چیف صاحب ، حکم کی تعمیل ہو چکی۔ سرکاری مطالعہ پاکستان کی جگہ سیاق و سباق اور مستند حوالوں کی مدد سے اصل "تاریخ پاکستان" لوگوں کے حوالے ہو چکی ہے 🙏🏼
یہ ایک محفوظ ویب سائٹ ہے جہاں دنیا بھر کے ریسرچرز اپنی ریسرچ اپلوڈ کرتے ہیں ۔ اپ کتاب ضرور ڈاؤن کریں
https://t.co/QU9gDV6YVf
حکومت پاکستان اب ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ کھل کر ہمارے والد کو خاموش اور انکی زندگی کو نقصان پہنچانے پر کاربند ہے۔ قاسم خان
بارہا کوشش کے باوجود حکومت پاکستان ہمیں ہمارے والد سے ملاقات کی غرض سے ویزا دینے کے سلسلے میں تعاون نہیں کر رہی۔ قاسم خان
قاسم خان: وہ کھلم کھلا میرے والد کو جیل میں قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
لندن، 27 اگست 2026 — سکائی اسپورٹس
انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز پر جاری دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن لنچ کے وقفے میں سکائی اسپورٹس نے سابق وزیرِ اعظم اور کپتان عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کا خصوصی انٹرو��و نشر کیا۔ انٹرویو سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن نے لیا۔تقریباً 18 منٹ کے اس انٹرویو میں دونوں بھائیوں نے اپنے والد کی صحت، قیدِ تنہائی اور علاج تک رسائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ قاسم خان نے کہا کہ ”یہ بالکل واضح ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں— وہ کھلم کھلا میرے والد کو جیل میں قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“بیٹوں کا کہنا تھا کہ عمران خان تین سال سے قید ہیں، ایک آنکھ کی بینائی کا بڑا حصہ چلا گیا ہے اور وہ زیادہ تر وقت چھوٹی کوٹھری میں رہتے ہیں۔ دونوں نے بتایا کہ وہ کئی سال سے والد سے نہیں مل سکے اور ٹیلیفون رابطہ بھی محدود ہو چکا ہے۔
پی سی بی نے اس انٹرویو کے نشر ہونے پر سکائی اسپورٹس سے باضابطہ شکایت کی۔ بورڈ نے لنچ سے پہلے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر انٹرویو چلایا گیا تو پاکستانی ٹیم میدان میں واپس نہ آنے کا اختیار رکھتی ہے۔ سکائی نے انٹرویو کچھ دیر ملتوی کیا، مگر بعد میں نشر کر دیا۔ پی ٹی وی نے یہ انٹرویو نہیں دکھایا۔عمران خان کی صحت پر بین الاقوامی سطح پر بھی خدشات بڑھ رہے ہیں اور کئی سابق کپتانوں نے ان کے مناسب علاج کی اپیل کی ہے۔
سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن
عمران خان کیلئے ہماری اپیل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہے، پاکستانی سیاست میں مداخلت کرنا مقصد نہیں، ہماری درخواست صرف یہ ہے کہ عمران خان کو ضروری طبی توجہ اور مناسب علاج فراہم کیا جائے۔ 21 سابق کپتانوں نے عمران خان کو مطلوبہ طبی امداد فراہم کرنے کے مطالبے پر خط پر دستخط کیے۔
26اگست 2026کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد کی فائرنگ سے رینجرز اہلکار ہلاک: پولیس
BBC
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پونچھ ڈویژن کے ڈی آئی جی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ��یک رینجرز اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گئے۔ڈی آئی جی کے ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ ارکان نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک کو بند کر رکھا ہے، جسے کھلوانے کے لیے ’کلیئرنس آپریشن‘ کیا جا رہا ہے۔پریس ریلیز کے مطابق سرساوہ تا تراڑ کھل سڑک پر کلیئرنس آپریشن کے دوران ’کالعدم کمیٹی کے سنائپر‘ نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں رینجرز کے سپاہی شاہ نواز سینے میں گولی لگنے سے ہلاک، جبکہ لانس نائک بلال کندھے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔
تبصرہ
