فیصل ووڈا کو جس طاقت پر اتنا گھمنڈ ہے، تاریخ میں یہی غرور فرعون کو بھی تھا۔ طاقت کے نشے میں خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے والے بھول جاتے ہیں کہ اقتدار اور اختیار ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔
غرور چاہے فرعون کا ہو یا کسی اور کا، طاقت کا نشہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔
ایک صحافی نے خان صاحب سے کہا کہ اب تو پورا نظام ہی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امید کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ بہتر یہی ہے کہ آپ کوئی ڈیل کر لیں، رہا ہو کر اس تکلیف اور اذیت سے باہر نکلیں، پھر آگے کا راستہ دیکھ لیجیے گا۔
خان صاحب نے صحافی کی طرف دیکھا اور حضرت یوسفؑ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب حضرت یوسفؑ قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے صرف اتنا کہا تھا کہ بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کر دینا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی رہائی کو چھ سال کے لیے مؤخر کر دیا۔
خان صاحب نے کہا کہ جس اللہ پر حضرت یوسفؑ کا بھروسا تھا، میرا بھروسا بھی اسی اللہ پر ہے۔ جس رب کو معلوم تھا کہ حضرت یوسفؑ بے قصور ہونے کے باوجود قید میں ہیں، وہی رب یہ بھی جانتا ہے کہ عمران خان ناحق قید میں ہے۔ جب حضرت یوسفؑ کے لیے ان کا اللہ کافی تھا تو میرے لیے بھی میرا اللہ ہی کافی ہے۔
میں اپنی رہائی کے لیے کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا، کسی سے کوئی ڈیل نہیں کروں گا۔ میرا بھروسا اللہ تعالیٰ پر ہے اور میں اسی کے فیصلے کا منتظر ہوں۔
کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کے اٹھائے ہوئے سوال وقت کے ساتھ اور بھی گہرے ہو جاتے ہیں۔ ارشد شریف کی داستان بھی ایک ایسا ہی سوال ہے، جس کا جواب آج تک تلاش کیا جا رہا ہے۔
23 اکتوبر 2022 صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ آزادیِ اظہار، صحافت کی ذمہ داری اور انصاف کی اہمیت یاد دلانے والا دن ہے۔
کیونکہ سچ کی راہ آسان نہیں ہوتی، مگر ضمیر کی آواز کو خاموش کر دینا بھی کوئی راستہ نہیں۔
میرا عہد ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، میری زبان پر سچ اور میرے کردار میں اصول زندہ رہیں گے۔
#شہید_حق_ارشدشریف
#ArshadSharifShaheed
عمران خان سے ملاقات کے لیے ڈاکٹر عظمٰی خان کے شوہر احد خان اور وکلا کی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی!
حکومت اب تک عمران خان کی بہنوں کی ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے یہ جواز پیش کرتی رہی کہ وہ باہر آ کر سیاسی گفتگو کرتی ہیں۔ آج جب بہنیں موجود ہی نہیں تو پھر ملاقات روکنے کا کیا بہانہ بنایا جائے گا؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اہلِ خانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت ملتی ہے یا پھر حسبِ روایت ایک نیا عذر تراش کر ملاقات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ملاقات کے لیے بھی ہر بار کوئی نہ کوئی جواز کیوں درکار ہوتا ہے؟
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
ریاست صرف اس بات کا بدلہ لے رہی ہے کہ عمران خان کی بہنوں نے اپنے بھائی کے لیے آواز کیوں اٹھائی۔ بغیر کسی قصور کے انہیں 3 ایم پی او کے تحت رکھنا کہاں کا قانون ہے؟ یہ ناانصافی ختم ہونی چاہیے۔
عمران خان کی بہنوں کو فوری رہا کیا جائے۔
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
مجھے اس تنظیم کے ساتھ وابستہ ہونے کا موقع ملا تو میں نے قریب سے دیکھا کہ لوگ کس قدر محبت، خلوص، لگن اور یقین کے ساتھ اس مشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی کونے سے طویل سفر طے کرکے آنے والے یہ لوگ پاکستان کے عوام کی خدمت کے جذبے سے اس تنظیم کا حصہ بنتے ہیں۔ عمران خان صاحب اور مختلف ممالک میں تقریبات منعقد کرنے والے افراد کی بے لوث وابستگی دیکھنا میرے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔
