The widening gap between the people of Azad Kashmir and the administration is a matter of concern. Restoring trust through dialogue, respect, and genuine engagement should be a priority. The impact of today’s actions will be felt by future generations.
#AzadKashmir#Pakistan #Trust #Unity
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور عدم اعتماد کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے مؤثر مکالمہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ مضبوط ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے مستحکم ہوتی ہیں۔ آنے والی نسلوں کے لیے آج درست فیصلے کرنا ہوں گے۔
#AzadKashmir #Pakistan #Unity #Trust
خدا گواہ ہے کہ کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت کی ہے۔ مجھے جب بھی کشمیر جانے کا موقع ملا یا پاکستان سے باہر آباد کشمیریوں سے ملاقات ہوئی تو ہر ایک نے محبت نچھاور کی۔ آج کچھ ٹاؤٹ اکاؤنٹس کو کشمیریوں کے خلاف زہر اُگلتے دیکھ رہا ہوں تو حیرت اور تکلیف میں ہوں۔
کینسر سے مرنا سب کے لیے باعثِ شرم ہے کیونکہ اس کا علاج اب ہمارے ہاتھ میں ہے!🗣️
میڈیکل اور حکمت کی ریسرچ کے مطابق گرم لیموں کا پانی کیمو تھراپی سے ہزار گنا بہتر اور محفوظ ہے🍋💧
چینی کا استعمال بہت کم کردیں❌
اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے اس پیغام کو عام کریں! ♻️
🇵🇰🤝🇸🇦
Pakistan’s military leadership reaffirms the unbreakable bond between the two nations: the security of Saudi Arabia is inextricably linked to Pakistan’s own national interests.
Geopolitical Earthquake: The (Riyadh-Islamabad-Ankara) alliance sends shockwaves through global powers! 🇸🇦🇵🇰🇹🇷
India is the first to signal alarm, as Lt. Gen. Rajiv Ghai (Commander of India’s XV Corps) officially labels Turkey a "new potential adversary" within the (Ankara-Islamabad-Beijing) axis.
However, those threatening #Pakistan must realize: Islamabad’s security is a "Red Line" reinforced by a Mutual Defense Treaty with Saudi Arabia. Any aggression against Pakistan is an aggression against Riyadh. Do not test the patience of the giants.
#SaudiArabia #Pakistan #Turkey #India #MBS #Geopolitics
*"چپل سے کرسی تک" - غریب لڑکی کے کمشنر بننے کی کہانی*
*1. تھر کی جھونپڑی اور ٹوٹی چپل*
تھرپارکر، سندھ۔ ریت اڑاتی دوپہر۔ 14 سال کی *نور بانو*۔ باپ اونٹ چراتا تھا، ماں لوگوں کے گھر کام کرتی۔ جھونپڑی میں بجلی نہیں، پانی 3 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا۔
نور کی چپل ٹوٹ گئی تھی۔ ننگے پاؤں ریت پر چل کر اسکول جاتی۔ استانی نے پوچھا: "بڑی ہو کر کیا بنو گی؟"
نور نے دھول سے اٹے ہاتھ اٹھائے: "باجی، کمشنر۔ جو حکم چلائے، لوگوں کی سنے۔"
پوری کلاس ہنس پڑی۔ استانی بھی۔ "غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے بیٹا۔"
*2. کتابیں، مٹی کا چولہا اور رات کی پڑھائی*
میٹرک میں ضلع ٹاپ کیا۔ انٹر میں پورے سندھ میں دوسری پوزیشن۔ لیکن کالج کی فیس؟ باپ نے اونٹ بیچ دیا۔ ماں نے اپنی چاندی کی چوڑیاں۔
