”ان لوگوں کو 8 فروری 2024 کو ناصرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور کی عوام بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اس شرمناک شکست کے باوجود ایسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کو اقتدار پر بٹھانے اور انگلی پکڑ کر چلانے والوں کے لیے یہ ایک مزید سبق ہے کہ عوام کے ووٹ اور عوام کے فیصلے کی قدر نہ کر کے ملک مضبوط نہیں تباہ ہو جاتے ہیں۔“- @SohailAfridiISF
*Press Release*
PTI slams Maryam for calling neighbouring province a greater threat than India
Waqas questions silence of Sharif-Zardari dynasties over new provinces debate
PTI CIS praises Sindh for overwhelming response, says PTI stands with people on new province issue
ISLAMABAD: Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) Central Information Secretary Sheikh Waqas Akram strongly condemned Punjab Chief Minister Maryam Nawaz’s nonsensical and deeply irresponsible remarks claiming that a neighbouring province posed a greater security threat to her than India, saying such statement was not only reckless but also exposed a disturbing tendency to view a national security challenge through the narrow lens of provincial politics.
In a statement issued by the PTI Central Media Department on Saturday, PTI CIS lashed out at Maryam Nawaz’s short-sightedness, narrow and self-centered political approach, saying her remarks reflected a disturbing tendency to view national security through the prism of personal, familial and provincial interests.
He reminded that the Sharif family had longstanding relations with influential Indian political and business families, with prominent Indian figures, including a Butcher of Gujarat attending Sharif family weddings, while influential figures on both sides had also maintained business partnerships and interests.
Waqas said that such selective political narratives were highly irresponsible, particularly at a time when terrorism remained a national challenge, with no part of the country completely safe from the threat. He stressed that combating terrorism required unity, collective responsibility and cooperation among all federating units, rather than attempts to pit one province against another or exploit the issue for narrow political and provincial interests.
However, PTI CIS recalled that such remarks were not unprecedented, pointing out that her uncle, Shehbaz Sharif, had also made a similarly narrow and reckless statement in the past when he appealed to militants to spare Punjab, which was deeply irresponsible, as it was interpreted as asking militants to direct their terrorist activities toward other parts of the country rather than Punjab.
Waqas said that the PML-N was weakening the federation through its flawed and short-sighted policies, as its governments had carried out military operations and drone strikes in various parts of the country, further fuelling unrest instead of restoring normalcy and peace. He said that rather than taking responsibility for the consequences of their failed policies, PML-N leadership was now going to the extent of sowing seeds of discord and division among the provinces, which is highly condemnable and intolerable.
Waqas said terrorism is a national threat that demands national unity, collective responsibility and a coordinated state response, rather than political point-scoring or the vilification of another province. He said Maryam’s remarks were an attempt to shift blame onto Khyber Pakhtunkhwa and unfairly portray its people as a threat, instead of acknowledging the sacrifices made by the province and its people in the fight against terrorism.
PTI CIS reminded Maryam Safdar that Pakistan’s security challenges cannot be addressed by blaming one province while ignoring the broader national and regional realities.
Waqas said that the country needed leadership capable of thinking beyond provincial boundaries and treating every Pakistani citizen equally. He said that, in the current circumstances, only PTI founder Imran Khan possessed the vision, national outlook and political understanding required to unite the country, strengthen the federation and address the challenges facing Pakistan without discrimination or narrow provincial considerations.
ناجائز نظام کی پیداوار فارم 47 کی جعلی وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے ساتھ لگنے والے پاکستان کے تینوں دیگر صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دیا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے مودی اور انڈیا کو کلین چٹ دے دی ہے۔
اس کے بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اور اس نظام کو بنانے اور چلانے والوں کی سوچ پر بھی مزید سوال کھڑے کر دئیے ہیں !!
