اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی سفارتکار ملیحہ لودھی نے ایک کشمیری بچی کی تصویر لہرا کر دنیا کو بتایا تھا کہ بھارتی فورسز کشمیر میں پیلٹ گنز استعمال کر رہی ہیں۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے برسوں یہ مؤقف اختیار کیا کہ پیلٹ گنز کا استعمال غیر انسانی ہے، کیونکہ یہ لوگوں کو عمر بھر کے لیے اندھا کر سکتی ہیں۔
آج راولاکوٹ سے آنے والی تصاویر بھی ہمارے ضمیر پر دستک دے رہی ہیں۔ مقامی صحافیوں اور عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین پر براہِ راست گولیاں چلائی گئیں۔ اگر انسانی حقوق ایک آفاقی اصول ہیں تو ان کا اطلاق یہاں بھی ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سرحد کے اُس پار۔
مجھے افسوس ہے کہ جسے ہم نے برسوں “شہ رگ” کہا، آج اسی کو لہولہان کر دیا
سپر سی ایم محترمہ @MaryamNSharif صاحبہ ، @CMComplaintCell ادارے کی سربراہ @SaimaFarooq صاحبہ ، حنا پرویز بٹ صاحبہ @hinaparvezbutt
فروری 2026 میں میرے ایک محلے دار نے مجھے اور میرے بہن بھائی کو زبردستی میرے گھر سے بےدخل کرنے اور نکالنے کیلئے مجھے شدید زودوکوب ، مارپیٹ اور تشدد کیا جسکی ایف آئی آر ایک ہفتے بعد سی ایم کمپلینٹ سیل میں شکایت کے بعد بمشکل درج کی گئی پولیس کی تفتیش میں میرا مجرم مجھ پر تشدد کا گناہ گار قرار پایا مگر پاکستان کے بہترین نظام انصاف کی مہربانی سے وہ ضمانت پر رہا ہو گیا اور آزاد گھوم رہا
اب کل پھر دوپہر کے وقت میں وہی مجرم پھر سے غنڈہ گردی کرنے آیا ، اب کی بار اسکے گھر کے سات آٹھ لوگ بھی ساتھ تھے ۔ اس مجرم مرد نے میری بہن کے اوپر بیٹھ کر اسکو شدید مارا پیٹا زودو کوب کیا جسکے نتیجے میں میری بہن کو گہری اندرونی چوٹیں لگی اور گردہ شدید زخمی ہوا ہمیں کھلے عام قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور ہم پر فائرنگ بھی کی گئی میرے بھائی اور مجھے بھی سب نے ملکر مار پیٹ اور تشدد کر کے زخمی کیا جسکی ون فائیو پر کال کے بعد پولیس نے بھی تصدیق کی اب میں سرکاری ہسپتال ہم سب کا میڈیکل کروانے گئی جو پانچ گھنٹے یسپتال میں رہنے کے باوجود مکمل نہیں ہوا مایوس ہو کر گھر لوٹی تو مجرمان نے دیدہ دلیری سے میرے گھر کی فرنٹ دیوار توڑ کر میرے گھر کا پردہ ختم کر دیا مجبورًا پھر سے ون فائیو اور وومن پروٹیکشن سیل کو کال کی پولیس کو درخواست دینے اور تین بار مختلف اوقات میں ون فائیو پر کالز کے باوجود ایس ایچ او نے نہ اب تک موقع ملاحظہ کیا ، نہ مجرمان کو گرفتار کیا گیا ، نہ میرے بارہا رابطے کے باوجود میری کالز کا رسپانس دینے یا ملاقات کرنے کرنے کی زحمت کی ۔
مریم نواز صاحبہ @MaryamNSharif کیا میں خاتون نہیں؟ کیا میں آپکی ریڈ لائن نہیں؟ کیا مجھے غنڈوں سے تحفظ نہیں دیا جائے گا؟ کیا میرے یا میرے بہن بھائی میں سے کسی کے قتل کے بعد ہی کوئی ایکشن لیا جائے گا؟ کیا میرے مجرمان کو ( جو آپکی ن لیگ حکومت کے ہی ایک بااثر شخص کی مہربانی سے ہر بار بچ جاتے ہیں) انکو پچھلی بار کی طرح اب بھی جان بوجھ کر ہلکی پھلکی ایف آئی آر کر کے دوبارہ مجھے اور میرے بہن بھائی کو قتل کرنے کیلئے آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا میرا خاتون ہو کر ہار نہ ماننا اتنا بڑا جرم ہے جسکی قیمت میری یا میرے بہن بھائی کی لاش سے چکانی پڑے گی؟؟؟ خواتین کی ہراسانی کیلئے جوا قوانین بنائے گئے ہیں کیا وہ میرے تحفظ کیلئے لاگو نہیں ہوتے؟؟؟
@OfficialDPRPP@AzmaBokhariPMLN@AmjadHafeez19@HRCPakistan
Today, the body of our neighbor was found buried and decomposed.
He had been wounded and left bleeding for three days during the last evacuation from northern Gaza.
When he realized he would not survive, and that no one could reach him, he made his final decision.
He covered himself with soil and buried himself while in prostration.
Now, his remains were found in that same position still in sujood.
His body was discovered beside a tree he chose as his final resting place.
He left a sign for his family… his ring tied above the soil with a thread, along with a small branch from the tree, so they could find him.
