इस पोस्ट को ज्यादा से ज्यादा शेयर करे ताकि हॉस्पिटल के उपर सख्त कार्रवाई हो सके
मां बाप से पैसे लिए इलाज किया फिर गंभीर बच्चे को अस्पताल से बाहर कर दिया माता-पिता बच्चे को लेकर बाहर बैठे है क्या यही सिस्टम है भारत देश का 😡
सभी साथी सपोर्ट करिए ये सामाजिक मुद्दा है करवाई होनी चाहिए
کس کس ظلم کو روئیں ، شئیر کر کے سرکاری اداروں کو جھنجوڑنے میں کردار ادا کریں۔
یہ جو بزرگ نابینا عورت نظر آرہی ہے کل اپنی بیٹی سے ملنے گئیں جب یہ بیچاری اپنے فلیٹ میں واپس لوٹیں تو وہاں پہ ایک اور فیملی موجود تھی
پہلے ان کو لگا کہ کہ یہ غلط ایڈریس پہ آگئیں ہیں کیونکہ نابینا جو تھیں نظر نہیں آتا تھا
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بالکل درست ایڈریس پہ آئی ہوئی ہیں
لیکن ان کے فلیٹ پہ با اثر بلڈرز نے قبضہ کرلیا ہے
یہ بیچاری لیاقت آباد کراچی سپر مارکیٹ کی حدود میں موجود تھانہ میں گئیں وہاں فلیٹ پہ بااثر نعمان نامی شخص نے قبضہ کروایا ہوا تھا ۔
انہوں نے تمام کاغذات پولیس کو دیکھائے لیکن پولیس وہی بک چکی تھی انہوں نے کاروائی سے انکار کردیا
اس بیچاری بیوہ کا آخری بڑھاپے کا سہارا فلیٹ ہی ہے اور اب تک ان کا سامان اندر محصور ہے
اس بیچاری بیوہ کے لیئے آواز اٹھائیں ویڈیوبھی سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔
ہے کیا کوئی اس بیچاری کی مدد کرے گا ؟؟؟؟
😥😪😥
ये हैं राजेंद्र दादाबी जी...
ये जिस इमारत की तरफ इशारा कर रहे हैं, वह नेपाल की भयावह बाढ़ में ध्वस्त हुई एक स्कूल की इमारत है।
जब आपदा आई, इस स्कूल में कुल 1643 बच्चे मौजूद थे।
हेडमास्टर राजेंद्र जी के पास आपदा से कुछ ही मिनट पहले ऊपरी इलाके में रह रहे उनके एक मित्र का फोन आया और उन्हें बाढ़ की सूचना मिली।
राजेंद्र जी ने बेहद त्वरित निर्णय लिया और कार्रवाई की... एक सेकंड बर्बाद किए बिना उन्होंने स्कूल के हर बच्चे को बेहद सूझबूझ से बाहर निकाला और उन्हें ऊँचे स्थान पर ले गए। बड़े बच्चों व अन्य शिक्षकों ने छोटे बच्चों को गोद में उठाकर ऊंचाई पर पहुँचाया।
एक-एक बच्चे व साथी को स्कूल से निकालकर राजेंद्र जी खुद वहाँ से हटे।
राजेंद्र जी ने सिर्फ 1643 बच्चों का जीवन ही नहीं बचाया... बल्कि वो नेपाल के भविष्य की एक पीढ़ी को बचाने वाले हीरो हैं।
सैल्यूट राजेंद्र दादाबी जी!