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران بھی نوازشریف سمیت یہ ٹولہ غائب رہا تھا اور جنگ کے خاتمے تک کوئی بیان نہیں آیا۔اور ڈان لیکس کے زریعے بھی دہشتگردی کا الزام پاکستان پر لگا دیا تھا- یہ ہمیشہ قومی مفاد کے آگے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں - پاکستان، پاکستانی اور پاکستانی ادارے صرف ان کے لئے تبھی قابل احترام رہتے ہیں جب تک یہ ان کی ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ PMLN کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے-
ان لوگوں کو 8 فروری 2024 کو ناصرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور کی عوام بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اس شرمناک شکست کے باوجود ایسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کو اقتدار پر بٹھانے اور انگلی پکڑ کر چلانے والوں کے لیے یہ ایک مزید سبق ہے کہ عوام کے ووٹ اور عوام کے فیصلے کی قدر نہ کر کے ملک مضبوط نہیں تباہ ہو جاتے ہیں۔
West Indies Champion Batsman Brian Lara joins the Tsunami of Cricket Captains and Champions who are making a vociferous humanitarian appeal for their incarcerated brother and legend, @imrankhanpti
تین دن قبل سوات کے ایک رہائشی علاقے سے پی ٹی آئی سوات کے بانی کارکن، پیرا میڈیکس ایسوسیشن کے مسلسل تین دفعہ منتخب صدر اور ۲۰۱۳ سے میرے حلقے کے سیکٹری خورشید دادا کو سرشام تین ویگو ڈالے اٹھا کر لے گئے۔ تین دن سے منتخب اراکین پولیس سے جواب طلب کررہے ہیں۔ پولیس آئ ایس آئ کے مقامی دفاتر سے۔ دونوں کے مطابق ان کو اپنے علاقے میں ہونے والی کاروائ کے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔ مگر آف دا ریکارڈ فراہم کردہ معلومات کے مطابق سرزمینِ بے آئین پر سیکٹر کمانڈر اسلام آباد بریگیڈئیر فہیم (جی ہاں وہی بریگیڈئیر فہیم جس کا نام ارشد شریف کو ہراساں کرنے اور اس کے بہیمانہ قتل کی ایف آئ آر کی درخواست میں بھی شامل ہے) کے کارندے دندناتے پھر رہے ہیں اور ان کی جہاں مرضی ہو، جس کسی کو بھی اٹھا کر جہاں بھی لے جائیں اور لاپتہ کردیں۔ خورشید دادا کا کیس اکلوتا اور پہلا کیس نہیں ہے گذشتہ کچھ عرصہ میں مجھ سے وابستگی کے شُبے میں متعدد افراد کو اسی طرح سے غیر قانونی طور اٹھایا اور ہراساں کیا گیا ہے اور ان کے عیال کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ پولیس لاعلم۔ حکومتی اہلکار بے بس۔ عوامی نمائندے کسی خاطر میں نہیں۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے پیٹی بھائی بھی بے خبر۔
یہی طرزِ عمل بلوچستان میں روا رکھ کر آج بلوچستان کے حالات اس نہج پر پہنچا دیے گئے ہیں کہ جن کی قربانیاں ازبر کرا کرا کر ملک کے ہر ادارے اور تمام وسائل پر اپنے غیر قانونی غیر آئینی قبضے کا جواز فراہم کیا جاتا ہے انہی جیسے ڈیڑھ درجن جوانوں کی لاشیں راتوں رات خاموشی سے جنازے پڑھوا کر آبائ علاقوں کو بھجوائی جارہی ہیں مگر کچھ نا سیکھ کر باقی پاکستان کو بھی بلوچستان بنانا ہے۔ طاقت کی ہوس میں اندھا ادارہ صرف پاکستان کو مسلسل اس دلدل میں گرائے جارہا ہے جہاں عوام کو اپنے اداروں سے اپنے حقوق کے بعد اپنے مال اور جان کی حفاظت کا سامان خود کرنے پہ غور کرنا پڑرہا ہے۔
My reply to ISPR & attempts by PDM & their handlers to arrest me for two reasons: 1. To prevent me from campaigning bec InshaAllah when elections are announced I will be doing jalsas. 2. To prevent me from mobilising the masses for street movement in support of Constitution if PDM govt & their handlers refuse to obey the SC & violate Constitution on holding of elections.
سپریم کورٹ نے واضح حکم دیا کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں منتقل کرکے ان کا علاج کروایا جائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ۔پھر ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کی قید تنہائی ختم کی جائے ملاقاتیں بحال کی جائیں لیکن اس کے باوجود عمران خان کی ملاقاتیں بحال نہیں ہوئیں ۔ اب وقت آگیا ہے ان پر پریشر ڈالنے کا جو عدالتوں سے فیصلے کرواتے ، جو عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ جب تک عدالتیں انصاف نہیں کرتی عمران خان کی رہائی نہیں ہوتی تحریک جاری رہے گی"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
کل رات میں نے لاڑکانہ ریلی کے دوران فون پر آغا سرور صاحب سے بات کی تھی۔ جو ہوا اس پر سخت افسوس ہے۔ میں نے حلیم عادل شیخ صاحب کو فوری طور پر شو کاز نوٹس جاری کرنے کا کہا تھا، جو ہو چکا ہے۔ پارٹی کے کسی عہدیدار اور خیر خواہ کی جانب سے تشدد قابل قبول نہیں۔ شفاف انکوائری ضروری ہے۔
"جو تحریک آپ لوگوں نے شروع کی ہے جو جوش جزبہ جنون میں دیکھ رہا ہوں انشاء اللہ پورا پاکستان جاگے گا۔آپ نے ایک وعدہ کرنا ہے 27 ستمبر اور اس کے بعد بھی یہ جوش یہ جزبہ یہ جنون کم نہیں کرنا ۔ستائیس تاریخ کا احتجاج انقلابی ہوگا اور انشاء اللہ ہم کامیابی حاصل کریں گے"۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
#ستمبر_مزاحمت_عہد_ہمارا
“ہم لاڑکانہ میں موجودہیں اور ہر طرف عمران خان کا نام ہے ۔لاڑکانہ عمران خان کا ہے پوری سندھ دھرتی عمران خان کے انتظار میں ہے۔ اس دھرتی کو تبدیلی چاہئے یہ دھرتی ظلم سے تنگ ہے، یہ دھرتی جرم سے تنگ ہے” ۔
سلمان اکرم راجہ
کہا جاتا تھا ہم نے ہمیشہ یہ ہی سنا تھا کہ اندرون سندھ صرف ایک ہی پارٹی چلتی ہے چونکہ میں پہلی مرتبہ اندرون سندھ آیا ہوں ہم نے سہی سنا تھا یہاں واقع ہی ایک ہی پارٹی چلتی ہے اور وہ تحریک انصاف ہے!
وزیر اعلی @SohailAfridiISF
سندھ کی دھرتی پر محبتِ عمران خان کا عملی مظاہرہ۔
وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں سندھ اسٹریٹ موومنٹ محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں، عوام کی عمران خان سے محبت اور ان کی رہائی کے لیے ہر حد سے گزر جانے کے عزم کا اظہار ہے۔ شکارپور سے اٹھنے والی یہ لہر 27 ستمبر کو اسلام آباد تک پہنچے گی۔