A man of paradox, not prejudice.
Faith • Politics • Military • Science • Technology
Questioning everything. Respecting humanity.
Beyond labels, beyond binaries.
صورتحال غیر معمولی رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کے معاملے پر سپریم کورٹ بار، لاہور بار اور دیگر بارز کی جانب سے سامنے آنے والی سخت مذمتیں اہم ہیں۔
جب وکلا برادری ایک عدالتی حکم کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لے رہی ہو تو یہ محض ایک بیان نہیں رہتا، بلکہ آنے والے دنوں میں کسی بڑے قانونی یا سیاسی ردِعمل کی طرف اشارہ بھی ہو سکتا ہے
آج کل راولپنڈی میں کوئی امن امان کا مسئلہ نہیں ہے اور فوج چاہے جیل میں عمران خان کو مروا دے لیکن PTI کے کارکن اتنے ڈرے ھوئے ہیں کہ کبھی راولپنڈی کا منہ نہیں کریں گے لہذا محسن نقوی کی درخواست پر راولپنڈی میں فوج کی تعنیاتی شہباز شریف کو چپیڑوں کرانے سے متعلقہ ھوسکتی ہے
*عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایا گیا ہے* اور اسے دوبارہ جیل سے کیوں رہا نہیں کرتے۔ عمران خان کوجیل میں قتل کرنے کی سازش کیوں ہو رہی ہے
انگریزی تحریر : *جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال*
میں آپ کو بتاؤں کہ عمران خان نے ایسا کیا جُرم کیا کہ امریکہ کو اُسے فوراً اسکے عہدے سے ہٹانا پڑا اور اگر امریکہ ایسا نہ کرتا تو اسے کس قسم کے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے تھے۔
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے دو تصورات کا احاطہ کرتے ہیں۔
*1) پیٹرو ڈالر کیا ہے؟ یہ 1974 میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے*۔
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب ذمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکی ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسری کرنسی یا سونا قبول نہ کرے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں یا فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے USD کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے USD خریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام USD کو مضبوط رکھتا ہے۔
بدلے میں سعودی کرنسی ایک ڈالر = 3.75 ریال مقرر کی گئی تھی، سعودی معیشت کی حالت جیسی بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح یہی رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد ہی ایک ڈالر , تین اعشاریہ پچھتر ریال کے برابر ہے۔ دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا، حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
امریکہ کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے کسی صورت بھی باہر نہ نکلے۔ عراق اور لیبیا نے بغاوت کی اور ہم سب جانتے ہیں ان کی حالت کیا ہوئی۔
*2) 1953 میں ہندوستان اور سوویت یونین (روس) کے درمیان ہندوستانی روپیہ-روبل تجارت کا معاہدہ ہوا*۔
جس کے تحت روس سے ہندوستانی خریداری کے لیے وہ ہندوستانی روپے میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے ہندوستانی روپے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا اور کرنسی مضبوط رہے گی -
دوئم ہندوستان سے روسی خریداری کے لیے روسی روبل میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے روبل کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور کرنسی مضبوط رہتی ہے۔
ایک ہندوستانی بینک روس میں ایک شاخ کھولے گا اور روس کا ایک بینک تجارت کی سہولت کے لیے ہندوستان میں ایک شاخ کھولے گا - یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ معاہدہ 1953 میں ہوا تھا جو 1974 میں پیٹرو ڈالر کے معاہدے سے پہلے ہوا تھا۔
*عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا*۔ اس معاہدے میں سیمی کنڈکٹر، ٹرانسفارمرز، نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے۔ اگرچہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا۔
*عمران خان نے 2022 میں تیل کے لیے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بالکل قریب تھا*۔
یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو USD کمزور ہو جائے گا اور امریکی معیشت میں گراوٹ آجائے گی اور وہ مزید سپر پاور نہیں رہے گا۔
*اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکی غلامی سے نکل آتا اسی لئے امریکہ کو اسے فوری طور پر ہٹانا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا*۔
*عمران خان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ابھی تک صدام حسین اور معمر قذافی کے پاس نہیں پہنچا جس کی حتی المقدور کوششیں جاری ہیں*.
*اگر عمران خان دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوتا ہے اور اپنی دوسری مدت میں وہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو روپے کی یہ مسلسل قدر میں کمی رک جائے گی*.
پاکستان IMF کو ادائیگی کرنا شروع کر دے گا اور تبادلوں کی شرح بحال ہو جائے گی اور پاکستان دو سے تین سال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکے گا۔
سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حب الوطنی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کیلئے سوچیں.