تنگ آمد بجنگ آمدپاکستان میں آج دو متضاد انتہاؤں کا منظر پیش ہو رہا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی گاندھی گیری ہے، جس کے باوجود ریاست نہتے شہریوں پر بدترین تشدد کر رہی ہے۔ ٹاپ لیڈر سمیت تقریباً پوری قیادت قید میں ہے۔ جو لوگ بظاہر آزاد ہیں وہ بھی دراصل قید ہی ہیں؛ انہیں کسی قسم کی مزاحمت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرا سی ہمت دکھانے پر خفیہ اداروں کے لوگ پولیس ور��ی میں گھروں پر اس طرح حملہ آور ہوتے ہیں جیسے اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف کرتا ہے۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مسلح مزاحمت جاری ہے، جہاں ریاست اپنی ہی آبادیوں پر ڈرون اور جنگی طیاروں سے حملے کر رہی ہے۔ کشمیر میں بھی اب مسلح جدوجہد شروع ہو چکی ہے۔معاشی صورتحال یہ ہے کہ پورا بجٹ دفاع اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے کچھ بچتا ہی نہیں۔ جو رقم ریاست کے روزمرہ امور چلانے کے لیے وقف ہے، وہاں نیب کے جنرل کی ناک کے نیچے بھرپور کرپشن ہو رہی ہے۔
26 اگست 2026
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدت پسندوں کی کارروائیاں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں,
محمد کاظم، بی بی سی اردو�� کوئٹہ
[ کوئٹہ ]
|
v
[ ضلع مستونگ ] ──► (چوتو: کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر پل پر دھماکہ)
|
v
[ ضلع قلات ] ──► (سیمنٹ سے لدی 2 مال بردار گاڑیوں پر فائرنگ)
|
┌─────────────────┴─────────────────┐
▼ ▼
[ ضلع خاران ] [ ضلع چاغی ]
├── شہر میں ناکہ بندی کی کوشش └── (چہتر کا علاقہ: 4 مال بردار گاڑیوں پر فائرنگ)
├── پولیس گاڑی کو آگ لگانا
├── سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں
└── بیسیمہ چوکی کا دھماکہ و 4 پولیس اہلکاروں کا اغوا
متاثرہ اضلاع اور ان میں ہونے والے واقعات کی تفصیل:
ضلع مستونگ (مقام: چوتو): کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر واقع پل کو دھماکہ خیز مواد سے جزوی طور پر نقصان پہنچایا گیا۔
ضلع قلات: مسلح افراد کی فائرنگ سے سیمنٹ سے لدی 2 مال بردار گاڑیوں کے ٹائروں کو نقصان پہنچا۔
ضلع خاران (بشمول بیسیمہ):
اینٹری و ایگزٹ پوائنٹس پر ناکہ بندی کی کوشش اور پولیس کی گاڑی کو آگ لگانا۔
سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان رات دیر تک شدید جھڑپیں۔
بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکے سے اڑانا اور 4 پولیس اہلکاروں کا عارضی اغوا۔
ضلع چاغی (مقام: چہتر): فائرنگ کے ذریعے 4 مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے پی ایس پشاور سے PIMS کے سانحے تک: مگرمچھ کے آنسو اور لاجواب سوالات!
آج جب سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف غفور جیسے عہدیدار PIMS کے سانحے پر پسماندگان سے ہمدردی کے پیغام بھیج رہے ہیں، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ج�� اپنے دور میں اے پی ایس کے غمزدہ والدین کو مطمئن نہ کر سکے، وہ آج کس منہ سے یہ ہمدردی کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ غلط پالیسیوں، سیاسی مداخلت اور حقیقی احتساب کے فقدان نے ملک کو مسلسل ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جہاں پاکستان ایک سانحے کے صدمے سے ابھرتا نہیں کہ دوسرا سانحہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ جب تک ماضی کی غفلتوں کا شفاف اور بلا تفریق احتساب نہیں ہوتا، یہ زخم یونہی رسے رہیں گے اور ہمدردی کے تمام دلاسے محض 'مگرمچھ کے آنسو' ہی کہلائیں گے۔
16 دسمبر 2014 کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے 132 معصوم بچوں سمیت 140 سے زائد افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔ یہ دلخراش سانحہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے خونی اور دردناک واقعہ شمار کیا جاتا ہے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول انکوائری رپورٹ اور شہداء کے والدین کے تحفظات
