیاحت کلچر مفت میں پروموٹ ہوں گے
کورونا کے دوران عمران خان کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیے گئے ہسپتال کو عمران خان کی حکومت ختم ہوتے ہی بند کر دیا گیا، اور اب اسی ہسپتال کو دوبارہ کھولنے کا کریڈٹ لینے کے لیے آج اخبارات میں کروڑوں روپے کے اشتہارات دے کر اس کی دوبارہ بحالی کی خبر شائع کروانے والے 90ء کی دہائی کے سیاسی گند، جو ابھی تک اپنی بوسیدہ اور جھوٹی سیاست سے باہر نہیں نکل سکے، Gen Z کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
ان بے شرموں سے کوئی پوچھے کہ آخر یہ ہسپتال بند کیوں کیا تھا اور دوسری بات کہ یہ اخبارات پڑھتا ہی کون ہے اب؟!
تمہارے بعد مِرے زخمِ نارَسائی کو
نہ ہو نصِیب کوئی چارہ گر ، دُعا کرنا
مُسافتوں میں، نہ آزار جی کو لگ جائے
مِزاج داں نہ مِلیں ہمسفر، دُعا کرنا
نشاطِ قُرب میں، آئی ہے ایسی نیند مجھے
کُھلے، نہ آنکھ مِری عُمر بھر ، د ُعا کرنا
محبت کی طبیعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے !
امجد اسلام امجد
کوئی خُواب دشتِ فِراق میں ٫ سَرِ شام چہرہ کُشا ھُوا
میری چشمِ تر میں رُکا نہیں ٫ کہ تھا رَتجگوں کا ڈَسا ھُوا
تیری چَشمِ خُوش کی پناہ میں ٫ کسی خَُواب زار کی راہ میں
میرے غم کا چاند ٹھہر گیا ٫ کہ تھا رات بھر کا تَھکا ھُوا
امجد اِسلام امجد
بریکنگ نیوز 🚨محسن نقوی اور کامران مرتضی میں لڑائی شدید لڑائی ہوگئی 🔥🔥
محسن نقوی بولا : ان کے لیے ریاست تب ماں ہوتی ہے جب یہ اسے نچوڑتے ہیں۔ جب تک مال ملتا رہے اس وقت تک ریاست بہت اچھی ہوتی ہے اور جب حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دو۔
جس پر کامران مرتضیٰ نے کاؤنٹر اٹیک کرتے ہوئے کہا : یہ مولانا کے پاس 24 گھنٹے بیٹھے ہوتے تھے وہاں سے ہلتے نہیں تھے۔ منتیں ترلے کرتے تھے، آج اپنی اصلیت دیکھا رہے ہیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں تُم کس کے پالتو ہو، تمہاری تو دو ٹکے کی اوقات نہیں۔
جناب خواجہ آصف صاحب بھی تشریف فرما ہیں۔ دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے، دفاعی وزیر یہاں بیٹھا ہوا ہے۔کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی گفتگو پر ایوان میں قہقہے