یہی یہ سب کچھ موجودہ حکومت کر لے تو ملک خوشحال ھو سکتا ھے۔
........ .......... ،،
آپ کو خدا کا واسطہ ہے
اس تحریر کو سچا مسلمان اور محب وطن بن کر سوچیں 40 سال سے منافقت کی سیاست سے ہٹ کر سوچیں
لوگوں کو اتنا مذہبی بنا دو کہ وہ محرومیوں کو قسمت سمجھیں، ظلم کو آزمائش سمجھ کر صبر کریں حق کے لئے آواز اٹھانا گناہ سمجھیں غلامی کو اللہ کی مصلحت قرار دیں اور قتل کو موت کا دن سمجھ کر چپ رہیں۔ سعادت حسن منٹو
Army Deployed in Rawalpindi under Article 245 for 6 Months
Pakistan's federal government has approved the deployment of "three Army companies" in Rawalpindi under Article 245 of the Constitution.
The request came from the Punjab Home Department (Lahore).
Troops will assist the district administration in maintaining law & order and security.
ترکی-اسرائیل تنازعہ کے پہلے 24 گھنٹے
یہاں سے کھیل بدل سکتا ہے!
اگر ترکی اور اسرائیل کے درمیان کوئی بڑا تنازعہ شروع ہو جائے تو پہلے 24 گھنٹے بہت اہم ہوں گے۔ ان گھنٹوں میں کیا ہو سکتا ہے؟ آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔
پہلے رابطے کہاں ہو سکتے ہیں؟
شام یا مشرقی بحیرہ روم میں پہلے فوجی رابطے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ترکی شام کے بالکل قریب ہے۔ اس کی فوجیں پہلے سے خطے میں موجود ہیں، زمینی راستے سے سپلائی بھیجنا آسان ہے، اور دمشق حکومت کے ساتھ اس کا دفاعی معاہدہ بھی ہے۔ اس لیے ترکی فوری طور پر جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔
ترکی کیا کرے گا؟
پہلے ہی گھنٹوں میں ترکی اپنے تمام فضائی دفاعی نظام، ریڈارز، ڈرونز اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کو ہائی الرٹ پر رکھ دے گا۔ مشرقی بحیرہ روم میں اسرائیلی بحری جہازوں کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔ یہ رکاوٹ صرف دفاع نہیں کرے گی بلکہ شامی حکومت کو فضائی حدود استعمال کرنے، انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد بھی دے گی۔
نیٹو کا کردار
انقرہ نیٹو کے آرٹیکل 4 کے تحت فوری ہنگامی اجلاس کی درخواست کر سکتا ہے۔ اگر ترکی کی اپنی سرزمین پر حملہ ہو جائے تو آرٹیکل 5 کا آپشن بھی کھل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ AWACS طیارے، انٹیلی جنس شیئرنگ، فضائی دفاعی کمک اور مشرقی بحیرہ روم میں نگرانی کے اقدامات فوری طور پر شروع ہو سکتے ہیں۔
ترکی تنہا نہیں ہے
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ترکی اکیلے نہیں لڑے گا۔
ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ واضح کہتا ہے:
کسی ایک پر حملہ = تینوں پر حملہ۔
یہ معاہدہ صرف کاغذ پر نہیں ہے۔ اس کے تحت فوجی کوآرڈینیشن، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور دفاعی صنعت میں تعاون ممکن ہے۔ پاکستان بھی اس معاہدے کا حصہ ہے، اس لیے اس کا اثر بڑا ہو سکتا ہے۔
آخر میں
ترکی اس بحران میں اکیلے نہیں ہوگا۔
نیٹو + مکہ دفاعی معاہدہ + شام کے ساتھ فوجی تعاون + علاقائی سفارتی تعلقات
یہ سب مل کر ترکی کے گرد ایک مضبوط دفاعی دیوار کھڑی کر دیں گے۔
پہلے 24 گھنٹے فیصلہ کن ہوں گے۔ ان میں کیا ہوتا ہے، اس سے پورا کھیل بدل سکتا ہے۔
@hyperRoguex
خان صاحب کی بہنوں کی پریس کانفرنس تکلیف دہ تھی ۔ دیکھنے میں بھی اور سننے میں بھی۔۔خان صاحب پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں ۔ انکو ریلیف ملنا چاہئے ۔ ماضی میں تمام بڑے سیاسی لیڈرز کو ریلیف ملا۔ معاملات طے ہوئے۔ اور کچھ شرائط رکھ کر جیل سے نکالا گیا ۔ یہاں بھی یہ فارمولا لگا لے ریاست ۔ دونوں میاں بیوی کو کب سے جیل میں رکھا ہوا ہے ۔ اچھا نہیں لگ رہا یہ تماشا اب۔
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
Then who will make a settlement? Without settlement, there's nothing gonna happen except things are getting worst day by day. Geo political situation demands peace and prosperity in a country.
My comment for @DeutscheWelle: "For the state, the dilemma remains: keeping Khan imprisoned has not neutralized his influence, while releasing him without a broader settlement could revive the confrontation..."
My comment for @DeutscheWelle: "For the state, the dilemma remains: keeping Khan imprisoned has not neutralized his influence, while releasing him without a broader settlement could revive the confrontation..."
"A religious man gives money to the poor, believing God will return it to him.
An atheist gives money to the poor, expecting nothing."
"Now tell me who is closer to God?"