جامعہ کراچی میں داخلہ ملا۔ ہاسٹل کی فیس نہیں تھی۔ نور نے دن میں 3 جگہ ٹیوشن پڑھائی۔ رات کو مٹی کے چولہے کی روشنی میں *CSS* کی تیاری۔ سردیوں میں ہاتھ سن ہو جاتے، گرمیوں میں پنکھا نہیں تھا۔
دوست کہتیں: "نور، CSS امیروں کا کھیل ہے۔ اکیڈمی، نوٹس، انگلش میڈیم۔ تو چھوڑ دے۔"
نور جواب دیتی: "غریبی میری مجبوری ہے، میری پہچان نہیں۔"
*3. 3 بار فیل، طعنے اور ضدی لڑکی*
CSS میں 3 بار فیل ہوئی۔ پہلی بار انگلش ایسے میں۔ دوسری بار کرنٹ افیئرز میں۔ تیسری بار انٹرویو میں۔
گاؤں والے طعنے مارتے: "اوئے کمشنر کی بچی، چائے بنا۔"
رشتہ دار کہتے: "عمر نکل رہی ہے۔ شادی کر لے۔ یہ افسری وہسری تیرے بس کی نہیں۔"
ماں روتی: "بیٹا بس کر۔ لوگ کیا کہیں گے۔"
نور ماں کے پاؤں دباتی: "امّاں، لوگ تب بھی بولیں گے جب میں کمشنر بن جاؤں گی۔ کہیں گے 'دیکھو غریب کی بیٹی افسر بن گئی'۔ بس تھوڑا صبر۔"
*4. چوتھی بار اور تاریخ*
چوتھی بار میں نور نے دن رات ایک کر دیا۔ 18-18 گھنٹے پڑھائی۔ پرانے اخبار مانگ کر لاتی۔ یوٹیوب پر فری لیکچر۔ سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے نوٹس بناتی۔
رزلٹ آیا۔ *نور بانو - CSS 2025 - پاکستان میں 7ویں پوزیشن۔ PAS گروپ الاٹ۔*
جس دن جوائننگ لیٹر آیا، نور نے وہی ٹوٹی چپل اٹھائی جس میں اسکول جاتی تھی۔ افسر کی میز پر شیشے کے کیس میں رکھوا دی۔ نیچے پلیٹ لگوائی: *"یہ یاد دلاتی ہے میں کہاں سے آئی ہوں۔"*
*5. کمشنر نور بانو*
آج *کمشنر نور بانو* لاڑکانہ ڈویژن کی انچارج ہیں۔ دفتر کے باہر لائن لگی ہوتی ہے۔ امیر، غریب، سب کی ایک جیسی سنتی ہے۔
پہلا حکم کیا جاری کیا؟ *"تھر کے ہر اسکول میں پنکھے اور پانی۔ کوئی بچی ننگے پاؤں نہ آئے۔"*
جب کوئی غریب لڑکی فائل لے کر آتی ہے، نور اسے کرسی پر بٹھاتی ہے۔ چائے خود بنوا کر پلاتی ہے۔
"بیٹا ڈرو مت۔ یہ کرسی تمہاری بھی ہو سکتی ہے۔ بس چپل ٹوٹے تو رکنا نہیں۔"
استانی جو ہنسی تھی، اب ریٹائر ہو چکی۔ نور نے اسے اپنے ہاتھ سے ایوارڈ دیا۔ استانی رو پڑی۔
نور نے کہا: "باجی، آپ ٹھیک کہتی تھیں۔ غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے۔۔۔ *وہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔
*"چپل سے کرسی تک" - غریب لڑکی کے کمشنر بننے کی کہانی*
*1. تھر کی جھونپڑی اور ٹوٹی چپل*
تھرپارکر، سندھ۔ ریت اڑاتی دوپہر۔ 14 سال کی *نور بانو*۔ باپ اونٹ چراتا تھا، ماں لوگوں کے گھر کام کرتی۔ جھونپڑی میں بجلی نہیں، پانی 3 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا۔
نور کی چپل ٹوٹ گئی تھی۔ ننگے پاؤں ریت پر چل کر اسکول جاتی۔ استانی نے پوچھا: "بڑی ہو کر کیا بنو گی؟"
نور نے دھول سے اٹے ہاتھ اٹھائے: "باجی، کمشنر۔ جو حکم چلائے، لوگوں کی سنے۔"
پوری کلاس ہنس پڑی۔ استانی بھی۔ "غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے بیٹا۔"
*2. کتابیں، مٹی کا چولہا اور رات کی پڑھائی*
میٹرک میں ضلع ٹاپ کیا۔ انٹر میں پورے سندھ میں دوسری پوزیشن۔ لیکن کالج کی فیس؟ باپ نے اونٹ بیچ دیا۔ ماں نے اپنی چاندی کی چوڑیاں۔
جامعہ کراچی میں داخلہ ملا۔ ہاسٹل کی فیس نہیں تھی۔ نور نے دن میں 3 جگہ ٹیوشن پڑھائی۔ رات کو مٹی کے چولہے کی روشنی میں *CSS* کی تیاری۔ سردیوں میں ہاتھ سن ہو جاتے، گرمیوں میں پنکھا نہیں تھا۔