16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے خونریز حملے کے بعد جہاں پورا ملک سوگوار تھا، وہیں شہید بچوں کے والدین کے دل انصاف کی عدم فراہمی پر مسلسل مضطرب رہے۔
اگرچہ سپریم کورٹ کے حکم پر پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم خان پر مشتمل ایک رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے 2020 میں اپنی تفصیلی انکوائری رپورٹ پیش کی، لیکن متاثرہ والدین اس سے مکمل طور پر مطمئن یا خوش نظر نہیں آئے۔ والدین کا پہلے دن سے یہ واضح مؤقف تھا کہ صرف حملہ آور دہشت گردوں کو سزا دینا کافی نہیں، بلکہ انٹیلی جنس الرٹ کے باوجود ہونے والی شدید سیکیورٹی غفلت کے ذمہ دار اعلیٰ حکام کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اگرچہ کمیشن کی رپورٹ میں سیکیورٹی ناکامیوں اور مقامی سطح پر سہولت کاری کی نشاندہی کی گئی، مگر والدین کا ماننا تھا کہ رپورٹ میں واقعے کے وقت کے ذمہ دار اعلیٰ فوجی و انتظامی عہدیداروں پر راست ذمہ داری عائد کر کے ان کے خلاف سخت سفارشات نہیں کی گئیں۔
یہی وجہ ہے کہ 'اے پی ایس شہداء فورم' کے پلیٹ فارم سے والدین نے عدالتِ عظمیٰ میں بھی بارہا اعلیٰ سطح کے احتساب اور شفاف انصاف کی درخواست کی، لیکن ان کے بنیادی سوالات کے تشنہ رہنے کے باعث ان کا عدم اطمینان اور دکھ آج بھی برقرار ہے۔
#APS #PimsTragedy #AsifGhafoor #Pakistan #JusticeForAPSScholar
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران اور امریکی پیغام رسانی کے دعوے
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا، ’’میں یہ بھی واضح کرنا چاہوں گا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر ایران کا دورہ کیا، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔ ان کا دورہ خالصتاً پاکستان کے ثالثی کردار کے تناظر اور پس منظر میں تھا۔‘‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے دورے کے موقع پر ذرائع ابلاغ، بھارتی میڈیا اور تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں کی گئیں کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا پیغام لے کر ایران پہنچے ہیں تاکہ واشنگٹن کے لیے جاری بحران اور ممکنہ جنگ سے نکلنے کا باعزت راستہ تلاش کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس دورے سے قبل، اس کے دوران اور دورے کے بعد ذرائع ابلاغ کے چند اداروں اور مبصرین نے یہ تاثر دیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر ٹرمپ کا پیغام لے کر ایران گئے ہیں۔وزارت خارجہ کی بریفنگ کے دوران ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’امریکی صدر اور فیلڈ مارشل کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی تھی، جس کے بعد فیلڈ مارشل نے ایران کا دورہ کیا۔
واضح رہے کہ جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے 24 اگست کو ٹرمپ اور عاصم منیر میں ٹیلیفونک رابطے کی خبر رپورٹ کی تھی .یونیورسٹی آف تہران میں انگریزی ادب کے پروفیسر سید محمد مرانڈی نے 24 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ پاکستانی ثالثوں نے ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف پہنچایا اور ایران کا جواب حاصل کیا۔
اسی دوران بعض علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ یہ تاثر دے رہے تھے کہ پاکستانی وفد امریکہ کے لیے پیغام رسانی کر رہا ہے۔
ایران کے انگریزی زبان کے سرکاری اخبار ’تہران ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ دباؤ اور دھمکی کے ذریعے ایران کو جھکانے میں ناکام ہو گیا ہے، اور اب چاہتا ہے کہ وہ اس بحران سے بھی نکل آئے اور شرمندگی سے بھی بچ جائے۔25 اگست کو ’ایران کے سامنے جواری کا ہاتھ آشکار ہو گیا‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے ٹیزر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’ٹرمپ نے بیسنٹ کے ذریعے معاشی دباؤ کا پتا کھیل دیا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران بھیج دیا تاکہ جنگ کی دلدل سے نکلنے کا باعزت راستہ تلاش کیا جا سکے۔‘
