کچھ لوگ آپ کے خاندان میں ایسے ہوں گے جو آپ کو دفنانے کے لیے میلوں کا سفر کریں گے لیکن جب آپ زندہ ہوں تو وہ آپ کی حمایت کے لیے سڑک بھی عبور نہیں کریں گے
ہر شخص میں خود کشی کا الگ انداز ہے
ایک اچھے کپڑے پہننا چھوڑ چکا ہے ایک آرزوئیں نہیں کرتا ایک پڑھائی چھوڑ چکا ہے ایک محبت نہیں کر رہا
ایک محبت قبول نہیں کر رہا ایک نے اپنی تصویر لینا چھوڑ دیا ہے اسی طرح لوگ 23 24 سال کی عمر میں مر جاتے ہیں اور 60، 70 سال کی عمر میں دفنا دیے جاتے
مکمل فنا نہیں ہوئے بس مدھم پڑتے گئے دن بدن آہستہ آہستہ بغیر کسی آخری الوداع یا چیختے ہوئے اختتام کے ہماری ذات کاکچھ حصہ ہر روز بجھتا گیا یہاں تک کہ روشنیاں ماند پڑیں، مسکراہٹیں تمام ہوئی، اور اداسیوں نے ہمیں آگھیرا۔
میرا دل دکھانے والے اور ذندگی ویران کرنے والے لوگ میری زندگی کا حصہ تو رہ سکتے ہیں مگر پھر کبھی دوبارہ میرے دل میں نہیں داخل ہو سکتے۔ ۔ !!
کبھی بھی نہیں۔۔۔