کچھ حساب کتاب ہمارا بھی بنتا ہے!
ہماری 6 لاکھ فوج میں سے کم از کم 1 لاکھ فوج آزاد کشمیر کی حفاظت کے لیے 77 سال سے کھڑی ہے اور ایل او سی پر 10 لاکھ بھارتی فوج کا راستہ روکا ہوا ہے۔ اگر 6 لاکھ فوج کا 9 ارب ڈالر ہے تو 1 لاکھ فوج کا ڈیڑھ ارب ڈالر بجٹ بنتا ہے۔ انفلیشن ڈالیں تو 77 سال میں 100 ارب ڈالر یا 28000 ارب روپے تو ہم نے صرف آزاد کشمیر کی حفاظت پر خرچ کر دیے ہیں۔
کشمیر کی اپنی آمدن 120 ارب ہے اور خرچہ 310 ارب روپے ہے۔ 190 ارب روپے پاکستان دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے ایک ایک گھر میں دو دو سرکاری نوکریاں ہوتی ہیں چاہے کوئی کام نہ کریں۔ انفلیشن ڈالیں تو 77 سال کا 14000 ارب روپے یہ پاکستان دے چکا ہے۔
مفت بجلی، سستا آٹا اور پٹرول وغیرہ پر پاکستان جو سبسڈیز دیتا ہے انکا کوئی حساب نہیں۔
کشمیر کے لیے ہماری اتنی جنگیں اور لاکھوں جانیں جو گئی ہیں اسکا کوئی حساب نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب کے بدلے میں پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟؟
عوامی ایکشن کمیٹی کہتی ہے کہ ان سب کے بدلے ہم پانی دیتے ہیں۔ لیکن یہ سفید جھوٹ ہے۔ پانی مقبوضہ کشمیر سے نکلتا ہے اور آزاد کشمیر محض چند کلومیٹر کی گزرگاہ ہے۔ اس پانی کا فائدہ آزاد کشمیر بھی پورا پورا اٹھاتا ہے۔ اب عوامی ایکشن کمیٹی مقبوضہ کشمیر کو آزاد کشمیر سے الگ مانتی ہے۔ لیکن پاکستان مقبوضہ کشمیر کو اپنی شہ رگ مانتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام بھی 'کشمیر بنے گا پاکستان' کا نعرہ لگاتی ہے۔ اس سارے منظر نامے کو دیکھیں تو مقبوضہ کشمیر پاکستان ہے اور وہ پانی پاکستان کا ہے جو آزاد کشمیر کی عوام استعمال کر رہی ہے۔ کیا ہم بھی اس پانی کا حساب مانگیں؟؟
اگر 'کشمیر بنے گا پاکستان' پھر تو یہ ساری قربانیاں اور سب سمجھ آتا ہے۔ لیکن اگر آزاد کشمیر الگ ملک ہے یا عوامی ایکشن کمیٹی بھارت سے الحاق چاہتی ہے تو پھر تو جو کچھ ہم نے دیا وہ قرض ہے جو ہمیں ہر قیمت پر واپس چاہئے۔ پاکستان کیوں قربانیاں بھی دے اور گالیاں بھی کھائے؟
#Kashmir
#PakistanBridgesPeace
ڈی چوک کا ایکشن ری پلے!
ناظرین ۔۔۔!!
