شیخوپورہ کے دس سالہ معصوم بچے کا جرم صرف
اتنا تھا کہ اس کا رکشہ ایک سرکاری گاڑی کے سامنے آگیا۔
مبینہ طور پر سرکاری گاڑی کو راستہ نہ دینے کے
معمولی تنازع پر پولیس اہلکاروں نے سنگدلی کی
انتہا کر دی اور سرکاری گاڑی سے رکشے کو ٹکر مار دی۔
پھر اسی پر بس نہیں کیا گیا
بلکہ بچے کو پکڑ کر تشدد کرنا شروع کر دیا
جس کے نتیجے میں بچے کی جان چلی گئی
کم عمری میں رکشہ چلوانا والدین کی غلطی ہے
لیکن اتنی بھیانک سزا کیوں دی گئی ؟؟؟
رکشے میں سوار دیگر افراد تو خوف کے مارے اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے، لیکن یہ بچہ جو اپنے معذور بھائی اور بوڑھے والدین کا واحد سہارا تھا، ظالموں کے ہتھے چڑھ گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، وردی میں ملبوس ان اہلکاروں نے اس ننھے سے پھول پر اس قدر بہیمانہ تشدد کیا کہ وہ اندرونی چوٹوں کی تاب نہ لا سکا۔
انسانیت سوز رویہ یہاں ختم نہیں ہوا، بلکہ اسے بے یار و مددگار اس کے محلے "غریب آباد" میں پھینک دیا گیا۔ جب اس کی تڑپتی ہوئی ماں، شمشاد بی بی نے اسے سہارا دیا تو بچے کا پورا جسم زخموں سے چور تھا۔ وہ اپنی ماں کی گود میں سسکتا رہا اور بالآخر دم توڑ گیا۔
کیا غریب ہونا ہی سب سے بڑا جرم ہے؟
حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ تھانے میں ایف آئی آر بھی "نامعلوم افراد" کے خلاف درج کی گئی ہے۔
کیا ان طاقتور ظالموں کا کوئی نام نہیں؟
ہم آئی جی پنجاب اور ڈی پی او شیخوپورہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس معصوم کے بے بس والدین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ان ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کسی غریب کا گھر اس طرح اجڑنے سے بچ سکے۔ اس آواز کو اتنا پھیلائیں کہ حکام بالا کے کانوں تک پہنچ سکے اور اس معصوم کو انصاف مل سکے۔
#JusticeForInnocentChild #JusticeForSheikhupuraVictim #IGPunjab #DPOSheikhupura #StopPoliceBrutality #HumanityRefuge #JusticeForPoor #PunjabPolice #PakistanNews #JusticeDelayIsJusticeDenied
@HaiderA50149074@nadra_csd@MohUmair87 سب سے پہلے اپنے بھائی کا کارڈ نادرا ایپ سے modify کرو اس میں married والے اپشن میں اپنی بھابی کی ڈیٹیل لکھو اور 100 روپے فیس پہ کرو پھر اپکی بھابی کا بن سکتا ہے
یہ لڑکا میٹلرجی کے شعبے سے وابستہ تھا اور کراچی میں’’ہنڈا اٹلس‘‘ میں ملازم تھا۔ اس لڑکے کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ لیڈ پکھلانے والی فرنس میں ایلومینیم پگھلانا ہے۔ یہ ایک خطرناک عمل تھا لیکن ہائر مینیجمنٹ نے دبائو ڈال کر یہ خطرناک تجربہ کرنے کا رسک لیا۔ فرنس پھٹ گیا اور یہ لڑکا اپنے چھے اور ساتھیوں سمیت جھلس گیا۔ حادثہ ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد تک محمد عامر زندہ رہا اور اس پوزیشن میں تھا کہ بیان دے سکتا، لیکن کمپنی مینیجمنٹ نے جان بوجھ کر ہسپتال پہنچانے میں دیر کی تاکہ جو جان باقی ہے وہ بھی ختم ہوجائے اور بیان نہ لیا جا سکے۔
چھے لوگ اس خطرناک تجربے کی بھینٹ چڑھے تو ’’ہنڈا اٹلس‘‘ نے اب فوت ہونے والے ورثا کو ڈرایا دھمکایا اور چند لاکھ پیسوں کا لالچ دے کر کہا کہ کہ تمہارا بندہ تو گیا اس دنیا سے۔ لیکن اگر قانونی کاروائی کے چکر میں پڑو گے تو جو چند لاکھ ملنے ہیں وہ بھی نہیں ملیں گے۔کپمنی نے ان ورثا سے سٹاپم پیپر پر لکھوا لیا کہ ہم عدالتی کاروائی نہیں چاہتے اور یہ ایک حادثہ تھا۔ باقی کے ورثا تو بیچارے خاموش ہوگئے لیکن محمد عامر کے بڑے بھائی ’’شریف اللہ‘‘ نے پاکستان کے پولیس اور عدالتی نظام سے مایوس ہوکر اس مقدمے کو سوشل میڈیا پر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ آج کے دور میں جب ایک طرف ’’ہنڈا اٹلس‘‘ جیسا سرمایہ دار ہے اور دوسری طرف ایک مڈل کلاس بڑا بھائی تو سوشل میڈیا ہی آخری امید باقی بچتی ہے۔ شریف اللہ صاحب کا مطالبہ ہے کہ
۔۔۔۔۔ایک انکوائری ہونی چاہئے کہ لیڈ والی فرنس میں ایلومینیم پگھلانے کا فیصلہ کس نے کیا ؟ جس کا فیصلہ تھا اسے کٹہرے میں لایا جائے
۔۔۔۔۔۔محمد عامر نے جھلس جانے کے بعد بڑے بھائی کو کال کرکے کہا کہ میرے آفس میں ایک ڈائری پڑی ہے جس میں آج کے تجربے کے بارے میں کچھ حقائق ہیں۔ اسکو پڑھاجائے لیکن وہ ڈائری کیوں غائب کردی گئی۔
۔۔۔۔۔۔حادثہ ہوتے ہی جگہ کو لاک کرکے فرنس کے آس پاس کی جگہ کی صفائی کردی گئی۔ کرائم سین سے شواہد کو کسکی اجازت پر صاف کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔کمپنی کو پتا تھا کہ آگ لگنی ہے اس لیے پہلے سے آگ بجھانے کا سامان پاس لاکر رکھا گیا ،لیکن جب پتا تھا کہ آگ لگنے کا اندیشہ ہے تو چھے لوگوں کو اس آگ میں کیوں جھونکا گیا۔
میں نے آج تک آپ لوگوں سے اپنی کسی ذاتی تحریر کو شئر کرنے کی درخواست نہیں کہ لیکن یہ تحریر میں نے شریف اللہ اور محمد عامر کے لیے لکھی ہے۔ میں اس پوسٹ کے ساتھ ضروری لنکس نتھی کر رہا ہوں۔ آپ لوگ ان کی وال پر جائیے اور مزدروں کا ساتھ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر انکی آواز کو اٹھائیے۔ اگر عوام کا دبائو ہوگا تو پولیس اور عدلیہ خود بخود ایکشن لینے پر مجبور ہوگی۔
آپ کم از کم محمد عامر کی فیملی کی آواز تو دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔
مبشر اکرام
Tonight Israel butchered nearly 300 Palestinians in Gaza. Children incinerated. Families annihilated. Streets turned to graveyards. And the world just fucking watches.
If you’re scrolling, PLEASE leave a dot . it's just a dot.