Mohammad Al-Masri threw his children, his pregnant wife, and his elderly mother out of the window in a desperate attempt to save them from the flames after an Israeli drone crashed into their home
But he watched helplessly as the bodies of his brother Firas, Firas’s wife, and their four children were consumed by the fire, unable to save them
This is life in Gaza
There is no complete survival that leaves room for joy only painful memories that haunt those who survive until they, too, join the martyrs
'They killed my two sons. They killed my wife. They killed my parents. They killed my brothers. I dont know what to do. Please give me one minute and listen to me'
- Mahmoud, an architect in Gaza.
A short video from Egypt has moved millions around the world.
A blind construction worker, identified as Mostafa, is seen carrying a heavy sack of cement on his shoulder while his young son, Yaseen, gently holds His hand and guides Him safely with every step.
Mostafa shared that He has worked in construction since He was young. Some time ago, His eyesight began to fade until He eventually lost His vision completely. Yet instead of giving up or asking for charity, He chose to keep earning an honest living through hard work.
Every morning, He leaves home in search of work, taking on physically demanding jobs to provide for His family. Beside Him is His greatest source of strength His little son. While the father carries the weight of cement, the child carries the weight of responsibility, becoming the eyes that lead Him forward.
Mostafa's words touched countless hearts:
"My son is my eyes. He guides me wherever I go and safely brings me home."
The story quickly spread across social media, inspiring people with its message of dignity, resilience, and unconditional love. Many called for greater support for hardworking families like theirs so they would not have to endure such hardship just to meet basic needs.
Despite the attention, Mostafa asked for only one thing: an opportunity. His dream is to educate His children and give them a better future through work suited to His physical condition.
Sometimes, the brightest vision doesn't come from sight it comes from love, sacrifice and responsibility. For Mostafa, that light is His little son, Yaseen.
🇪🇸💪🇵🇸Spain showed the world that humanity is more important than politics or power. While many stayed silent, Spain stood for justice and innocent people.
Israelis in private Telegram groups are mocking the death of the 19 year-old U.S. soldier Isabella Gonzales.
She died protecting Israel.
They are laughing.
میرے دوست میں عام سا بندہ اور رپورٹر ہوں پتہ نہیں آپ نے مجھ سے ایسی اپنی طرح احمقانہ توقعات کیوں باندھ رکھی ہیں کہ ہر چند دن کے بعد آپ میرے کسی ٹوئٹ سے ہرٹ ہوجاتے ہیں جیسے کوئی عاشق اپنی معشوق کی کسی بات پر ہو جاتا ہے۔
آپ کو علم ہے میں کبھی انقلابی نہیں رہا نہ میرے دماغ کو خناس چڑھا ہے کہ میری مرضی سے فیصلہ ہوگا کون آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی یا وزیراعظم ہوگا۔
ہم بقول ہمارے محترم نصرت جاوید صاحب دوٹکے کے رپورٹر ہیں جو چھوٹی موٹی صحافت کرتے رہتے ہیں۔ ہم کہاں آپ جیسے مہان کلاکار سے میچ کرسکتے ہیں۔ اپ بہت بڑے ہیں ہمیں اگنور مارا کریں۔ عاشقوں کی طرح behave نہ کیا کریں۔
باقی میرے دوست اگر آپ جیسے سابقہ ملازم جی ایچ کیو کو بہت زور سے انقلاب آیا ہوا ہے تو آپ اپنے انقلاب کے لیے خود کوشش کریں۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ جس دن مجھے انقلاب آئے گا میں آپ کو زحمت نہیں دوں گا جیسے آپ اور آپ جیسے دیگر جی ایچ کیو اور آب پارہ کے سابقہ ملازمین دوسروں کو دیتے رہتے ہیں۔
ویسے حیرانی مجھے بھی ہے کہ ساری عمر آپ انہی فوجیوں کی چھتری تلے پلتے رہے، انہی کا شہد ملا دودھ پیتے رہے، انہی فوجیوں سے لاکھوں کروڑں روپوں کے فائدے لیے، ٹی وی چینلز پر نوکریاں انہی فوجیوں نے آپ کو دلوائیں، آپ کے تھرڈ کلاس میگزین کو کروڑوں کا بزنس ملا جس کی آپ سب کو فری کاپیاں بھیجتے تھے، اس میگزین کا کام ہی فوجی اسٹبلشمنٹ کے پراپگنڈہ کو انگریزی کا رنگ دے کر پروموٹ کر کے سفارت خانوں میں پوسٹ کرنا تھا اور اس کے عوض آپ نے لمبے نوٹ کمائے لیکن آج مجھے طعنے دینے آگئے ہیں کہ تھپڑ والی ویڈیو کیوں لگائی۔ واہ۔
کسی دن انہی فوجی جرنیلوں کی مسلسل چاپ لوسی سے بھرے اپنے پرانے ٹی وی شوز ہی دوبارہ سن لیں جو آپ ہمیں ریجنل سیکورٹی والے ڈرامے روز سناتے تھے تو شاید شرم کے مارے کبھی گھر سے نہ نکلیں آپ۔
جتنے آپ بہادر صحافی تھے وہ میں ذاتی طور پر خوب جانتا ہوں اور 92 چینلز پر پروگرام سے پہلے جو رٹے لگا لگا کر انٹرو پڑھتے تھے اور پورا دفتر سنتا اور ہنستا تھا اس کا بھی گواہ ہوں۔ آپ کی تو چینل کے ڈائریکٹر نیوز کے آگے گھگی بندھ جاتی تھی چینل مالک تو دور کی بات ہے کہ میں آپ کی کونسلنگ کرتا تھا تو آپ کی گھگی ختم ہوتی تھی۔
اب آج کل آپ ہمارے نجات دہندہ ہیں۔ واہ۔ کتنا برا وقت ہم پر آیا ہوا ہے۔
آپ کا وہی حال ہے ایک بندے کی پشت پر درخت اگ آیا۔ کسی نے اسے بتایا تو ہنس کر کہا کوئی بات نہیں اگلے سال اس کی چھائوں میں سوئوں گا۔
کم از کم آپ تو ہمیں فوجیوں کا ٹاوٹ ہونے کا طعنہ نہ دیں اے میرے بہت ہی بہادر اور باضمیر انسان۔ 🙏
💔🥺A little girl martyred in Gaza…
She was born into the heart of war and left this world without ever knowing what it felt like to be safe.