اس وقت پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں نے راؤلا کوٹ میں 100 بندے مار دیے ہیں۔
اس وقت سیکورٹی فورسز نے راؤلا کوٹ میں 1000 بندے مار دیے ہیں۔
نہیں جی مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔
میں نے خود دیکھا ہے چار پانچ گاؤں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔
ناظرین لاشیں سیکیورٹی فورسز نے غائب کر دی ہیں، زخمی غائب کر دیے ہیں اور ان کے لواحقین کو ڈرا کر چپ کروا دیا ہے۔
ویڈیوز بنانے کی اجازت نہیں ورنہ عوامی ایکشن کمیٹی آپ کو انکی ویڈیوز ضرور دیکھاتی۔
ناظرین یہ خون آلود اے آئی تصویر دیکھیں بلکل ایسا ہی ہوا ہوگا۔
کشمیریو اتنے ظلم کے بعد اٹھو اور ریاست پاکستان اور اس کی فورسز پر دھاوا بول دو۔
پی ٹی آئی اور انڈین سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس قسم کی پوسٹوں کی بھرمار ہے۔ یہ بلکل ڈی چوک والا ایکشن ری پلے ہے۔ جہاں یوتھیوں نے 4 اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ جواب میں انکی گرفتاریاں شروع ہوئیں تو سینکڑوں اور ہزاروں لاشوں کا واویلا ڈال دیا۔ ساتھ ہی یہی سب کہا کہ فورسز نے ایک گھنٹے کے اندر اندر سینکڑوں لاشیں غائب کر دی ہیں، ہزاروں زخمی غائب کر دیے ہیں، سارا خون غائب کر دیا ہے، اسپتال ریکارڈ غائب کر دیا ہے، گولیوں کے نشان غائب کر دیئے ہیں، چشم دید گواہ غائب کر دیئے ہیں، ویڈیوز اور تصاویر لوگوں کے موبائلوں سے غائب کر دی ہیں اور لواحقین کو چپ کروا دیا ہے۔ جب کہ کوئی ایک یوتھیا اس دوران ہلاک نہیں ہوا تھا۔
مطلب ان سالوں نے پوری قوم کو چوتیا سمجھا ہوا ہے۔ یاد رکھیں جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کے سر نہیں اتارے جاتے یہ فساد ختم نہیں ہوگا بےشک پورا پاکستان انکو بیچ کر کھلا دو یہ یہی کرینگے۔ جب تک اڈیالہ والا کتا پھانسی نہیں چڑھایا جاتا یوتھیوں کا پروپیگنڈا ختم نہیں ہوگا جو مرضی کر لو۔
#Kashmir
#PMLNGilgitBaltistan
#Pakistan
@njaved535 انکی زمین پاکستان نے خریدی ہے اور انکا پانی مقبوضہ کشمیر سے آتا ہے جن سے عوامی ایکشن کمیٹی علیحدگی کا اعلان کرچکی ہے تو ان پاور پلانٹس پر انکا کیا حق ہے؟
حقوق ۔۔۔ !!
پاکستانی یا مقبوضہ کشمیر کے کشمیری کو کوئی حق نہیں کہ وہ ۔۔۔
آزاد کشمیر میں زمین خرید سکے،
کاروبار کر سکے،
سرکاری نوکری کر سکے،
الیکشن لڑ سکے،
یا کوئی بھی عہدہ حاصل کر سکے۔
البتہ آزاد کشمیر کی عوام کو پورا حق ہے کہ وہ ۔۔
پاکستان میں نوکریاں کریں،
زمینیں خریدیں،
کاروبار کریں،
الیکشن لڑیں،
عہدے حاصل کریں،
پاکستان سے تہائی قیمت پر آٹا لیں،
پاکستان سے مفت بجلی لیں،
سالانہ 200 ارب کی گرانٹ لیں،
اور جی بھر کر مقبوضہ کشمیر کا پانی استعمال کریں۔
صرف ان کے حقوق ہیں باقی کسی کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ خدا کی قسم عوامی ایکشن کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ ساتھ بہت سے پاکستانیوں کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں۔
#Pakistan
#Kashmir
بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے!
