@BrigAshfaqHasan 5/5
اسٹیبلشمنٹ یہ بات پلے سے باندھ لے کہ ملک بندوق کی نوک یا فائر والز سے نہیں چلتے۔ نوجوانوں کو "ڈیجیٹل دہشت گرد" کہنے کا چورن اب بکنا بند ہو چکا ہے۔ اگر دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو فیصلے عوام کے ہاتھ میں دینے ہوں گے، ورنہ ہم صرف حسرت ہی ملتے رہ جائیں گے۔
@BrigAshfaqHasan 4/5
فارم 47 کے مائنڈ سیٹ نے میرٹ کو بوٹوں تلے روند دیا ہے۔ زبردستی ایسے مہرے مسلط کیے جاتے ہیں جن کا جدید دنیا اور معیشت سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔ جب فیصلے ب��د کمروں میں ہوں گے تو ملک میں صرف سیاسی بحران جنم لیں گے، کوئی سائنسی انقلاب نہیں
@BrigAshfaqHasan 3/5
ٹیکنالوجی کا عروج آزادی�� اظہار سے جڑا ہے۔ ہمارے ہاں کوئی نوجوان اپنے سیاسی حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے "ویگو ڈالے" اور خوف کی سیاست کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ خوف کے سائے میں سافٹ ویئر تو دور کی بات، کوئی بنیادی ایپ بھی نہیں بنائی جا سکتی۔
@BrigAshfaqHasan 2/5
ہمیں "سیکیورٹی اسٹیٹ" سے "ویلفیئر اسٹیٹ" کا سفر طے کرنا ہوگا۔ دہائیوں سے بجٹ کا رخ ریسرچ، ڈویلپمنٹ اور ٹیکنالوجی کی بجائے صرف سنسرشپ اور کنٹرول کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ جب تک پورا نظام اپنے ہی نوجوانوں کو دشمن سمجھنا بند نہیں کرے گا، ترقی ناممکن ہے۔
@BrigAshfaqHasan ٹویٹ 1/5
چین پردے کی طرح مڑنے والی اسکرینیں بنا رہا ہے اور ہمارا پورا ریاستی ڈھانچہ صرف اس فکر میں ہے کہ نوجوانوں کی آواز کیسے دبائی جائے اور ��یک مخصوص سیاسی سوچ کو کیسے کچلا جائے۔ جب تک اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات میں ٹیکنالوجی شامل نہیں ہوگی، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا
@Wabbasi007 یہ پریس گیلری کے صحافی نہیں، بلکہ حکومت کے تنخواہ دار (Paid Reporters) ہیں۔ بجٹ کے تلخ حقائق چھپانے اور طے شدہ اسکرپٹ دہرانے کے لیے انہیں وہاں بٹھایا گیا ہے۔"
@BrigAshfaqHasan قرضوں پر چلنے والے ملک میں ایسی ڈیلز کو "اقوامِ عالم میں مقام" کہنا خود کو دھوکہ دینے کے برابر ہے۔ اگر یہ کاغذی کامیابیاں غریب کا چولہا نہیں جلا سکتیں، تو یہ تعریفیں صرف اقتدار والوں کو خوش کرنے کے لیے تو ٹھیک ہیں، عام آدمی کے کسی کام کی نہیں۔
@BrigAshfaqHasan جب تک ملک کا عام آدمی مہنگائی تلے سسک رہا ہے، تب تک ان سفارتی تمغوں اور "ان تھک کوششوں" کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔
عوام خون پسینہ بہا کر ٹیکس دے اور کریڈٹ مفت پیٹرول اور شاہانہ مراعات لینے والی اشرافیہ لے جائے، یہ تماشہ اب بند ہونا چاہیے۔
@BrigAshfaqHasan کا بڑا حصہ عوامی ٹیکس کے پیسوں سے سپانسرڈ ہوتا ہے۔ جب تک کچن کا بجٹ اپنی جیب سے نہ بنانا پڑے، تب تک پٹرول کی قیمت ۲۰۰ روپے ہو یا ۵۰۰ روپے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عام آدمی یہاں صرف ٹیکس دینے اور قربانی کا بکرا بننے کے لیے رہ گیا ہے، جبکہ عیاشی اور مراعات کا سارا نظام ایک مخصوص طبقے
@BrigAshfaqHasan رہائش گاہیں، پلاٹس، اور ملک و بیرونِ ملک مہنگا ترین میڈیکل دیکھ کر خون کھولنا ایک فطری بات ہے۔
یہ اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جو طبقہ پالیسیاں بناتا ہے—چاہے وہ بیوروکریٹس ہوں، جرنیل ہوں، ججز ہوں یا سیاستدان—انہیں مہنگائی کا احساس ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ
@Wabbasi007 صوبے کے اربوں کے فنڈز روکنے اور MPAs پر تشدد پر زبان کو سانپ سونگھ جاتا ہے، اور یہاں ایک دو لفظ پکڑ کر ��روپیگنڈا شروع؟ تم جیسے ضمیر فروشوں کی اوقات صرف چاپلوسی ہے
بیس ہزار تنخواہ کے خلاف شہباز شریف کا شدید ترین احتجاج سپیکر سے پوچھ لیا بیس ہزار میں غریب روٹی کیسے پوری کرے گا ؟
پندرہ ہزار والے ٹیچرز کا کیا کرنا ہے ؟
@DurraniViews صحافی کا کام سوال اٹھانا ہوتا ہے، لیکن یہ موصوف صحافی کے روپ میں پولیٹیکل پی آر (PR) ایجنٹ بنے ہوئے ہیں۔ جو کام کسی سیاسی جماعت کے ترجمان کو کرنا چاہیے، وہ کام یہ مائیک پکڑ کر بڑی ڈھٹائی سے خود کرتے ہیں۔
@fake_burster اصل تکلیف یہ ہے کہ ریاستی فسطائیت اور کنٹینرز کے باوجود عوام سڑکوں پر نکل رہی ہے۔ جب پبلک کا سمندر روکنا ناممکن ہو جائے، تو پھر اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ایسے پیڈ اشتہارات (Ads) کا سہارا لے کر جھوٹا بیانیہ بیچنا پڑتا ہے۔ عوام اب جاگ چکی ہے، تمہارا یہ گھساپٹا بیانیہ اب چلو بھ!
@Safinakhan پریس کانفرنس میں صرف ایک سیٹ نہ ملنے پر اتنا گھٹیا پروپیگنڈا اور جھوٹا ڈرامہ؟ دوسروں کو بدنام کرنے کے چکر میں اس نے الٹا اپنی ہی اوقات اور ��ری ہوئی سوچ سب کے سامنے ننگی کر دی ہے۔ صحافت کے نام پر ایسا سستا تماشہ کرنے والوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔
@m_Naeem_Mughal1 سہیل آفریدی ملک توڑنے کی نہیں، تمہارے اس فاشسٹ اور کتی چور برادری کے نظام کو توڑنے کی بات کر رہا ہے۔ اپنی یہ خاندانی غلاظت اپنے پاس رکھ، ورنہ پبلک تمہاری اوقات اچھے سے یاد دلا دے گی!
@m_Naeem_Mughal1 اوئے غلیظ انسان! زبان سنبھال کر بات کر، یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے جو تم جیسے چوروں کے تلوے چاٹنے والوں کو جواب نہ دیا جا سکے۔
جب بات سچ کی ہو تو تم جیسے بے غیرت کٹھ پتلیوں کو ماؤں بہنوں کی گالیاں یاد آ جاتی ہیں کیونکہ تمہاری اپنی تربیت ہی کسی گندی نالی میں ہوئی ہے۔