دوست کہتیں: "نور، CSS امیروں کا کھیل ہے۔ اکیڈمی، نوٹس، انگلش میڈیم۔ تو چھوڑ دے۔"
نور جواب دیتی: "غریبی میری مجبوری ہے، میری پہچان نہیں۔"
*3. 3 بار فیل، طعنے اور ضدی لڑکی*
CSS میں 3 بار فیل ہوئی۔ پہلی بار انگلش ایسے میں۔ دوسری بار کرنٹ افیئرز میں۔ تیسری بار انٹرویو میں۔
گاؤں والے طعنے مارتے: "اوئے کمشنر کی بچی، چائے بنا۔"
رشتہ دار کہتے: "عمر نکل رہی ہے۔ شادی کر لے۔ یہ افسری وہسری تیرے بس کی نہیں۔"
ماں روتی: "بیٹا بس کر۔ لوگ کیا کہیں گے۔"
نور ماں کے پاؤں دباتی: "امّاں، لوگ تب بھی بولیں گے جب میں کمشنر بن جاؤں گی۔ کہیں گے 'دیکھو غریب کی بیٹی افسر بن گئی'۔ بس تھوڑا صبر۔"
*4. چوتھی بار اور تاریخ*
چوتھی بار میں نور نے دن رات ایک کر دیا۔ 18-18 گھنٹے پڑھائی۔ پرانے اخبار مانگ کر لاتی۔ یوٹیوب پر فری لیکچر۔ سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے نوٹس بناتی۔
رزلٹ آیا۔ *نور بانو - CSS 2025 - پاکستان میں 7ویں پوزیشن۔ PAS گروپ الاٹ۔*
جس دن جوائننگ لیٹر آیا، نور نے وہی ٹوٹی چپل اٹھائی جس میں اسکول جاتی تھی۔ افسر کی میز پر شیشے کے کیس میں رکھوا دی۔ نیچے پلیٹ لگوائی: *"یہ یاد دلاتی ہے میں کہاں سے آئی ہوں۔"*
*5. کمشنر نور بانو*
آج *کمشنر نور بانو* لاڑکانہ ڈویژن کی انچارج ہیں۔ دفتر کے باہر لائن لگی ہوتی ہے۔ امیر، غریب، سب کی ایک جیسی سنتی ہے۔
پہلا حکم کیا جاری کیا؟ *"تھر کے ہر اسکول میں پنکھے اور پانی۔ کوئی بچی ننگے پاؤں نہ آئے۔"*
جب کوئی غریب لڑکی فائل لے کر آتی ہے، نور اسے کرسی پر بٹھاتی ہے۔ چائے خود بنوا کر پلاتی ہے۔
"بیٹا ڈرو مت۔ یہ کرسی تمہاری بھی ہو سکتی ہے۔ بس چپل ٹوٹے تو رکنا نہیں۔"
استانی جو ہنسی تھی، اب ریٹائر ہو چکی۔ نور نے اسے اپنے ہاتھ سے ایوارڈ دیا۔ استانی رو پڑی۔
نور نے کہا: "باجی، آپ ٹھیک کہتی تھیں۔ غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے۔۔۔ *وہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔
۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا
سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ - 28
🚨راولپنڈی کے علاقے میں ایک شخص کی وفات پر ان کی تدفین کے دوران اللّٰہ تعالیٰ کا کرم ظاہر ہوا کہ
🚨پورے قبرستان میں صرف انکی قبر پر ہی "ابرِرحمت" برس رہی ہے یعنی انھیں کی قبر پر بارش ہو رہی ہے۔سبحان اللّہ
🇮🇷🇵🇰 One person on earth can call Trump and walk into Tehran as a brother, and that man is from Pakistan.
Pepe Escobar just laid it all out.
"Munir is probably the only person on the planet as we speak at the moment, who can pick up the phone and talk to Trump anytime he wants and at the same time received as a brother in Tehran."
The fog of war is intergalactic. And this is the real game being played.
@RealPepeEscobar
🇫🇷 Awkward moment at the Élysée Palace:
The wife of the Mauritanian President refused to shake hands with Emmanuel Macron even after he insisted.
Macron reaching out… and getting left hanging.
Diplomatic relations: 0
Handshakes: also 0
Some cultural boundaries even the French president can’t charm his way past.