آج بیٹی کے سکول میں جتنے بھی ڈینش والدین تھے ان سب نے پاکستان بارے اس کے امن کردار بارے بہت تعریف کی ہسٹری کا ٹیچر باقاعدہ ملنے آیا اور بہت دیر پاکستان بارے معلومات لیتا رہا اور پھر کہتا امید اب ٹرمپ گرین لینڈ کی طرف نہی آئے گا
پاکستان کی ہر کامیابی ہر پاکستانی کی کامیابی اس سے دنیا میں ہماری عزت بڑھتی ہے اسی لئے کہتا ہوں حکومت جس کی بھی ہو جہاں معاملہ پاکستان کا ہو اس کی کامیابی کا ہو اس پر خوش ہوں
ہمارا سر آج فخر سے اونچا ہے اندرونی مسائل بھی ایک دن حل ہو جائیں گے اس ملک میں بڑا پوٹینشل ہے
ہماری پہچان ہماری شناخت پاکستان ہی ہے ❤️🇵🇰
صبح کے وقت شدید گرمی کا عالم میں دفاتر جاتے عوام اسلام آباد ایکسپریس وے پر کئی میل لمبی لائنوں میں ایسے ہی رُلتے ہیں کیونکہ فیض آباد کے مقام پر چیک پوسٹ بنی ہوئی ہے
میں آپ کی توجہ ایک اہم ایشو کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں، جب ہم پشاور سے آتے ہیں، جب ہم اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ کراس کرتے ہیں تو اُدھر ایک بہت بڑی چیک پوسٹ لگی ہوتی ہے۔ ایک تو اسٹیبلش چیک پوسٹ ہے، جیسے چونگی نمبر 26 پر یا کشمیر ہائی وے پر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اسٹیبلش چیک پوسٹ بھی نہیں ہونی چاہیے، لیکن چلیں وہ آپ نے ایک رینج کی ہے۔ ان چیک پوسٹوں کی وجہ سے میلوں روڈ بلاک ہوتا ہے، وہاں آپ کا کسٹمز، نارکوٹکس، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ سے چیک پوسٹوں پر شروع ہو کر اُدھر بھی چیک پوسٹ، 26 نمبر پر بھی چیک پوسٹ اور کشمیر ہائی وے پر بھی چیک پوسٹ، چیک پوسٹ ہی چیک پوسٹیں ہیں۔ سب سے پہلے اگر آپ نے کچھ کرنا ہے تو سب چیک پوسٹوں کو ایک جگہ شفٹ کروا دیں۔ ہمارے لوگوں میں یہ احساسِ محرومی بڑھ رہی ہے کہ یہ ہمارے ساتھ ایتھنک پروفائلنگ ہو رہی ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں، اس کو دیکھ لیں، اور یہ جو غیر ضروری چیک پوسٹیں ہیں جن کی وجہ سے لمبی قطاریں لگتی ہیں یہ نہیں ہونی چاہئے۔
🚨🚨
Just for your information foreign minister @MIshaqDar50 is in Egypt for 4 country meeting and information minister @TararAttaullah and #TariqFatemi is in the meeting room along the prime minister. But yes I can understand your pain, sympathies with you 🤗
@Banjaraa_babu@KhalidHusainTaj میں کسی کو گالی دینے کا بلکل حامی نہیں ہوں اور خالد تاج ایک معزز سیاسی کارکن ہیں جن کی رائے کا احترام ہے۔ اس معاملے میں وہ غلط ہیں، جو کہ ان کی سیاسی مجبوری ہے لانگ ٹرم میں۔ سو میں نے اپنی رائے دی
جب 137 روپے پیٹرول بڑھا تو بہت شور ہوا اگلے دن 80 روپے کم کرنا پڑا تھا اس لیے خوب شور ڈالیں ہر جگہ لکھیں کسی راتب خور کی کسی خوشامدی پوسٹ کے چکر میں مت آئیں اس قدر اعتراض کریں کہ ان کو جان چھڑانی مشکل ہو اور یہ واپس پیٹرول اصل قیمت پر لائیں اس کے علاوہ کوئی حل نہی ہماری حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی نا اہل ترین ہے
ایران جنگ سے قبل تیل کی عالمی قیمت 76 ڈالر تھی۔ معاہدہ ہونے کے اعلان کیساتھ ہی اب تک یہ عالمی قیمت کم ہو کر 75 ڈالر پر آ چکی ہے۔ محترم وزیراعظم صاحب، "خاطر خواہ کمی" وہی ہو گی کہ پٹرول کی ملکی قیمت وہی کی جائے جو جنگ سے قبل تھی۔ دس بیس پچاس روپے وغیرہ کی کمی سے حکوت عوام کو نہ ٹرخائے اور اپنے ریونیو کے خسارے کو غریب عوام کی جیب سے مزید پورا نہ کرے۔
