وہ ہستی ﷺ
جن کی پوری زندگی سچائی کی گواہ ہے،
63 برس گزر گئے مگر زبانِ مبارک سے کبھی جھوٹ نہ نکلا 🌹
مجھے فخر ہے، مجھے ناز ہے
کہ میں اس دنیا میں
حضرت محمد مصطفی ﷺ کے وارثاء کا ایک ادنیٰ خادم ہوں ❤️
یہی میری پہچان ہے، یہی میرا مان ہے ✨
برھان چمکنی
مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔
ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔
اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔
بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔
یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔
پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔
میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔
آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب
مانسہرہ:قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے معتمد خاص مفتی ابرار احمد خان کے بیٹے مولانا حمزہ احمد کی تقریب ولیمہ
ولیمہ میں قائد جمیعت کی خصوصی شرکت
مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مختلف مکتبہ فکر کے سینکٹروں افراد کی شرکت
اسلام آباد:اے این پی کے مرکزی صدر سنیٹر ایمل ولی خان کی وفد کے ہمراہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
ملاقات میں عمومی ملکی سیاسی سمیت صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر غور وخوض
صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں امن وامان کی دگرگوں صورتحال پر تشویش کا اظہار
امن وامان کی موجودہ صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ کی اہمیت اور ضرورت پر رہنماؤں کا اتفاق
عوام کے جان و مال کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے ۔رہنماؤں میں اتفاق
ملاقات میں سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود موجود تھے۔
بلوچستان میں امن وامان کی موجودہ دگرگوں صورتحال تشویشناک ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوام کے جان ومال کا تحفظ بنیادی حق ہے ۔اسلم غوری
بدامنی کی اس لہر کو سنجیدہ نہ لینا اور ریاستی سطح پر موثر اقدمات کا نہ ہونا مزید تشویش کا باعث ہے ۔اسلم غوری
حکمرانوں کی لاپرواہی ،غفلت اور نااہلی سے کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے کی بو آرہی ہے ۔اسلم غوری
ہائبرڈ نظام آہستہ آہستہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوامی امنگوں کے برعکس دھاندلی زدہ مسلط حکومتیں عوام کو امن دینے کی اہلیت سے عاری ہیں ۔اسلم غوری
اسمبلی فلور پر مسلسل ہماری قیادت اس جانب توجہ مبذول کراتی رہی ،لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔اسلم غوری
بدامنی کی بدترین صورتحال بلوچستان اسی سالہ محرومیوں کا نتیجہ ہے ۔اسلم غوری
عوامی محرومیاں ،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بدامنی کے بنیادی اسباب ہیں ۔ترجمان جے یو آئی
بلوچستان ،صوبہ خیبر پختونخواہ اور کشمیر کے حالات پر قومی قیادت کو سر جوڑ کر متفقہ لائحہ عمل دینا وقت کی ضرورت ہے ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
علماء کرام کا روشن چہرہ پوری دنیا کو دکھائیں ۔
سیلاب میں کروڑوں مالیت کا سونا وغیرہ امانت کےساتھ واپس کرنے والے کو عمرے کا انعام۔اس موقع پر جےیوآئی کے صوبائی نائب امیر مفتی فضل غفور ، ناظم وفاق خیبرپختونخوا مولانا حسین احمد، رکن عاملہ وفاق المدارس مولاناسید عبدالبصیرشاہ موجود تھے
سوات: جےیوآئی ملاکنڈ ڈویژن کے زیر اہتمام ٹیکس نفاذ کے خلاف بھر پور اجلاس کے بعد صوبائی نائب امیر مفتی فضل غفور صاحب پریس کانفرس کررہےہیں۔
@iFazliGhafoor
سوات: رہنما جےیوآئی مفتی فضل غفور کی اہم پریس کانفرنس
ون پوائنٹ ایجنڈے پر آج کا یہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔
1۔ مالی سال 2026-27 کا جو بجٹ پاس ہوا ہے، اس کے فنانس بل میں ملاکنڈ ڈویژن پر مختلف اقسام کے ٹیکسوں کے نفاذ اور کسٹمز ایکٹ کی ایکسٹنشن کے حوالے سے جو عوامی بازگشت سنائی دے رہی ہے، اس نے عوام میں شدید بے چینی، اضطراب اور اشتعال کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
چنانچہ جس وقت سابق فاٹا اور ہمارے ملاکنڈ ڈویژن، جو Provincially Administered Tribal Areas (PATA) کے نام سے ہمارے آئین میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتا تھا، 27 مئی 2018ء کو فاٹا کے انضمام کے ساتھ جب ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت کو ختم کیا جا رہا تھا، اس وقت بھی جمعیت علمائے اسلام نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی آواز بن کر اس حیثیت کے خاتمے کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔
گو کہ اسمبلی میں ہماری تعداد کم تھی، لیکن جمعیت علمائے اسلام کے علاوہ باقی جماعتوں نے ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت کے خاتمے کی حمایت کی، جس کے نتائج آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ان نتائج میں کسٹمز ایکٹ کی ایکسٹنشن اور مختلف اقسام کے ٹیکسوں کا نفاذ بھی شامل ہے۔
چنانچہ ایک کروڑ سے زائد آبادی والے اس ڈویژن میں اگر شرحِ غربت کو دیکھا جائے تو پچاس سے ساٹھ فیصد تک لوگ غربت کا شکار ہیں۔ ساٹھ فیصد ہمارے نوجوان بیرونِ ملک مزدوری کر کے اپنے گھروں کے چولہے جلا رہے ہیں، جبکہ گیارہ لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
پھر 1969ء میں ہمارا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوا۔ 1947ء سے 1969ء تک جو ترقیاتی فنڈز پاکستان کے دیگر علاقوں میں خرچ ہوتے رہے، ملاکنڈ ڈویژن ان فنڈز سے محروم رہا۔ اس وقت سے یہ ایک پسماندہ علاقہ ہے، اور پھر دہشت گردی، فوجی آپریشنز، زلزلوں اور سیلابوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔
امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں کی تاجر برادری خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی۔ ہماری شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، دن ہو یا رات، ڈاکوؤں کا راج رہتا ہے۔ بونیر کی بین الصوبائی شاہراہ گزشتہ رات بارہ بجے سے صبح چار بجے تک ڈاکوؤں کے نرغے میں رہی۔ ایسی صورتحال میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام پر ٹیکسوں کا بم گرانا، میرے خیال میں، ایک نئے کشمیر جیسے حالات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اسی نوعیت کے حالات پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام سب سے پہلے اپنی قیادت کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ ہمارے صوبائی امیر، سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن صاحب نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی آواز بن کر اس ٹیکس کے نفاذ کے خلاف سینیٹ میں کال اٹینشن نوٹس جمع کرایا، جبکہ محترمہ نعیمہ کشور صاحبہ نے قومی اسمبلی میں اس ظالمانہ ٹیکس کے خلاف ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرایا۔
ہم قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان میں ملاکنڈ ڈویژن کی آواز بننے پر اپنی قیادت کو ملاکنڈ ڈویژن کے ایک کروڑ عوام کی جانب سے سلام بھی پیش کرتے ہیں اور خراجِ تحسین بھی پیش کرتے ہیں۔
ساتھ ہی ہمارے گیارہ ایم این ایز اور اٹھائیس ایم پی ایز، خواہ وہ فارم 47 کے ہوں، فارم 46 کے ہوں یا فارم 45 کے، اور خواہ وہ صوبے میں برسرِ اقتدار ہوں یا وفاق میں، ہم اس موقع پر ان سب سے استدعا کرتے ہیں کہ متحد ہو کر قوم کی آواز بنیں۔
آپ قوم کی آواز بنیں۔
آپ قوم کی زبان بنیں۔
اسی کے ساتھ ہم ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس موقع پر غفلت کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ آگے بڑھ کر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کریں۔
پانچ تاریخ کو ٹریڈ یونین کی جانب سے جس احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جمعیت علمائے اسلام ملاکنڈ ڈویژن اس کی مکمل تائید اور حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ ان شاء اللہ العزیز، ہمارے کارکنان اور جمعیت بزنس فورم سے وابستہ تاجر برادری اس احتجاج میں بھرپور شرکت کرے گی۔ آئندہ بھی جمعیت علمائے اسلام صفِ اول میں رہتے ہوئے قائدانہ کردار کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھائے گی۔
اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کی تمام ضلعی، تحصیل اور مقامی تنظیموں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس عوامی مسئلے کو عوام تک پہنچائیں، عوام کو اس حوالے سے بریف کریں، انہیں اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونے پر آمادہ کریں، اور تحصیل و ضلعی سطح پر آل پارٹیز کانفرنسز منعقد کریں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ملی و قومی وحدت کے ساتھ ملاکنڈ ڈویژن کے حق میں آواز بلند کی جا سکے۔
پریس ریلیز
جمعیت علماء اسلام پاکستان
02 جون 2026
اسلام میں اجتماعیت اور نظمِ جماعت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، ذاتی رائے کو اجتماعی فیصلوں پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔مولانا فضل الرحمان
کراچی :
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام اجتماعیت، نظمِ جماعت اور اجتماعی قیادت کی اطاعت کا دین ہے۔ جماعت سے وابستگی کے ساتھ اس کے اجتماعی فیصلوں کی پاسداری ہر کارکن اور ذمہ دار کی دینی و تنظیمی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی فرد کی ذاتی رائے یا اختلافِ نظر، اجتماعیت سے علیحدگی یا اجتماعی نظم سے انحراف کا جواز نہیں بن سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کامیاب تحریکیں اصول، حکمتِ عملی اور واضح پالیسی کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں۔اس لیے جذبات ہمیشہ پالیسی کے تابع ہونے چاہئے ۔جبکہ پالیسی کو وقتی جذبات کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ برصغیر کی دینی و سیاسی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ تقسیمِ ہند سے قبل امارتِ شرعیہ کے قیام کی تجویز پر حضرت شیخ الحدیثؒ نے اس بنیاد پر اختلاف کیا تھا کہ امارت کے قیام کے لیے قوت و اقتدار کا ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ کے ساتھ السیاسۃ الاسلامیہ کے موضوع پر بھی ایک مستقل کتاب شامل کی جانی چاہیے تاکہ علماء کرام عصری سیاسی تقاضوں اور اسلامی سیاسی فکر سے بہتر طور پر واقف ہو سکیں۔
بعد ازاں اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کے تحت صدرِ وفاق اور ناظمِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ بھی مکمل ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو آئندہ پانچ سال کے لئے صدرِ وفاق اور قاری حنیف جالندھری صاحب کو ناظمِ اعلیٰ برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی، جسے شرکائے اجلاس نے مکمل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا۔
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری کے مطابق قائدِ جمعیت نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ دینی مدارس کی آزادی، اتحادِ امت، نظریاتی تشخص اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پہلے سے زیادہ قوت اور یکجہتی کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
محمد اسلم غوری نے مفتی تقی عثمانی کو صدر وفاق اور قاری حنیف جالندھری کو ناظم اعلیٰ وفاق منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ۔
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان