یہ اکنامک سروے والے پٹواریوں کی ٹائم لائنوں پر کیوں نہیں جاتے جہاں روپیہ مستحکم ہے، صنعتی گروتھ ہو رہی ہے، ایکسپورٹس بڑھ رہی ہیں، سرمایہ کار لائنوں میں لگے پڑے ہیں اور باقی اقوام عالم کی تقدیر کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور ناں میں ہونے والی بات تو سب کو پتہ ہے۔
اکنامک سروے 2026 کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 26 فیصد کمی آئی ہے جبکہ برآمدات میں بھی 2 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس فقید المثال کامیابی پر وزارت صنعت و پیداوار، ایس آئی ایف سی، بورڈ آف انوسٹمنٹ و دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کو مبارک باد
میڈیا کا زول شروع، میٹرو ٹی وی کراچی بند کردیا گیا، بےروزگاروں میں مزید 100 سے زائد کا اضافہ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، اہم سوال ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟!!
🚨🚨
“It is certain, not a single drop of water will go (to Pakistan) in the coming years,” Minister of Water CR Patil told ANI. Patil, said that India is “actively working on it” after “directives” from Prime Minister @NarendraModi. https://t.co/ubcgKSsr17
No comment from the Modi govt at this firing on women in Afghanistan after it has become the Good Taliban. And then people ask why the world doesn't take the Modi regime's complaints on terror seriously. They do note the double standards on the Taliban.
کراچی میں ہوا کی بیٹی کیساتھ دراندگی کی انتہا
سرجانی ٹاؤن سیف المری گوٹھ میں چار ماہ قبل پسند کی شادی کرنے والی 18 سالہ مصباح کو سسرالیوں نے شوہر کیساتھ ملکر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر بھیج دیا، لڑکی دوران علاج انتقال کرگئی
#ZarayeNews#Karachi#JusitceForMidbah
میں نے کافی محنت سے اس دس منٹ کی ویڈیو میں وہ تمام جھوٹ اور پراپیگینڈا بیان کئے ہیں جو ایکشن کمیٹی کے کن کترے، یوتھی اکاونٹس اور ڈالر خور صحافی پھیلا رہے ہیں
اگر آپ کو یہ کوشش پسند آئے تو میری گزارش ہے کہ سچ کو شئیر کریں تاکہ ہم بھارتی ایجنسیوں کی جعلسازی جان سکیں
📢 گلگت بلتستان کے غیور بھائیوں کے نام سندھ کا ایک دردناک پیغام! 💔
میرے گلگت کے بھائیو! آپ دور بیٹھ کر شاید یہ سمجھتے ہیں کہ سندھ میں جمہوریت ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ اور ظلم کا راج ہے۔ بلاول بھٹو زرداری، جو دنیا بھر میں جمہوریت کے بھاشن دیتے ہیں، انہیں خود جمہوریت کی 'ج' کا بھی پتہ نہیں ہے!
🛑 سندھ کی دردناک حقیقت:
نوکریاں برائے فروخت: یہاں غریب کا بچہ ڈگریاں ہاتھ میں لیے خودکشیاں کر رہا ہے اور سندھ حکومت (PPP) میرٹ کا خون کر کے سرکاری نوکریاں لاکھوں، کروڑوں روپے میں بیچ رہی ہے۔
آواز اٹھانے پر دہشت گردی کے پرچے: اگر کوئی غریب، کوئی نوجوان اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، تو اس پر سیدھا دہشت گردی (Terrorism Charges) کے جھوٹے مقدمات بنا کر اسے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔
سندھ کی تباہی: انہوں نے پورے سندھ کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ نہ پینے کا صاف پانی ہے، نہ ہسپتال، نہ تعلیم۔
🤝 گلگت کے بھائیو، میری التجا سنو!
جیسے انہوں نے ہمارے سندھ کو برباد کیا، خدارا اپنے خوبصورت گلگت بلتستان کو ان کے ہاتھوں تباہ مت ہونے دینا۔ ان کے جھوٹے وعدوں اور "بھٹو زندہ ہے" کے نعروں میں مت آنا۔ ان کو ووٹ دینا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے۔
ہم تو سندھ میں بھگت رہے ہیں، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے گلگت کے بھائی بھی اس عذاب سے گزریں۔ جاگو میرے بھائیو، جاگو!
افسرشاہی ہی اس ملک کا اصل نظام ہے سیاستدان بیچارے تو مفت میں گالیاں کھانے کے لیے ہوتے ہیں ۔ سول سروسز اکیڈمی لاہور کے ڈی جی صاحب کو ائیرپورٹ پر پروٹوکول چاہیے پیشگی خط بھی بھیج دیا
ڈی جی صاحب تھوڑا عرصہ پہلے کفایت شعاری مہم کے تحت سائیکل چلا کر دفتر پہنچ کر خاصے مشہور ہوئے تھے ۔ سائیکل چلانے کی ویڈیو کے لیے گاڑی الگ چل رہی تھی پیچھے !
Crazy that this is getting barely any coverage. This year’s European Press Prize was just awarded to an investigative report by the Dutch newspaper De Volkskrant. It is entitled “What the Wounds Tell” and in it the journalists Maud Effting and Willem Feenstra document the cases of 114 children in Gaza under the age of 15 who were struck by a single bullet to the head or chest. Almost all of them died or were left severely disabled. They chose to document only the cases of boys and girls under the age of 15 (though often much younger: aged 3, 4 or 7) because these are children who can be immediately identified as such. “A single bullet in these parts of the body is a clear indication that these children were deliberately targeted“, the two journalists write.
This is the article: https://t.co/YkZrpqBWBQ
Leaving aside the areas where over 20 million (unofficially 30 million) people live with broken roads, littered streets, and no water, our friend Asif is advising media to focus on what nature has gifted to the city. Yet, even that gift as evident from the filth in the water has been ruined due to poor governance and poor waste management.
The media's job is to hold power accountable, not praise it.
Karachi needs a financially empowered local government, with a single mayor ruling over the entire city rather than just 38 percent of it. This mayor must have the authority to control other tiers of government, such as towns, as well as all civic agencies, including cantonment boards.
Furthermore, besides generating substantial local revenue, the mayor must have adequate funds from the province and the Center at his disposal. Only then can these problems truly be solved, and even that is conditional on stopping massive corruption.
Personally, I believe that Karachi should also receive funding, even if as token, from KP, Punjab, and Balochistan, as the city serves as a vital source of income for these provinces, and their people rely on its infrastructure. @murtazawahab1
منسٹری آف آئی ٹی کی ایک سرکاری کمپنی ہے اس کمپنی میں سارے یار دوست لگے ہوئے ہیں اس کمپنی سے انہوں نے اپنے گھروں میں 10/10 کے وی کے سولر لگوائے ہیں ! ثناءاللہ خان ۔۔
پیپلز پارٹی کے سابق صدر کراچی زون، سابق سینیٹر اور زرداری صاحب کے دستِ راز جناب فیصل رضا عابدی جب پیپلز پارٹی کی حقیقت بیان کر رہے ہیں، تو قوی امکان ہے کہ آج سے جیالے، پیپلز پارٹی کے اندھے حمایتی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی خیرات پر پلنے والے بھولڑ حضرات اس سید زادے کو بھی ضیاء لعین کا ساتھی قرار دیتے نظر آئیں گے۔
#PPPChorHai