جب بھی زندگی میں کسی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے تو میں اپنی والدہ کو یاد کرتی ہوں اور ان سے بات کرکے سکون پاتی ہوں۔ اسی طرح شوکت خانم ٹرسٹ کی تقریبات اور نیٹ ورکنگ ایونٹس کے سفر میرے لیے یادگار تجربہ ہوتے ہیں، جہاں کینسر کو شکست دینے والے افراد اور قابلِ قدر عطیہ دہندگان سے ملاقات کا موقع ملتا ہے۔
میں نے کراچی کے اسپتال کا بھی دورہ کیا تھا اور تب سے میری خواہش ہے کہ یہ منصوبہ جلد شروع ہو۔ ان شاء اللہ، 29 دسمبر 2026 تک، سب کے تعاون سے اسے مکمل طور پر فعال بنا دیں گے۔
میں آپ سب سے دست بستہ درخواست کرتی ہوں کہ اپنی استطاعت کے مطابق اس نیک مقصد کے لیے عطیہ دیں۔ چاہے رقم کم ہو یا زیادہ، ہر عطیہ اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے دلوں میں سخاوت پیدا فرمائے تاکہ آپ کھلے دل سے اس کارِ خیر میں حصہ لیں۔ آپ سب کے تعاون کا دل سے شکریہ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
یمنہ زیدی @yumnazaidi3
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کی ہلاکت کا مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق، وسیم ٹھیکیدار توقیر کے پاس الیکٹریشن کا کام کرتا تھا۔ تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگا، تو ملزم نے گاڑی سے اس کا تعاقب کرتے ہوئے اسے کچل دیا۔
پولیس نے توقیر کو گرفتار کر لیا، جبکہ اس کا ساتھی امجد فرار ہے۔
ملتان میں یتیم بچے کو گاڑی سے کچلنے کے ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وکلا کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ معصوم اور بے سہارا بچوں پر ظلم کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرارِ واقعی سزا ملنی چاہیے۔ کسی یتیم کی بے بسی کو اپنی طاقت سمجھنے والوں کو یہ پیغام ملنا چاہیے کہ معاشرہ ایسے مظالم پر خاموش نہیں رہے گا اور انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے ہونے چاہییں۔
وفاق کی جانب سے سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانے اور ان کی کابینہ کو سبکدوش کرنے کا اعلان آئینی و قانونی اعتبار سے قابلِ سوال ہے۔ کسی بھی منتخب وزیراعلیٰ کو محض ایک اعلان کے ذریعے عہدے سے ہٹانا آئینی طریقۂ کار کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
میرا واضح مؤقف ہے کہ سہیل آفریدی آج بھی آئینِ پاکستان کے تحت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں، اور ان کی حیثیت کا تعین کسی یک طرفہ اعلان کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔
@salmanAraja
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
نیلسن مینڈیلا 27 سال جیل میں رہے۔ ان کی رہائی دو سال بعد ہی ممکن تھی، لیکن ان کی اپنی پارٹی، افریکن نیشنل کانگریس (ANC)، کے سفید فام حکمرانوں سے پسِ پردہ مل گئی تھی
اسی وجہ سے نیلسن مینڈیلا کو مزید 25 سال قید میں رہنا پڑا۔
آخرکار، 27 سال بعد نیلسن مینڈیلا نے خود مذاکرات کیے اور رہائی پائی۔
لیکن آج عمران خان کی قید اور تحریک انصاف کی قیادت کے کردار کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی کی اکثریتی قیادت اپنے قائد کی رہائی کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کرنے کے بجائے مصلحتوں، سیاسی سمجھوتوں اور مفاہمت کی راہ پر چل پڑی ہے؟
مینڈیلا کی رہائی کی تاریخ سے ایک واضح سبق ملتا ہے کہ بالآخر انہیں بھی اپنی رہائی کے لیے حکمرانوں سے براہِ راست مذاکرات کرنا پڑے۔ آج عمران خان کے سامنے بھی یہی سوال ہے: کیا وہ اپنی رہائی کے لیے خود فیصلہ کن کردار ادا کریں گے، یا اپنی قسمت پارٹی قیادت کی حکمتِ عملی پر چھوڑے رکھیں گے؟