سخت گیر ایرانی روزنامے ’جوان آن لائن‘ نے بھی پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے تہران کے دوروں کو سفارتکاری کی بحالی کے لیے امریکہ کی بے چینی کی علامت قرار دیا۔
بدخشاں جھڑپیں: طالبان کا ہیلی کاپٹر تباہ، پاکستان کی جانب سے افغان الزامات کی سختی سے تردید
افغانستان کے صوبے بدخشاں کے مرکزی ضلع نسی میں جمعرات 13 اگست کو طالبان مخالف مقامی جنگجوؤں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے دوران طالبان کا ایک ملٹری ہیلی کاپٹر فائرنگ کا نشانہ بن کر تباہ ہو گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر کو طالبان کے منحرف کمانڈر جمعہ خان فتح کے حامی جنگجوؤں نے مار گرایا، اور اس میں سوار تمام افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم ان ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس واقعہ کے تناظر میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈی ڈبلیو کو دیے گئے انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ بدخشاں کی جھڑپوں میں پاکستانی فوجی اہلکار ملوث تھے اور پاکستان طالبان مخالف گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔
تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ کے مطابق پاکستانی ریاست کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ افغانستان میں جو بھی حکو��ت آئے وہ اس کی تابعداری کرے، اور اب چونکہ افغان طالبان ان کی تابعداری نہیں کر رہے تو انہوں نے بلوچستان کی پشتون بیلٹ میں موجود سابق افغان آرمی کے اہلکاروں کو مسلح کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف ٹی ٹی پی کو افغانستان کی جانب سے سپورٹ حاصل ہے۔
تاہم، پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ذبیح اللہ مجاہد کے الزامات اور پاکستان کی شمولیت کے دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا، ’’میں یہ بھی واضح کرنا چاہوں گا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر ایران کا دورہ کیا، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔ ان کا دورہ خالصتاً پاکستان کے ثالثی کردار کے تناظر اور پس منظر میں تھا۔‘‘
🤣🤣🤣
صرف بنگلہ د��ش بننا ہی ٹریجڈی نہیں تھی اس سے بھی بڑی ٹریجڈی یہ تھی کہ پاکستانی فوج نے لاکھوں کی تعداد میں اپنے ہی بنگالی شہریوں کو مار ڈالا ان کا قتلِ عام کیا ان کی نسل کشی کی اور ان کا ریپ کیا، بنگلہ دیش کے بعد پاکستانی فوج افغانستان میں الجھ گئی تو عوام سے توجہ ہٹ گئی، افغانستان سے فارغ ہوئی تو اب دوبارہ پاکستانیوں سے الجھ گئی ہے اور اسوقت 50 فیصد سے زیادہ پاکستان میں سول جنگ جاری ہے، بنگلہ دیش میں دردناک تاریخ لکھنے کے بعد اب پاکستان میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ ڈاکٹر معید پیر زادہ
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
اندازہ کریں کہ یہ بندہ آج سے چند دن پہلے مغرب کے ہسپتالوں کی برائی کر رہا تھا اور پاکستانی ہسپتالوں کی تعریف۔ میرے سوا، بہت سے لوگ اس سے متفق تھے ۔ میں نے مختصر طور پر کمینٹ کی تھا یہ تصویر صرف ایک رخ ہے۔
پمز کے بارے میں وزیر صحت کی پارلیمنٹ میں تقریر سن لیں اور پاکستانی ہسپتالوں کی مقامی اور عالمی میڈیا پر کوریج دیکھ لیں ۔ ان سب پر لکھ کی لعنت جنہوں نے اس پوسٹ کو بغیر سوچے سمجھے اینڈ و رس کیا تھا ۔🖕
بندہ مرتا مر جائے، کوئی پوچھنے والا نہیں — انگلینڈ کے ہسپتالوں کے ایمرجنسی سسٹم کا آج ایک تلخ تجربہ ہوا۔