ایک سال پہلے عوامی ایکشن کمیٹی نے اسی طرح پولیس والوں کو پکڑا۔ کچھ کو پہاڑوں سے گرایا۔ پھر ان کے ٹوٹی ہوئی ٹانگوں یا بازؤوں کے ساتھ انکو اوپر لے جاکر دوبارہ گرایا۔ کچھ کی وردیاں اتار کر انکی ننگی پریڈ کروائی اور خود کو سیلوٹ کروائے۔ 6 یا 7 پولیس والوں کو شہید کیا پھر انکی لاشوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ناقابل بیان ہے۔ اس سارے وحشیانہ عمل کی ویڈیوز بنا بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالتے رہے اور قہقہے لگاتے رہے۔
جب معاہدہ کے لیے بیٹھے اور ان سے اس وحشانہ بربریت پر سوال کیا گیا تو انہوں نے نہیں ڈھٹائی سے کہا کہ کوئی شرپسند یا ایجنسیوں کے لوگ ہونگے ہم نے تو نہیں کیا۔ پولیس نے ویڈیوز میں شناخت کر کے انکی گرفتاریاں شروع کر دیں۔ جوں ہی گرفتار ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی نے مزاکرات کے لیے پہلے انکی رہائی اور ان کے خلاف ایف آئی آرز ختم کرنے کی شرط رکھ دی۔ کہ اس کے بغیر ہم کوئی بات نہیں کرینگے۔
آزاد کشمیر کی حکومت اور حکومت پاکستان نے انکو اپنی پولیس کا خون معاف کرتے ہوئے ایف آئی آرز واپس لے لیں اور ان کے سارے مطالبات مان لیے جو شائد بدترین غلطی تھی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس بار انہوں نے باقاعدہ پاکستان اور مقبوضہ کشمیر سے علیحدگی کا مطالبہ کر دیا اور تسلیم نہ ہونے پر فوراً مسلح حملے شروع کر دیے۔
پہلے اس دہشتگرد تنظیم نے عمر نذیر کی قیادت میں کھائی گلہ میں سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملہ کیا۔ پھر ڈھل کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے سیکیورٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کا اغواء کر لیا۔ پھر ایک پولیس وین پر سیدھی فائرنگ کی جہاں سے جوابی فائرنگ میں انکے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی جس کا یہ واویلا کر رہے ہیں۔ جس کے بعد انہوں نے سی ایم ایچ اسپتال پر حملہ کردیا۔
اسپتال پر حملے میں انہوں نے 4 اہلکاروں کو شہید اور 20 کو زخمی کر دیا۔ 3 اہلکاروں کا تعلق کشمیر سے ہے۔ یاد رہے کہ اسپتالوں پر حملے یا اسرائیل کرتا ہے یا پھر عوامی ایکشن کمیٹی کر رہی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر کمال مکاری سے رنڈی رونا ڈال دیا ہے کہ ہمارے سینکڑوں مر گئے ہزاروں مر گئے۔ جس میں پی ٹی آئی اور انڈین اکاؤنٹس انکی بھرپور معاؤنت کر رہے ہیں۔ خدا کی قسم یہ بھیڑ کی کی کھال میں چھپے خون آشام بھیڑیے ہیں جو آزاد کشمیر کی عوام کی زندگیاں اجیرن کرنے آئے ہیں۔ ان سے نہ جان چھڑائی گئی تو یہ آزاد کشمیر کی عوام کی زندگیوں میں آگ بھر دینگے۔
#Pakistan
#راولاکوٹ
@halhjri14@RafAlnuaimi@snoonu_qa Perhaps this is one of the rare times when a company's founder personally steps in to explain and address a customer's concern. What more could a customer ask for? This level of accountability, transparency, and commitment to customer satisfaction deserves appreciation. 👏
گلگت جو کشمیر کاز کی نظر ہوگیا!
