Silkbank/UBL have malafidely withheld all transactions to achieve their targets for 30th June 2025, to achieve their closing targets. This is sheer violation of citizen rights
#NoMoreSlabLooting#UBL#Shame
“The military establishment has done all they could against me. All that is left for them is to now murder me. I have stated publicly that if anything happens to me or my wife, Gen Asim Munir will be responsible. https://t.co/6kGIZ60e7c
But I am not afraid because my faith is strong. I would prefer death over slavery”.
Imran Khan writes exclusively for The Telegraph @Telegraph from his Pakistan prison cell
🚨🚨 PS5 GIVEAWAY
I’m giving away a brand new PS5 in collaboration with my friend.
Rules to enter:
1: Like & retweet
2: Follow @elitewealthreal
The winner will be announced in 24 hrs. Good luck!!!
میرے اہلِ وطن، اہلِ پاکستان کو عید مبارک!
میرے لئے یہ سب سے کربناک اور تکلیف دہ عید ہے۔ ہمارے تقریباً دس ہزار کارکنان اور سپورٹرز کو جیلوں میں بھر دیا گیا ہے جبکہ پرامن احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے پر ان سے مجرموں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔
ہمارے بہادر قائدین، جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیہ حمزہ وغیرہ جیسی خواتین رہنما بھی شامل ہیں، جیل میں قید اور تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے سے مسلسل انکاری ہیں۔
ہمارے 16 کارکنان کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا جبکہ دیگر 8 کے بارے میں بھی شبہ یہی ہے کہ انہیں بھی قتل کیا گیا تاہم اس کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ ان کے اعزّا و احباب پولیس کے خوف سے زیرِ زمین ہیں۔ 50 دیگر کو بھی گولیاں ماری گئیں۔
تاہم سیکورٹی اہلکاروں کیجانب سے نہتّے مظاہرین پر طاقت کے اس بے جا استعمال کا نہایت حیران کن طور پر (ریاستی و سرکاری سطح پر) ذکر تک سنائی نہیں دے رہا۔ پھر اس امر کا سراغ لگانے کیلئے کہ 9 مئی کو اصل میں ہوا کیا، کسی آزاد تحقیق کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔
اس کے برعکس سرکاری سطح پر تحریک انصاف کیخلاف یکطرفہ پراپیگنڈے کے ذریعے ہر اس شخص کو، جس کی تحریک انصاف سے ذرا سی بھی نسبت ہے، کو محض اس یک نکاتی ہدف کے تحت کہ انتخابات سے قبل کسی بھی طرح تحریک انصاف کو کچل دیا جائے، پر جبر و دہشت کے پہاڑ توڑے گئے۔
تحریک انصاف اور (پاکستانی) قوم اس تاریک دور سے پہلے سے نہایت مضبوط ہو کر ابھریں گے، انشاءاللہ۔
اسی طرح میڈیا پر بھی کڑے پہرے بٹھائے گئے ہیں اور اس فسطائی سرکار کے ناقدین اس (ریاستی) غیض و غضب کے نشانے پر ہیں۔
عمران ریاض خان کو اغواء کیا گیا اور 40 روز سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے کہ کسی کو اس کی سلامتی و مقام کے بارے میں خبر نہیں۔ اس طرح ہمارے 5 معتبر صحافی جنہیں مجبوراً ملک چھوڑ کر کہیں اور پناہ لینا پڑی۔اس عید پر ہم انہیں بھی اپنی یادوں کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