اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ تمام قوم سجدہ شکر بجا لائے۔ عمران خان صاحب کی صحت کے حوالے سے قابل اعتبار اطلاع اور انکی صحت کی مکمل بحالی ہمارا اولین مقصد ہے۔ آج خان صاحب کی مجھے سیکریٹری جنرل بنانے کی حکمت مجھ پر واضح ہوئی۔ پچھلے منگل رجسٹرار سپریم کورٹ نے مجھ سے ملاقات میں اس ہفتے خان صاحب کے مقدمات لگانے کی یقین دہانی کرائی۔ آج دوران سماعت عدالت عظمیٰ نے میری یقین دہانی پر انحصار کیا۔ اس انحصار اور اعتبار کے پیچھے میری پینتیس سالہ بے داغ وکالتی زندگی ہے۔ میں نے پارٹی کی جانب سے یقین دلایا کہ خان صاحب کا کوئی وفادار شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے گرد و نواح میں ہجوم پیدا نہیں کرے گا۔ ہم سب کو اس وعدے کا پاس رکھنا ہے۔ خان صاحب سے انکی بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کی ملاقاتوں میں ہمارا کوئی عمل رکاوٹ نہ بنے۔ اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرمائے گا۔
جھوٹ اور ظلم کی شکست یقینی ہے۔ ہم حق کی بات، غریب کی بات، انسانیت کی بات، عمران خان صاحب کے تاریخ ساز عزم اور رہائی کی بات کرتے رہیں گے۔ ۵ اگست کو عمران خان صاحب کی ناحق قید کے تین برس پورے ہو رہے ہیں۔ اب نکلو۔ وطن کی خاطر، سچ کی خاطر، اپنے اور اپنی نسلوں کی خاطر، عمران خان کی خاطر۔
“All means of removing me from the political landscape were used. There were two assassination attempts on my life.” @ImranKhanPTI writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/40WxGbb4EG
شکر الحمداللہ کہ میرے دونوں حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئی۔ مسلہ کاغذات میں نہیں بلکے وفاکاتھا۔ آج ��ھر سے عمران خان سے وفادار ہونے والوں میں شامل ہوا۔ کاغذات نامزدگی پر اللہ کا شکر گزار ہوں ورنہ مجھے بھی لوگ شک کی نظر پر دیکھتے۔ پی پی 155/157
#ظلم_کا_حساب_ووٹ_سے #8فروری
ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر قائم کی جانے والی 4 مفاہمتی کمیٹیوں کیجانب سے بھجوائی جانے والی درخواستوں پر نظرِثانی کے عمل کا آغاز میں کل سےکروں گاجو 26 اپریل تک جاری رہے گا۔
پہلےوفاق،اب پنجاب میں #Ehsaas راشن رعایت پروگرام کےتحت دی جانےوالی ٹارگٹڈسبسڈی ختم کردی گئی ہے۔ایسےمیں جب مہنگائی بلندترین سطح پرہے،کروڑوں شہریوں کو رعایتی خوراک و راشن سےمحروم کردیاگیاہے۔اس��ےبرعکس لوگوں کو مارنے،زخمی+ذلیل کرنےکیلئے1ماہ کے مفت آٹےجیسی ناپائیدار پالیسی جاری ہے
5 رکنی بنچ ہو یا فُل کورٹ،ہمیں اس سےکچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم صرف یہ جانناچاہتےہیں کہ انتخابات آئین میں فراہم کردہ مدت (90روز)کےدوران ہورہے ہیں یا نہیں!میں نےاپنی 2اسمبلیاں تحلیل کرنےسےقبل اپنے چوٹی کے آئینی ماہرین سے مشاورت کی اور ان سب کی متفقہ رائےتھی کہ انتخاب کے