آج میرے ایک دوست کو اچانک سانس لینے میں شدید دشواری محسوس ہونے لگی۔ ہم نے فوراً ایمرجنسی سروس کو کال کی۔ تقریباً آدھا گھنٹہ سوال جواب میں گزر گیا۔ ایسی حالت میں مریض اور اس کے ساتھ موجود لوگوں کے لیے ایک ایک منٹ بہت بھاری ہوتا ہے، اور آپ سے مسلسل سوالات کیے جا رہے ہوں تو دل میں یہی خیال آتا ہے کہ خدا نخواستہ اتنی دیر میں مریض کی حالت مزید خراب نہ ہو جائے۔
آخرکار ہمیں بتایا گیا کہ تمام ایمبولینسز �� مصروف ہیں اور ایمبولینس آنے میں تقریباً 5 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ کہا گیا کہ اگر ممکن ہو تو کسی دوست یا ٹیکسی کے ذریعے ہسپتال پہنچ جائیں۔ ہم نے کہا کہ معاملہ ایمرجنسی کا ہے، اسی لیے ایمبولینس مانگ رہے ہیں، لیکن جواب یہی تھا کہ یا پانچ گھنٹے انتظار کریں یا خود ہسپتال پہنچیں۔
خیر، ہم ٹیکسی لے کر ہسپتال پہنچ گئے۔ ایمرجنسی سروس والوں نے کہا تھا کہ انہوں نے مریض کی تفصیلات ہسپتال کو بھیج دی ہیں اور وہاں جلدی دیکھ لیا جائے گا۔
ہسپتال پہنچ کر ریسیپشن پر موجود خاتون کو پوری صورتحال بتائی کہ مریض کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے اور ایمرجنسی سروس نے ہمیں یہاں بھیجا ہے۔ جواب ملا:
"آرام سے بیٹھ جائیں، پانچ گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں، سینکڑوں مریض انتظار کر رہے ہیں۔"
ہم نے دوبارہ کہا کہ یہ عام مسئلہ نہیں، سانس کا معاملہ ہے اور مریض کو فوری طبی امداد کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، لیکن جواب پھر یہی تھا کہ "ارجنٹ ہو یا کوئی اور، بیٹھ جائیں اور انتظار کریں۔"
میں واقعی سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر کسی ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مریض کو ڈاکٹر تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑے تو پھر لفظ "ایمرجنسی" کا مطلب کیا رہ جاتا ہے��
ہم اکثر پاکستان کے ہسپتالوں اور وہاں کے نظام پر تنقید کرتے ہیں، لیکن اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہوں تو پاکستان میں بہت سے ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں کم از کم مریض کو ابتدائی طور پر 10 سے 15 منٹ میں دیکھ لیا جاتا ہے، خاص طور پر جب مسئلہ سانس یا سینے سے متعلق ہو۔
پردیس میں بیماری انسان کو ویسے ہی توڑ دیتی ہے، اور جب مشکل وقت میں بروقت طبی مدد بھی نہ ملے تو بے بسی اور بڑھ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ پردیس میں کسی کو بیمار نہ کرے، اور دنیا کے ہر مریض کو بروقت علاج اور مدد نصیب فرمائے۔ آمین۔
سوشل میڈیا کی لَت کا کیس: فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے 17 ارب ڈالر میں تصفیہ کر لیا
BBC
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے امریکہ کی 29 ریاستوں اور وفاقی مقدمات کے تصفیے کے لیے 16.68 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی اور پلیٹ فارمز میں نمایاں تبدیلیوں پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان مقدمات میں میٹا پر بچوں کو سوشل میڈیا کی لَت میں مبتلا کرنے، ان کی حفاظت سے متعلق گمراہ کن دعوے کرنے، اور والدین کی رضامندی کے بغیر بچوں کا ذاتی ڈیٹا AI ماڈلز کی تربیت کے لیے جمع کرنے کے الزامات تھے۔ تصفیے کے تحت میٹا بچوں کے لیے روزانہ اور رات کے اوقات میں استعمال کی حدود مقرر کرے گی اور غیر مناسب مواد تک ان کی رسائی روکنے کے اقدامات سخت کرے گی، جبکہ کمپنی نے کسی بھی غلط کام کے ارتکاب کی تردید کی ہے۔
اس تاریخی معاہدے کے ساتھ ہی کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل سے متعلق متعدد ریاستوں کے دعوے بھی طے پا گئے ہیں جن کے تحت متاثرہ ریاستوں کو 45 کروڑ 93 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔
18 اگست کو مقدمے کے آغاز سے قبل میٹا نے کہا تھا کہ کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی مجموعی طور پر 14 کھرب ڈالر تک جرمانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ریاستوں نے عندیہ دیا تھا کہ اصل رقم تقریباً 200 ارب ڈالر کے قریب ہو گی۔