لیکن لگتا ہے کہ اب خان صاحب کو بھی خود دوٹوک بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی جماعت کی قیادت اپنے قائد کی رہائی کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کرنے کے بجائے مصلحتوں، خفیہ مفاہمتوں اور سیاسی سودے بازی میں الجھ جائے، تو پھر اس قائد کو سب سے زیادہ نقصان اپنے ہی لوگوں کی بے عملی سے پہنچ سکتا ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت کو ایک کڑا سوال درپیش ہے: کیا پاکستان تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کو رہا کرانے کے لیے سیاست کر رہی ہے، یا عمران خان کی قید کے باوجود اپنی سیاست، اپنے عہدے اور اپنی پوزیشنیں بچانے میں مصروف ہے؟
اگر سب کچھ اسی قیادت پر چھوڑ دیا گیا جو آج تک عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی فیصلہ کن نتیجہ نہیں دے سکی، تو پھر عمران خان کو برسوں مزید جیل میں رکھنے کے خدشے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور خدانخواستہ اگر ان کی صحت کو کوئی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، تو تاریخ صرف ان قوتوں سے سوال نہیں کرے گی جنہوں نے انہیں قید میں رکھا، بلکہ ان لوگوں سے بھی پوچھے گی جو ان کی رہائی کے دعوے دار تھے، مگر اپنے دعووں کو عمل میں تبدیل نہ کر سکے۔
عمران خان کو اب جذباتی وفاداری کے نعروں سے آگے بڑھ کر اپنی قیادت کی کارکردگی کا حساب لینا ہوگا۔ کون واقعی رہائی کے لیے لڑ رہا ہے؟ کون صرف بیانات دے رہا ہے؟ کون مذاکرات کے نام پر وقت گزار رہا ہے؟ اور کون اس سیاسی جمود سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟
اگر تحریک انصاف کی قیادت سمجھتی ہے کہ چند جلسے، چند پریس کانفرنسیں اور چند روایتی احتجاج عمران خان کو جیل سے باہر لے آئیں گے، تو یہ خوش فہمی ہے۔ سیاسی تاریخ میں تحریکیں صرف مخالفین کے جبر سے نہیں ہارتیں؛ وہ اپنی قیادت کی کمزوری، بے عملی اور مصلحتوں کے بوجھ تلے بھی دفن ہو جاتی ہیں۔
قائد کی رہائی کا انتظار کرتے کرتے پوری تحریک کو بے جان کر دینا کوئی حکمتِ عملی نہیں۔ اور اگر تحریک انصاف کی قیادت اپنے قائد کی آزادی کو اپنی پہلی ترجیح ثابت نہیں کر سکتی، تو اسے اپنی سیاست کے بنیادی مقصد پر نظرِثانی کرنی چاہیے۔
عمران خان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی رہائی کی جدوجہد کی قیادت خود کریں گے یا اپنی قسمت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیں گے جن کی حکمتِ عملی پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہو چکا ہے۔
کیونکہ اگر وقت یونہی گزرتا رہا، عمران خان جیل میں رہے اور پارٹی اپنی مصلحتوں میں الجھی رہی، تو نقصان صرف ایک شخص کا نہیں ہوگا۔ یہ ایک پوری سیاسی تحریک کی ساکھ، اس کے کارکنوں کی قربانیوں اور عوام کے اعتماد کا نقصان ہوگا۔
قائد جیل میں ہو، کارکن قربانیاں دے رہے ہوں اور قیادت صرف وقت گزار رہی ہو، تو اسے کامیاب سیاست نہیں، اپنی ذمہ داری سے فرار کہتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نعروں سے نہیں، نتائج سے اپنی وفاداری ثابت کرے۔ ورنہ تاریخ کا سب سے سخت سوال یہی ہوگا: جب عمران خان کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھانے کا وقت تھا، تب ان کی اپنی پارٹی کی قیادت آخر کر کیا رہی تھی؟
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
افسر شاہی کی عیاشیاں، عوام کے پیسے پر!
پنجاب پولیس کے بعد اب پیرا فورس کی گاڑیاں بھی مبینہ طور پر ذاتی استعمال میں! لگتا ہے اگلا پڑاؤ ناران کاغان ہوگا، جہاں سرکاری گاڑیوں میں افسروں کی فیملیاں سیر سپاٹے کریں گی۔
سرکاری گاڑیاں باپ کی جاگیر نہیں، عوام کی امانت ہیں! جواب دو، حساب دو!
