محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ،
جناب آئی جی پنجاب صاحب۔
مئی 2025 میں ایس پی شمس صاحب کے خلاف دی گئی میری درخواست پر پنجاب پولیس کی Internal Accountability Branch نے انکوائری مکمل کی، افسران کو بلایا، بیانات لیے، اور DSP بخت نصر سمیت کئی افسران کو charge sheet کیا۔
لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود آج تک final action pending ہے۔
کیا IAB کی رپورٹ پر بھی action نہیں ہوگا تو عام شہری کہاں جائے گا؟
میری گزارش ہے کہ اس delay کا نوٹس لیا جائے، charge sheet کیے گئے افسران کے خلاف final action کیا جائے، اور SP شمس خان کے معاملے کو personally دیکھا جائے۔
@CMComplaintCell@MaryamNSharif@IGP_Punjab@OfficialSPPO@multan_cpo@rpo_multan
قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں بینچ نے جس کیس کا فیصلہ کیا اس کا review حاضر ہے
ملزم پر الزام تھا کہ وہ تفسیر صغیر نامی کتاب تقسیم کر رہا تھا جو جرم ہے پہلے یہ سمجھ لیجیئے کہ تفسیر صغیر کیا ہے یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے سب سے بڑے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد کی 853 صفحات پر مشتمل تفسیر ہے جو لا محالہ قرآن سے متعلق ہے قاضی صاحب نے فیصلہ میں لکھا کہ کوئی کتاب تقسیم کرنا کوئی جرم نہیں مگر وہ آئین پاکستان 1973 کی دوسری ترمیم بھول گئے جس میں قادیانیوں کا خود کو مسلمان کہنا اور اسے propagate کرنے پر پابندی ہے اس آئینی شق کی موجودگی میں قرآن کی قادیانی تفسیر کو بڑے پیمانے پر تقسیم کرنا آئین کی دوسری ترمیم کی خلاف ورزی ہے
قاضی صاحب نے لکھا کہ پنجاب کے قرآن مقدس کے متعلق قوانین 2021 میں بنے اور جرم 2019 میں ہوا مگر وہ یہ بھول گئے کہ پنجاب کے قوانین سے 47 سال پہلے آئین پاکستان میں یہ شق شامل تھی
پنجاب لاء میں تو یہ سزا 6 ماہ تھی مگر آئین کے تحت یہ سزا کم از کم 3 سال تھی
جو مذاہب اپنی شناخت رکھتے ہیں انکا مسئلہ نہیں لیکن جو لوگ اسلام کے بنیادی اصولوں سے منحرف ہیں وہ جعلی اسلام کی تبلیغ کریں اور دین اسلام کے پیغام میں ملاوٹ کریں انکی روک تھام کیلئے ہی یہ آئینی ترمیم کی گئی تھی
سپریم کورٹ کسی آئینی شق کی تشریح تو کر سکتی ہے مگر اس ترمیم کے خاتمے کا حق صرف قانون ساز اسمبلی کو ہے
قاضی صاحب ریڈ لائن کراس کر گئے ہیں
جن لوگوں نے ساڑھے تین سال عمران خان کے نام کے ساتھ کٹھ پتلی کا راگ الاپا
خود رانا ثنا نے ان کے منہ پر کالک مل دی
۔۔
بےشک خان صاحب @ImranKhanPTI ایک مظبوط اور غیور وزیراعظم رہے جنہیں سازش سے گرایا گیا کیونکہ
“ایسا وزیراعظم اس نظام کے وارے میں نہیں تھا”