جس ملک میں سانحات عام رونما ہوتے ہیں اور قومیں انہیں بھول کر اگے بڑھ جاتی ہوں تو وہاں انسانی جانوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ ہر چند روز بعد ملک کسی دوسرے سانح کا انتظار کرتا ہے ۔
توجہ ہٹانے کے لئے
24 گھنٹوں بعد کوئی نیا ڈرامہ ' پیدا "کیا جاۓ گا ، قوم پھر اسے سانح کو بھول جاۓ گی جیسا کہ پچھلے سیلاب اور گل پلازا کراچی میں لگی آگ کو لوگ چند دنوں بعد بھول گئے تھے ۔
پاکستان میں واقعات کی رفتار انتہائی تیز ہے اور تمام قوموں کی نمائندگی کرنے والے اور تمام مکتب فکر کے لوگ روح کی گہرایوں تک سفاک اور بے حس لوگ ۔ آج صحافی سینہ پیٹ رہے ہیں ، اس سانح کو بھول کر وہ کل کسی اور واقعہ پر چند گھنٹوں کے لئے سینہ کوبی کریں گے ۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
@Intl_Mediatior ان دونوں تجزیہ کاروں نے اپنی زندگی ویسٹ کی ہے اگر انہیں بنیادی حقیقت آجتک پتا ہی نہیں چلی ۔
افسوس سے لکھنا پڑتا ہے اس ��سل نے پاکستان کا بیڑہ غرق کیا ، مرتے وقت بھی جھوٹ بول رہے ہیں 😡
سلیم بھائی ، پھر آپکو اپنی رائے بھی شامل کرنی چاہئے تھی ۔ یہ دو ٹکے کی عورت اب بیانیہ بناۓ گی اور ہم پڑھ کر ہارن دے کر گزر جائیں ۔
آپکو علم ہونا چاہئے کہ آجکل خفیہ سوسائٹیز والوں کے کارندے زیادہ متحرک ہو چکے ہیں ۔ اپکی اچھی خاصی ریسرچ ہے ۔ ہمارے پاکستانی معاشرے کو پراگندہ کر رہے ہیں ۔ اپ
Fowarded as received
کر کے کمینٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ علیحدہ بات ہے ۔ یہ طریقہ واردات ان لڑکیوں میں عام ہے جو سوشل میڈیا سے پیسا کمانا چاہتی ہیں ۔ انہیں کرنے دیں ۔
اگر اپکی ریچ ہے تو اپ مختلف طریقہ اختیار کریں ۔
اپ نے پہلے کمزور بروکن فیملی کی ہانیہ عامر کو ن��انہ بنایا جو غلط تھا ۔
کیا ہمارے پاس طاقتور لوگوں کو نشانہ بنانے کی اہلیت نہیں ہے ؟
بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدور قتل، ایک زخمی حالت میں بازیاب,محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
میرا تبصرہ
بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے قتل کی خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں، جن میں اکثریت نائی یا حجاموں کی ہوتی ہے۔ چونکہ بلوچستان میری ریسرچ کا بھی حصہ ہے، اس لیے میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ صوبے کے موجودہ حالات کے باوجود پنجابی مزدور وہاں جانے پر مصر کیوں رہتے ہیں، جبکہ پنجاب میں نسبتاً خوشحالی اور دائمی امن موجود ہے۔خیبر پختونخوا میں فوج کے ہاتھوں ٹی ٹی پی کے ارکان کی ہلاکتیں زیادہ نظر آتی ہیں، جبکہ بی ایل اے سے متعلقہ آپریشنز کم سامنے آتے ہیں یا شاید میڈیا میں اتنی نمایاں نہیں ہوتے۔
بلوچستان کے تناظر میں ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ بی ایل اے جاسوسی کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے ٹی ٹی پی کے مقابلے میں ان کی کارروائیاں زیادہ کامیاب اور نمایاں محسوس ہوتی ہیں۔بی ایل اے نے بارہا جاسوسوں کو مارنے کا اعلان بھی کیا ہے، جو میری خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے اور اسی بنیاد پر یہ تبصرہ لکھا جا رہا ہے۔ایک اور اہم حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ فوج کے اندر ب�� ایل اے کی انٹیلی جنس کافی مضبوط ہے۔ وہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام تک حاصل کر لیتے ہیں۔
اس پیٹرن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بلوچستان میں پنجابی مزدور ممکنہ طور پر جاسوسی کے الزام میں مارے جاتے ہیں، اور اس میں خالص لسانی نفرت کا عنصر نسبتاً کم معلوم پڑتا ہے۔ فوج کی انٹیلی جنس انہیں ہائر کرتی ہے، مگر پکڑے جانے کی صورت میں ان کی موت تقریباً یقینی ہو جاتی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔
کیا اپ سمجھے کہ وقت پلٹا کھاتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟
شام: ’بیرل بم مفتی‘ ��حمد حسون کو عمر قید کی سزا
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ شام کی ایک عدالت نے پیر کے روز معزول صدر بشار الاسد کے دور کے سابق مفتی اعظم احمد بدرالدین حسون کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
احمد حسون کو ان کے بیانات اور بشار الاسد حکومت کی حمایت کے باعث بعض حلقوں کی جانب سے ’’بیرل بم مفتی‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ ان پر اسد حکومت کے اقدامات کو مذہبی جواز فراہم کرنے کا بھی الزام تھا۔
احمد حسون 2005 سے 2021 تک، تقریباً 16 سال، شام کے مفتی اعظم رہے۔ وہ بشار الاسد حکومت کے اہم مذہبی حامیوں میں شمار ہوتے تھے اور جنگ کے دوران حکومت کے حق میں متعدد بیانات دیتے رہے۔ وہ مذہبی مواقع پر اکثر بشار الاسد کے ہمراہ نظر آتے تھے۔
انہیں مارچ 2025 میں دمشق کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے تقریباً ایک ماہ قبل وہ طویل عرصے تک روپوش رہنے کے بعد منظر عام پر آئے تھے۔
حسون کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت 25 جون کو شروع ہوئی تھی، جس کے بعد عدالت نے پیر کو انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔
دمشق کی فوجداری عدالت نے پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے حسون کو متعدد جرائم کا مجرم قرار دیا، جن میں تشدد پر اکسانا، ہلاکتوں کو جائز قرار دینا اور اپنے سرکاری مذہبی عہدے کا ناجائز استعمال شامل ہیں۔
احمد حسون نئی شامی حکومت کے تحت سزا پانے والے اسد دور کے دسویں اہم عہدیدار ہیں۔
بنگلہ دیش: عوامی بغاوت کیس میں تین صحافی ٹرائل تک جیل میں
ٹریبونل نے حکم دیا کہ نجی ٹی وی چینل اکاتور ٹیلی ویژن کے چیف ایڈیٹر مزمل بابو، اسی ادارے کی چیف رپورٹر فرزانہ روپا اور روزنامہ بھوریر کاگوز کے ایڈیٹر اور ڈھاکہ نیشنل پریس کلب کے سابق جنرل سکریٹری شیامل دتہ کو بدستور جیل میں رکھا جائے۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ تینوں صحافیوں نے عوامی تحریک کے دوران طلبہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کو ہوا دینے میں کردار ادا کیا۔
تینوں صحافیوں کو شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد مختلف الزامات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے، جن میں جولائی اور اگست 2024 کی تحریک سے متعلق قتل کے مقدمات بھی شامل ہیں۔
تینوں صحافی پیر کو ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے، جس کے بعد جج نے مقدمے کی اگلی کارروائی کے لیے 25 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی اور تفتیشی حکام کو صحافیوں کے خلاف اپنی تحقیقات اور نتائج پیش کرنے کی ہدایت کی۔
***
ایک اور حیرت انگیز خبر
��زنس ریکارڈر کے مطابق ، پاکستان نے دوطرفہ اور ادارہ جاتی تعلقات مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کے تحت بنگلہ دیش کو قانونی اصلاحات اور نظامِ انصاف کی ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں تعاون اور تکنیکی معاونت کی پیشکش کی ہے۔
🤣😂😂😂
ایران امریکہ تنازع: جانی نقصان میں اضافے کے ساتھ جنگ چھٹے مہینے میں داخل
پینٹاگون کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع میں زخمی اور ہلاک ہونے والے امریکی فوجی اہلکاروں کی کل تع��اد بڑھ کر 774 (18 ہلاک اور 756 زخمی) ہو گئی ہے، جس میں حالیہ سیز فائر کے باوجود اضافہ کاغذی کارروائی اور ریکارڈ منتقلی میں تاخیر کے باعث دیکھنے میں آیا؛ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے توسیع نہ کیے جانے پر پیر کو سیز فائر ختم ہو چکا ہے، تاہم فی الحال دونوں طرف سے کسی بڑی جنگی کارروائی کا آغاز نہیں ہوا اور چند ہفتوں میں ختم ہونے کا دعویٰ کیا جانے والا یہ تنازع اب اپنے چھٹے مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