"میں بھوکی ہوں ، مجھے کھانا چاہئیے" ! فلسطینی بچی
میرا مشن صرف فلسطین کی آواز اُٹھانا ہے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دُنیا تک پہنچانا ہے اور جو مسلمان خاموش بیٹھے ہیں اُنکو بھی آواز اُٹھانے پر قائل کرنا ہے ہم پر جہاد فرض ہو چُکا ہے جس حیثیت میں بھی ہیں اپنا فرض ضرور ادا کریں
اگر آپ کی بھی بیٹیاں ہیں ۔ تو آیت نور کے والد کی آواز بنیں ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کتنے کرب سے کہہ رہا ہے کہ میں غریب ہوں میرا ساتھ دیں ۔ میری بیٹی 14 روز سے لاپتہ ہے ۔ مجھے نیند بھی نہیں آرہی ۔
آپ تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ آواز ٹھائیں ۔
#JusticeForAyatNoor
سیٹ پر بیٹھا شخص اپنے آپ کو فرعون کیوں سمجھ بیٹھتا ہے
یونیورسٹی آف اوکاڑا کے غریب سیکیورٹی گارڈ کی تنخواہ تین ماہ سے روکی رکھی آواز اٹھائی تو اسے مارا گیا اور اسے جبری ریٹائر کردیا گیا
یہ ویڈیو ہر جگہ پہنچانا آپ پر فرض ہے کیونکہ غریب کی اگر کوئی سنتا تو وہ سوشل میڈیا ہی سنتا ہے
مجھے میرے ماں باپ سے ملائیں۔۔!!
اس خاتون نے اپنی داستان سنائی تو سن کر کانپ گیا۔
کہتی ہے: میری عمر چار سے پانچ سال تھی،میرے والد کا ایک بہت ہی عزیز دوست جسکا نام *** تھا ۔اسکا ہمارے گھر آنا جانا بھی لگارہتا تھا۔
والد کے دوست نے ایک دن مجھے کہا چلو تمہیں جھولا جھلاتا ہوں۔میں خوشی خوشی ساتھ روانہ ہوگئی۔
وہ مجھے ٹرک میں بٹھاکر دور کہیں اپنے ایک رشتےدار کے ہاں لے گیا اور مجھے کہا یہ تمہارے ماں باپ ہیں۔
جیسے جیسے میرے والدین شاید ڈھونڈتے ڈھونڈتے قریب پہنچتے وہ شخص کسی دوسرے رشتے دار کے پاس منتقل کردیتا۔ میں تقریبا 8 سال انکی قید میں رہی چار سے پانچ جگہے تبدیل کئے انہوں نے۔
پھر آخری بار جس گھر میں تھی اس گھر میں ایک بزرگ موجود تھا۔ایک دن گھر میں کوئی نہیں تھا۔ بزرگ نے مجھے کہا بیٹا یہاں سے نکل کر تم بھاگ جاو۔ جہاں بھی جاوگی اللہ تمہارا بھلا کرےگا لیکن یہاں سے کسی صورت خود کو نکال دو۔
میں نکل کر ایسے بھاگی کہ پیچھے دیکھا ہی نہیں جاتی رہی جاتی رہی۔
کسی علاقے میں پہنچ کر ایک فیملی کے ہاتھ لگی۔ انہوں نے مجھ رکھ لیا۔ میں 13 سال کی ہوچکی تھی۔ 13 سال کی عمر میں میری شادی کرلی گئی۔
سال 2001 میں میری شادی ہوئی تھی۔8 سال قید اور چھبیس سال شادی کے ہوئے۔34 سال قبل کا واقعہ ہے یہ۔
میری دھندلی یادوں کے مطابق میرا نام گھر میں عندل حفیظ تھا والد کا نام انور تھا اور والدہ کا نام سکینہ تھا۔ اور ہمارے ایک ماموں کا نام نواز ڈوگر تھا۔
ہمارا گھر گاوں میں تھا۔کھیتوں کے درمیان گھر بنا ہوا تھا۔گھر کے باہر کنواں تھا۔قریب میں امرود کا درخت تھا۔اور ایک دربار بھی تھا۔
میں ابھی پانچ بچوں کی ماں ہوں لیکن میرے ماں باپ کی یاد آج تک مجھے چین سے جینے نہیں دے رہی۔
خدا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
تمام دوست انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
31 july 2026
#waliullahmaroof