کشمیر کاز کے لیے پاکستان نے اپنی جتنی تباہی کی ہے وہ تو ایک طرف ہے لیکن ایک بہت بڑی چیز کا لوگوں کو پتہ ہی نہیں۔ گلگت پاکستان کا وہ علاقہ ہے جس نے اپنے بل پر لڑ کر آزادی حاصل کی۔ کشمیر کی طرح وہاں پاکستان سے لشکر نہیں گئے تھے۔ آزادی حاصل کرتے ہی انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔
ان کا وہ اعلان آج تک پاکستان نے زیر التوا رکھا ہوا ہے وہ ہزاروں بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ ہمیں پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنایا جائے۔ لیکن پاکستان نہیں کر رہا جانتے ہیں کیوں؟
کیونکہ پاکستان کو لگتا ہے کہ وہ ایسا کرے گا تو کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا اور انڈیا کا مقدمہ کشمیر پر مضبوط ہوگا۔ لہذا پاکستان اب تک گلگت کو خود میں ضم کرنے سے رکا ہوا ہے۔ پاکستان زمین کا بھوکا ہوتا تو پہلے ہی دن گلگت کے اعلان کے ساتھ ہی انکو صوبہ بنا لیتا۔
آج عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان کی ان بےپناہ قربانیوں کے جواب میں طعنے مارتی ہے کہ پاکستان کو ہم سے بڑے فائدے ہیں اس لیے ہمارے لیے یہ سب کر رہا ہے۔ پاکستان نے تو ہمیشہ حق خود ارادیت کی بات کی ہے لیکن اب پاکستان کو پالیسی تبدیل کرنی چاہئے۔ اگر 'کشمیر بنے گا پاکستان' تو سب کچھ جاری رکھیں۔ اگر نہیں اور وہ ایک الگ ملک ہے تو وہ سب کچھ پاکستانی قوم کو واپس چاہئے جو اب تک لٹایا ہے۔ آغاز اس سے کریں کہ پاکستان میں جو 2٪ نوکریوں کا کوٹہ دیا ہوا ہے انکو واپس بھیج کر وہ ہزاروں نوکریاں چاروں صوبوں اور گلگت کے بےروزگاروں میں بانٹ دیں۔
#Kashmir
#Gilgit
پڑھ لو۔۔۔۔
جو مطالبات پورے کر لیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں دہشت گردی کے مناسب قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
ہلاکتوں کے شکار افراد کے لواحقین کو قانون نافذ کرنے والے شہیدوں کے برابر معاوضہ، زخمیوں کو 10 لاکھ روپے اور مرحوم کے ایک فرد کو 20 دن میں سرکاری نوکری دی جائے گی۔
ضروری ہونے پر ہلاکتوں کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیے جائیں گے۔
مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کے لیے دو نئے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن قائم ہوں گے۔
تینوں اے جے کے تعلیمی بورڈز 30 دن میں وفاقی بورڈ سے منسلک کر دیے جائیں گے۔
منگلا ڈیم ریزنگ پروجیکٹ سے متاثرہ خاندانوں کی زمینیں 30 دن میں ریگولرائز کی جائیں گی۔
لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو 1990 کے ایکٹ کے مطابق 90 دن میں اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
ہیلتھ کارڈ پروگرام کے فنڈز 15 دن میں جاری کر دیے جائیں گے۔
ہر ضلعی ہسپتال میں ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینیں مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی۔
پاکستان حکومت آزاد جموں و کشمیر کے بجلی نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے 100 ارب روپے مختص کرے گی۔
2019 کے ہائی کورٹ فیصلے کے مطابق ہائیڈل پاور پروجیکٹس اور رائلٹی کی تقسیم نافذ کی جائے گی۔
اے جے کے کابینہ کا سائز 20 اراکین (وزرا اور مشیران سمیت) تک محدود رہے گا۔
ایڈمنسٹریٹو سیکریٹریز کی تعداد 20 تک محدود کی جائے گی۔
سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کو ایس ڈی ایم اے میں ضم کیا جائے گا۔
احتساب بیورو اور انسداد بدعنوانی کو ایک ادارے میں ضم کیا جائے گا۔
احتساب ایکٹ کو پاکستان کے نیشنل احتساب قوانین کے مطابق بنایا جائے گا۔
نیلم ویلی روڈ پر دو ٹنلز (کاہوری/کمسر 3.7 کلومیٹر اور چاپلیان 0.6 کلومیٹر) کی سٹڈیز سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت شروع ہوں گی۔
گلپور اور رحمان (کوٹلی) کے پل اے ڈی پی کے ذریعے بنائے جائیں گے۔
کشمیر کالونی ڈاڈیال کے واٹر سپلائی سکیم اور ٹرانسمیشن لائن کو اے ڈی پی میں شامل کیا جائے گا۔
تمام دس اضلاع میں بڑی واٹر سپلائی سکیموں کی فیزیبلٹی اس مالی سال مکمل ہو گی۔
تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹر اور نرسریاں اے ڈی پی سے فنڈڈ ہوں گی۔
پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکس پنجاب یا خیبر پختونخوا کے برابر تین ماہ میں کیے جائیں گے۔
ایڈوانس ٹیکس ریٹس گلگت بلتستان اور سابقہ فاٹا کے برابر کم کیے جائیں گے۔
تعلیمی اداروں میں داخلے اوپن میرٹ پر ہوں گے، غیر ضروری کوٹہ ختم۔
بانجوسہ، مظفرآباد، پلوچک، دھیرکوٹ، میرپور اور ریان کوٹلی کے واقعات کی عدالتی کمیشن (ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں) انکوائری ہو گی۔
میرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر کا ٹائم فریم اس مالی سال میں اعلام کیا جائے گا۔
ٹرانسپورٹ پالیسی کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق جائزہ لیا جائے گا (خاص طور پر 1300 سی سی کی حد)۔
ہائیڈل اور واٹر سکیموں کی فیزیبلٹی کو ترجیحی پروجیکٹس قرار دیا جائے گا۔
مینڈور کالونی ڈاڈیال کے ریفوجیز کو پراپرٹی رائٹس دیے جائیں گے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں 2-3 اکتوبر کو گرفتار مظاہرین فوری رہا کیے جائیں گے۔
آئینی ماہرین کی ہائی پاور کمیٹی (ہر پارٹی سے دو اراکین) باہر کے حلقوں کی نمائندگی کا جائزہ لے گی۔ فنڈز اس وقت تک روکے جائیں گے۔
احتساب کے ڈھانچے کو وفاقی معیار کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔
آپریشن تھیٹرز اور میٹرنل کیئر کی فنڈنگ کو اے ڈی پی میں ترجیح دی جائے گی۔
کابینہ 20 سے زیادہ نہ ہو، انتظامی اصلاحات جاری رہیں گی۔
مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی قائم (چیئر: وفاقی وزیر کشمیر امور، دو اے جے کے اور دو جے اے اے سی اراکین)۔
کمیٹی قوانین، ٹائم لائنز اور عدلیہ، افسران و وزرا کے مراعات کا جائزہ لے کر اخراجات کم کرے گی۔
نئی ڈویلپمنٹ سکیمز اور ہیلتھ پروجیکٹس اے ڈی پی اور وفاقی فنڈز سے فنانس ہوں گے۔
تمام معاہدہ شدہ نکات کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی اور دونوں حکومتوں کو رپورٹ کی جائے گی۔
تمام 38 نکات پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کے لیے وفاقی سطح پر اعلیٰ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
صرف ایک نکتہ باقی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو حقِ نمائندگی سے محروم رکھا جائے۔ یہ صرف آئینی ترمیم سے ممکن ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی اسی ایک مطالبے کے لیے مسلسل فسادات اور انارکی پھیلا رہی ہے۔
حکومت نے تمام ترقیاتی، مالی اور انتظامی مطالبات مان لیے ہیں، مگر کمیٹی آئینی ترمیم نہ ہونے تک فسادات جاری رکھنے کا اعلان کر چکی ہے۔ پاکستان کو گالیاں بھی دے رہے ہیں اور کچھ بھارت کے قصیدے بھی پڑھ رہے ہیں۔
چند گھنٹوں میں کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دو بڑے حملے!