Even in his final moments, he thought of them.
Even in death, he left a message of dignity, faith, and farewell.
This is not just a story.
This is a life. A human being. A final act of strength in the face of unimaginable pain.
My journey with the Neo News TV has abruptly come to an end. I want to thank my organization for all the help and facilitation during three and half years period. This is not the first time or the first government during which I have to face such a situation. Speaking for democracy, free speech, journalists and journalism is not a crime.
I once again thank Neo TV owner and management wish them all the best in their organisational endeavours.
#JournalismIsNotAcrime
گوادر جیونی میں بی ایل اے نے ہزاروں بلوچوں کا روزگار داؤ پر لگادیا ہے ۔جیونی کے تقریباً 80 سے 90 فیصد لوگوں کا روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے۔ یہ لوگ مچھلیاں پکڑ کر گزر بسر کرتے ہیں لیکن بی ایل اے نے پہلی بار اپنے دہشتگرد ان ماہی گیروں کے درمیان بھیجے جنہوں نے عام کشتیوں میں سفر کیا اور پیٹرولنگ کرتی کوسٹ گارڈ پر اچانک گھات لگاکر حملہ کردیا ۔
جب دہشت گرد ماہی گیروں کی کشتیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تو سکیورٹی فورسز (کوسٹ گارڈ اور نیوی) کے لیے ہر کشتی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا مجبوری بن جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سمندر میں جانے اور واپس آنے پر سخت تلاشی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس طرح کے حملوں سے بی ایل اے نے درحقیقت ان غریب بلوچوں کی پشت پر چھرا گھونپا ہے جن کے حقوق کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ جب عام کشتیوں کو جنگی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو حتمی نتیجہ غربت اور بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے۔
ساجد علی ساکن بوریوالہ جو کافی سال دبئ میں رہنے کے بعد پچھلے چھ ماہ سے لاہور میں اپنا بزنس چلا رہے ہیں۔۔ چند دن پہلے اپنے گاؤں میں آئے ہوئے تھے تو لاہور کی پولیس نے انہیں ان کے گاؤں 367EB گگو منڈی سے چوری کی ایسی فیک FIR میں گرفتار کر لیا، جس میں ان کا کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔۔ صرف نام ساجد علی ہونا ہی ان کا جُرم تھا۔۔ FIR کی تاریخ والے دنوں میں ساجد علی پاکستان میں تھے ہی نہیں بلکے دبئ میں تھے جس کا ثبوت انہوں نے اپنے پاسپورٹ پر انٹری ایگزٹ سٹیمپ دکھا کر دیا۔۔ اس کے باوجود لاہور پولیس نے انہیں دو دن حبسِ بے جا میں رکھا اور تذلیل کی انتہاء کر دی، آخر میں اُن کے ورثاء کو CCD کے ذریعے قتل کا ڈراوا دے کر پانچ لاکھ رشوت کے عوض چھوڑا۔۔ یہ سراسر پنجاب پولیس کی جانب سے وردی کا استعمال کر کے اغواء برائے تاوان کا کیس ہے جس میں تھانہ شاہدرہ کی عمارت میں ایک بے گناہ انسان قید رکھا گیا
جب افغان پٹرول جہاد شروع ہوا اکثر پاکستانی عرب ہوگئے۔ پھر طالبان کے وقت میں اکثر پاکستانی افغان ہوگئے، پھر خان صاحب آئے اکثر پاکستانی ترک ہوگئے، پھر اب ایران آیا ہے تو اکثر پاکستانی ایرانی ہوا چاہتے ہے۔
اتنا اپنے آپ سے نفرت کرتی قوم میں نے کہیں نہیں دیکھا جو ہر دوسرے شخص سے اتنا متاثر ہوتے ہے کہ اپنے لوگوں کو، اپنے وجود تک کو گالی دیتے ہے۔
معاملہ لباس کا نہیں، نہ معاملہ عورت کا ہے۔
اور ہاں یہ صرف ظاہری بناو سنگھار سے متاثر ہوتے ہے، کھبی کردار میں سچائی، گفتار میں ایمانداری، صفائی نصف ایمان، لین دین میں صفائی آپکو نظر نہیں آئے گی۔ ایک قوم کا اخلاقی اسلامی معاشرتی زوال کی داستان آپکو اسکے لائن توڑتے بچے اور بزرگ کے روئے سے واضح نظر آتی ہے اور اسکا تعلق لباس سے نہیں ہے۔
اسلام جاھل قبائلی رسومات کے کیخلاف انقلاب کی صورت میں نازل ہوا، آج مولانا فضل الرحمنࣿ فرسودہ قبائلی روایات کو اسلام کے نام پر معاشرے پر مسلط کرنا چاھتے ہیں،کم عمر بچیوں کو فروخت کرنے ان سے جبراٰ شادیاں کرنا اسلام کے خلاف ہے اور ان رسوم و رواج کو اسلم کے نام پر نافذ کرنا دین کو بدنام کرنے کے مترادف اور حرام ہے !!
Today 77th day of illegal incarceration for @ImaanZHazir & @AdvHadiali bec of illegal conviction order by Judge Majoka premised not on law or due process but on vengeance! Now IHC CJ Dogar's vengeance by sitting on early hearing appeals! All abt vengeance, never abt law & justice. #ReleaseImaanAndHadi