بجٹ پیپلز پارٹی کی سیاسی بلیک میلنگ کی کامیابی کی دستاویز ہے، جہاں BISP جیسے غیر ضروری اور غیر شفاف ہروگرام کو آٹھ سو ارب روپیہ مل گیا وہیں پنجاب کا 650 ارب روپیہ حصہ کم کر دیا گیا اس کا مطلب پنجاب کے ترقیاتی پروگرام جو پہلے ہی لاہور سے باہر نہیں نکلتے اب عملی طور پر بالکل ہی ختم ہو گیا ہے، 3500 ارب روپے کی کمی ترقیاتی منصوبوں کو ختم کر کے پوری کی جا رہی ہے، دفاع کے اخراجات میں اضافہ بھی معاشی حالات سے مطابقت نہیں رکھتا، عدلیہ پر غیر ضروری اخراجات تعلیمی بجٹ پر کٹ لگا کر کرنا کیسے عقلمندی ہے ؟ پنجاب اور خیبر ہختونخواہ میں صحت اور تعلیم کے بجٹ پہلے ہی کم ہوئے ہیں ان میں مزید کمی مستقبل کیلئے تباہ کن ہے، سائنس اور تعلیم کی وزارتوں نے پانچ سال سے نہ کوئ منصوبہ دیا نہ کوئ لائحۂ عمل جو مستقبل کیلئے تباہ کن ہے! پاکستان کو بڑی ایڈمنسٹریٹو اصلاحات چاہئیں جو کہیں نظر نہیں آ رہیں ۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 800 ارب تقریباً سالانہ پر پہنچ گیا
یعنی تین ارب ڈالر
تین ارب ڈالر سے ہم اپنا بیرونی قرضہ بھی اتار سکتے
سالانہ قسطیں دیکر
تین ارب ڈالر سے ہم کئی صنتیں لگا سکتے
جس سے ہزاروں لاکھوں نوکریاں جنریٹ کر سکتے
تین ارب ڈالر سے ہم پی آئی اے کو دوبارہ اعلی معیار کی ائر لائن بنا سکتے
تین ارب ڈالر سے ہم دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں سکول کالجز بنا سکتے پسماندہ علاقوں میں
ہم اپنی آنے والی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکتے
تین ارب ڈالر سے زرعی انقلاب لا سکتے
تین ارب ڈالر سے ہم دور دراز کے علاقوں میں بہترین قسم کے ہسپتال بنا سکتے
تین ارب ڈالر سے کئی ایسے منصوبے لگا سکتے جس سے ہمارے پڑھے نوجوانوں کو نوکریاں مل سکتی
تین ارب ڈالر عوام کو قرض دیکر ہم نئی فیکٹریاں لگوا سکتے ان مصنوعات کی جو ہم امپورٹ کرتے ہیں
ہم اپنی ایکسپورٹ کو دو گناہ کر سکتے
لیکن ہم نے عوام کو فقیر ہی بنانا ہے بس
حکومت کے عوام دوست بجٹ کی جھلکیاں
* بیرون ملک سفر کے لیئے بزنس کلاس کے استعمال پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز
* غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ
* بیرون ملک ڈیبیٹ یا کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر پانچ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز
مگر ناشکری عوام خوش نہیں ہوگی،حاسدین کہیں گے اشرافیہ کو ریلیف دیا جارہا ہے
@sknawaz478 Btw ye har kisi ko ku lgta hy intellectually Khawaja Asif ki tareef hoti hy, kb hui intellectually? I think ye Ahsan Iqbal bary baat ho rhi hy
جس قیمت پر بجلی آزاد کشمیر کے امیر لوگوں کو مل رہی ہے وہ نرخ پاکستان میں غریب ترین لوگوں کیلئے مختص ہیں جو 100 یونٹ یا اس سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، جواز کیا ہے؟ کہ پن بجلی آزاد کشمیر سے بھی پیدا ہوتی ہے (باقی جہاں سے ہوتی ہے وہاں تو اتنی رعایتی بجلی نہیں ملتی، باور رہے کہ منگلا ڈیم میں جن کی زمینیں آئیں انہیں برطانیہ میں آباد کیا گیا جو زمین چاہتے تھے انہیں پنجاب میں زمینیں الاٹ کی گئیں پھر بھی جتا رہے ہوتے ہیں) چلیں بجلی تو ادھر پیدا ہوتی ہے گندم نہیں لیکن گندم پر بھی سبسڈی اہل کشمیر کو دی جاتی ہے اور جِدھر گندم پیدا ہوتی ہے ادھر کسان رو رہا ہے کہ اسے امدادی قیمت نہیں دی جاتی لیکن جن کو سبسڈی ملتی ہے وہ بھی رو رہے ہیں، باور رہے کہ پورے کشمیر کی آبادی فیصل آباد شہر کے برابر ہے