انتہائی ناجائز قسم کے 38 مطالبات پورے ہونے کے بعد صرف ایک مطالبہ تسلیم نہ ہونے پر کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور باقاعدہ مسلح حملے شروع کر دیے۔ وہ مطالبہ مقبوضہ کشمیر کے کشمریوں کو حق نمائندگی سے محروم کرنے کا تھا جو پاکستان کسی صورت نہیں مان سکتا۔
اس کے جواب میں دہشتگرد تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی نے عمر نذیر کی قیادت میں کھائی گلہ میں سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملہ کیا۔ پھر آج ڈھل کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے سیکیورٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کا اغواء کر لیا۔
یاد کریں جب انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں تہائی قیمت پر آٹا دو اور آئی ایم ایف کے بوجھ تلے دبے پاکستان نے کچھ پس و پیش کی تو کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی ایل او سی پر پہنچ گئی تھی کہ ہمیں بھارت آٹا دے دے گا۔ بلکل بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی طرح انکا قبلہ و کعبہ بھی بھارت ہی ہے۔ ان کی طرز پر دہشتگردانہ کاروائیاں کر کے انہوں نے اپنا اصل رنگ دیکھا دیا۔ اب ان کے ساتھ ذرا بھی نرمی کی گئی یا ان میں سے کسی کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ آزاد کشمیر سے پاکستان کے نام لیواؤں کا صفایا کر دینگے۔ بطور پاکستانی شہری ہم مطالبہ دہراتے ہیں کہ آزاد کشمیر کو دی جانے والی تمام سبسڈیز، انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز وغیرہ تب تک معطل کیے جائیں جب تک وہ عوامی ایکشن کمیٹی کا خاتمہ نہیں کرتے اور انکے سربراہوں کو پھانسیاں نہیں دی جاتی۔
#StandWithState
#امن_کے_دشمن_نامنظور
عوامی ایکشن کمیٹی کو صرف کلعدم قرار دینا کافی نہیں!
اب وقت آگیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر ان کے سربراہان کے سروں کی قیمت مقرر کی جائے اور انکو دیکھتے ہیں گولی مارنے کا حکم جاری کیا جائے۔
ہم نے انڈیا کے ساتھ جنگوں میں اس کشمیر کے لیے لاکھوں جانیں دی ہیں۔ صرف اس کی وجہ سے انڈینز پراکسی میں 80 ہزار جانیں دے چکے ہیں۔ لہذا کشمیر کو بچانے کے لیے چند ہزار مزید بھی دے دینگے۔ جو شخص تنظیم یا ملک پاکستان اور کشمیر کے درمیان حائل ہو اس سے پوری طاقت سے نمٹنا چاہئے۔
یاد رکھیں اگر اس بار بھی نرمی اور درگزر سے کام لیا گیا تو اگلی بار آپ کو یہ موقع بھی نہیں ملے گا۔ نیز جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کا مکمل صفایا نہیں ہوجاتا انٹرنیٹ، موبائل سگنلز سمیت ہر قسم کی سپلائی معطل رکھی جائے چاہے کئی سال لگ جائیں۔ نیز ساری سبسڈیز کو عوامی ایکشن کمیٹی کے خاتمے سے مشروط کیا جائے۔
کشمیروں کو بتانا ہوگا کہ آپ کی سابقہ آزاد، پرسکون اور خوشحال زندگی کے راستے میں عوامی ایکشن کمیٹی حائل ہے۔ اسکو ہٹا دیں ہر چیز بحال ہوجائیگی۔
#Pakistan
#Indian_Action_Committee
