کیمیا گر! پرکھ تو سہی
اور پرکھ کر ہمیں بتا
کون سی دھات کے خواب ہیں
جو پگھلتے نہیں اور بکھرتے نہیں خاک پر
کیمیا گر!
ہمارے دکھوں کا مداوا نہ کر
زرِ خواب سےآنکھ خالی ہوئی
پاس کچھ بھی نہیں
کچھ پرکھ توسہی!
کچھ بتا تو
سہی!
کون سی دھات کے خواب ہیں
جو پگھلتے نہیں اور بکھرتے نہیں خاک پر!
اس وقت تو یوں لگتا ہے
اب کچھ بھی نہیں ہے
اور دل کی پناہوں میں
کسی درد کا ڈیرا
شاخوں میں خیالوں
کےگھنے پیڑ کی شاید
اب آ کے کرے گا نہ
کوئی خواب بسیرا
اک بَیر، نہ اک مہر،
نہ اک ربط نہ رشتہ
مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے
لیکن مرےدل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے
ہمت کرو جینےکو تو۔۔۔💔
چلا میں روٹھ کر، آواز تک نہ دی اس نے
میں دل میں چیخ کے کہتا رہا پکار مجھے
وفا کے نام پہ جو قتلِ اعتبار کریں
خدایا ایسوں کی بستی میں مت اتار مجھے
نصیب ہوتی نہیں منزلیں یہاں پہ اسیر
رہِ وفا کا یہ کہتا رہا غبار مجھے
@AsadRaiasad05 شدید اتنا رہا تیرا انتظار مجھے
کہ وقت مِنتیں کرتا رہا، گزار مجھے
میں تیرا میرا تعلق بچاتے جاں سے گیا
تُو پھر بھی اپنوں میں کرتا نہیں شمار مجھے
@AsadRaiasad05 شدید اتنا رہا تیرا انتظار مجھے
کہ وقت مِنتیں کرتا رہا، گزار مجھے
میں تیرا میرا تعلق بچاتے جاں سے گیا
تُو پھر بھی اپنوں میں کرتا نہیں شمار مجھے
دلِ غمزدہ! ترے چارہ گر تری خاک چارہ گری کریں
کہ "عدیمِ سوزشِ عشق" سے ہو ترا علاج؟ محال ہے!
میں جنوں کی آگ میں جل بجھا، مری راکھ راکھ بکھر گئی
اسے دنیا موت سمجھتی ہے یہی طوؔری! اذنِ وصال ہے
[نگار طوری]
ابھی ساز ہے ترے ہاتھ میں، ابھی تار تار دھمال ہے
ابھی رقص میں ہیں سماعتیں، ابھی وجد شامل حال ہے
میں ہوں اپنے عشق سے بدگماں،کہ ہنوز ہوش بحال ہے
مرا صبر میرے وفورِ غم پہ دلیل ہے،کہ سوال ہے
یہی سلسلہ رہے ربط کا، کہ میں عادی ہوگیا ضبط کا
تری جفاؤں کی انتہا، نہ میرے جنوں کو زوال ہے