She carried no weapon. She committed no crime.
All she wanted was to live.
What was her sin?
Israel abducted a 20-year-old woman from her home in the occupied West Bank in the middle of the night on June 2.
Her name is Sama Safi.
She is not a combatant.
She is an American-Palestinian university student.
She has now been caged in an Israeli dungeon for 58 days — without charges, without reason.
And yet, the same voices that claim to care about human rights have nothing to say.
No outrage. No headlines. No urgent calls for her freedom.
Because Sama is Palestinian, her story is ignored.
انڈین والی جین زی بہت خطرناک ہے ۔ اس لڑکی کی آنکھوں میں بالکل بھی خوف نہیں ہے ۔ پولیس اہلکار کو کہہ رہی ہے کہ تم نے مجھے ہاتھ کیسے لگایا ۔ مجھے دوبارہ ہاتھ لگانے کی ہمت بھی نہ کرنا ۔ مودی جی کے لئے حالات زیادہ اچھے نہیں لگ رہے
پورنوگرافک توہین مقدمات کے تین ملزموں کی اعجاز اسحٰق کی عدالت میں ضمانت کی کہانی۔
مدعی کی والدہ اس وقت ہسپتال کے انتہائی نگہداشت (ICU) وارڈ میں داخل تھیں۔ ایسے کڑے وقت میں عدالت کی طرف سے صرف ایک شام پہلے اطلاع موصول ہوئی کہ مقدمے میں ضمانت کی سماعت مقرر ہو چکی ہے۔ مدعی تمام تر ذہنی اور خاندانی پریشانی کے باوجود عدالت پہنچا۔ اس نے صرف اتنی استدعا کی کہ اسے مختصر مہلت دے دی جائے تاکہ وہ اپنے لیے وکیل کا انتظام کر سکے اور اپنا مؤقف قانون کے مطابق عدالت کے سامنے رکھ سکے۔
لیکن اس کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی، اور دوسری جانب موجود دو ملزمان کو ضمانت دے دی گئی۔ ان میں سے ایک ملزم ایسا تھا کہ جس کی فرانزک شدہ ویڈیو عدالت کے ریکارڈ پر موجود ہے جس میں وہ برہنہ ہوکر قرآنِ پاک پر کھڑا ہو کر پیشاب کر رہا ہے (معاذاللہ)!
تیسرے ملزم کو ایسے ہی بغیر مدعی کے وکیل کے ضمانت دے دی!
یہ واقعہ مورخہ 9 جولائی 2026 کو جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی عدالت میں پیش آیا۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ پاکستان بھر کی عدالتوں میں ایک معروف اور تسلیم شدہ عدالتی روایت اور پروفیشنل پریکٹس ہے کہ پہلے نوٹس پر، خصوصاً جب کوئی فریق قانونی نمائندگی سے محروم ہو، تو اسے وکیل کا انتظام کرنے کے لیے مناسب مہلت دی جاتی ہے تاکہ سماعت منصفانہ انداز میں ہو اور کسی فریق کے حقِ دفاع پر زد نہ پڑے۔
یہی وہ جج ہے جس نے اس سے قبل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک ایسا کمیشن کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا تھا جسے بعد ازاں ان کے برادر جج صاحبان نے انٹرا کورٹ اپیل میں معطل کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے حالات میں کمیشن کی تشکیل پہلے سے زیرِ سماعت عدالتی کارروائی میں مداخلت کے مترادف ہے۔
اسی عدالت سے ایسے تین ملزمان کو ضمانت دے دی گئی جو ان مقدمات میں ملوث ہیں جن میں ثبوت دیئے جا چکے ہیں کہ انتہائی فحش اور پورنوگرافک مناظر کو رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت کی مقدس خواتین سے منسوب کرتے ہوئے نشر کیا جاتا ہے 🥹۔
یہ الفاظ لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں۔
یہ سطور پڑھتے ہوئے شاید بہت سی آنکھیں بھی نم ہو جائیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں دل جیسے رک سا جاتا ہے، الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور انسان کی کیفیت بیان سے باہر ہو جاتی ہے۔
لیکن ایسے ہی لمحات میں قانون کی بالادستی کا امتحان بھی ہوتا ہے۔
ہم نے آج تک ہر مرحلے پر قانون کی بات کی ہے، اور آج بھی قانون کا دامن ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا۔ ہمارا یقین ہے کہ عدالتی فیصلوں پر اختلاف بھی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا ہے، اور اگر کسی فیصلے میں قانونی یا آئینی خامی موجود ہو تو اس کا جواب بھی وہی قانونی راستے ہیں جو آئین نے فراہم کیے ہیں۔
اسی لیے اس معاملے کو بھی قانونی اور عدالتی ذرائع سے اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، کیونکہ انصاف کا مطالبہ بھی قانون کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے اور قانون ہی اس کا آخری معیار ہے۔
لیکن چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو چاہئیے کہ ایسے متنازعہ جج کو ایسے حساس مقدمات سے دور رکھیں جن میں اس کی شہرت پہلے ہی خراب ہوچکی ہے۔