ان کے انتہائی ناجائز مطالبات مانے جانے کے بعد بھی وہ پاکستان کو گالیاں دیتے ہیں اور اعلانیہ کہتے ہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگانے والے غدار ہیں۔ تو پھر نرمی کس مقصد کے لیے؟ یا تو کشمیر کے لیے لڑو یا پھر کشمیر چھوڑ دو ۔۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ انکو اپنا خون بھی پلاتے رہیں اور گالیاں بھی کھاتے رہیں اور انکی حفاظت کے لیے اپنی فوج بھی ایل او سی پر قربان کرتے رہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے جو ڈنڈے پاکستان کے نام پر مارے ہیں انکی چوٹ 25 کروڑ عوام کے دلوں پر پڑی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ عورتوں کا ریپ ہوا، ایک لاکھ کشمیریوں کی جانیں گئیں، لیکن آزاد کشمیر میں ایسا ایک بھی کیس نہیں ہوا۔ کیونکہ ہمارے اجداد گئے تھے انکو انڈین فوج اور ڈوگرہ فوج سے آزادی دلوانے۔
پھر ہماری آدھی فوج ایل او سی پر 77 سال سے دس گنا بڑی انڈین فوج کا راستہ روکے کھڑی ہے۔
کشمیر کی وجہ سے ہم نے انڈیا سے 4 جنگیں لڑی ہیں اور خود کو تباہ کروا لیا ہے۔ کشمیر کی وجہ سے انڈیا ہمارا مستقل دشمن ہے اور پاکستان میں پراکسیز لانچ کی ہوئی ہیں جو اب تک ہماری 80 ہزار جانیں لے چکی ہے اور ہمارے دو صوبوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔
پورا پاکستان بجلی کے لیے رو رہا ہے اور آٹے کی مہنگائی پر پریشان ہے لیکن آزاد کشمیر میں ہم مفت بجلی اور تہائی یا چوتھائی قیمت پر آٹا دے رہے ہیں جس کا بوجھ پاکستان کے چاروں صوبوں کی غریب عوام اٹھاتی ہے۔
ہمارے ہر جمعہ میں کشمیر کا نام لے کر خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں کبھی اپنے صوبوں کا نام نہیں لیا گیا۔
اس ساری ایثاروقربانی کا بدلہ ہمارے منہ پر ہمیں چپیڑیں مار کر دیا جارہا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے ہرصورت وہی کرنا ہے جو بھارت چاہتا ہے۔ یا تو ان کی مانتے چلے جائیں اور آزاد کشمیر بھارت کو سونپ کر اپنی 77 سال کی قربانیوں پر پانی پھیر دیں۔ یا پھر آزاد کشمیر کو بچانے کے لیے لڑیں۔
میں بطور پاکستانی شہری اپنی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ انٹرنیٹ بند کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ بجلی اور آٹے پر سبسڈی ختم کی جائے۔ اسی قیمت پر دی جائے جس پر پاکستان میں ملتا ہے۔ آزاد کشمیر میں جو جو لوگ عوامی ایکشن کمیٹی سے جڑے ہیں انکی پاکستان میں جائدادیں ضبط کی جائیں کیونکہ وہ پاکستان میں کسی کو کشمیر میں زمین خریدنے نہیں دیتے۔ ہر سال پاکستان اپنا پیٹ کاٹ کر جو اربوں کھربوں روپے گرانٹ دیتا ہے وہ بھی بند کی جائے۔ منگلا ڈیم کا پانی مقبوضہ کشمیر سے آتا ہے جس کو وہ خود سے الگ مان چکے ہیں۔ لہذا اس ڈیم پر انکا کوئی حق نہیں۔ اس کی زمین پاکستانی عوام اربوں ڈالر قرض سود پر لے کر خرید چکی ہے اسکی پوری طاقت سے حفاظت کی جائے۔
ان سب چیزوں کی بحالی عوام ایکشن کمیٹی کے خاتمے سے مشروط کی جائے۔ امید ہے کہ آزاد کشمیر کی عوام خود ہی ان سے نمٹ لے گی۔ ورنہ اگر یہ سب بھی دینا ہے اور ڈنڈے بھی کھانے ہیں تو ہمیں کون سے نفلوں کا ثواب مل رہا ہے؟؟
#Pakistan
#مہاجرین_کشمیر_کی_آواز