خیبر پختونخوا میں چادر و چار دیواری کی حرمت پامال کرنا اور پشتون روایات کو پاؤں تلے روندنا محض زیادتی نہیں، بلکہ پشتون غیرت، عزت اور اقدار پر کھلا حملہ ہے۔ یاد رکھا جائے کہ جب گھروں کا تقدس پامال، عوام کی عزتِ نفس مجروح اور روایات کی توہین کی جائے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ظلم و جبر کی انتہا کبھی پائیدار امن کی ضمانت نہیں بنتی، بلکہ شدید ردِعمل اور مزید بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ پشتون قوم کی عزت اور چادر و چار دیواری کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں!
#فوکس_صرف_خان_کی_رہائی
فرانس کے شہر لیموج میں مظاہرین کی جانب سے لگائی گئی آگ نے تاریخی ٹاؤن ہال (Hôtel de Ville) کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں عمارت کا تاریخی گھنٹہ گھر منہدم ہو گیا۔
فرانس جل رہا ہے! تاریخی عمارتیں آگ کی نذر ہو رہی ہیں،
فرانس کے بعد اٹلی اور البانیہ میں بھی عوامی غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں مظاہرین نے پارلیمنٹ اور سرکاری عمارتوں پر پٹرول بموں سے حملے کیے، اٹلی میں ملک گیر ہڑتالوں نے ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں مفلوج کر دیں، جبکہ فرانس میں تاریخی عمارتوں کو آگ لگانے اور مہنگے برانڈز کی دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔
مہنگائی، معاشی ناانصافی، بجلی اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور حکومتی بدعنوانی کے خلاف عوامی احتجاج شدت اختیار کر رہا ہے، جبکہ حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کو حالات قابو میں رکھنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
فرانس بحران کی لپیٹ میں:
مہنگائی کے خلاف نکلنے والے مظاہرین اب تشدد اور لوٹ مار پر اتر آئے ہیں۔ لگژری برانڈز کی دکانوں سے کروڑوں روپے کے مہنگے بیگ، نایاب گھڑیاں اور ہیرے لوٹے جا رہے ہیں۔
ایسی حقیقت جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا!
فرانس میں کئی دہائیوں سے بڑھتی مہنگائی، معاشی دباؤ اور عوامی غصہ اب سڑکوں پر پھٹ پڑا ہے۔ جو عوام دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہی تھی، وہ اب چند سیکنڈوں میں لگژری برانڈز کی دکانوں کو لوٹ رہی ہے اور اربوں کی قیمتی اشیا لے اڑی ہے۔
یہ کسی فلم کا منظر ہے یا حقیقت؟ جب عوام کا غصہ حد سے گزر جائے تو حالات کس حد تک بگڑ سکتے ہیں، فرانس اس کی ایک ہولناک تصویر پیش کر رہا ہے۔
فرانس دنیا بھر میں لوئی وٹون (Louis Vuitton)، گوچی (Gucci) اور ہرمیس (Hermès) کے کروڑوں روپے مالیت کے بیگز، رولیکس (Rolex) کی نایاب گھڑیوں اور قیمتی ڈائمنڈ جیولری کے لیے مشہور ہے۔ یہاں دنیا کے امیر ترین لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں، اور ان برانڈز کی ایک ایک چیز خریدنا عام مڈل کلاس انسان کے لیے زندگی بھر کا خواب ہوتا ہے۔
لیکن آج فرانس میں حالات ایسے مناظر پیش کر رہے ہیں کہ لگژری برانڈز کی دکانوں میں لوٹ مار کی جا رہی ہے اور قیمتی اشیا اٹھا لی جا رہی ہیں۔
یہ سب کسی ہالی ووڈ فلم کا منظر لگتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فلموں میں یہ سب فرضی ہوتا ہے، جبکہ فرانس کی سڑکوں پر سامنے آنے والے یہ مناظر حقیقی زندگی کا حصہ ہیں۔
ایسی حقیقت جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا!
فرانس میں کئی دہائیوں سے بڑھتی مہنگائی، معاشی دباؤ اور عوامی غصہ اب سڑکوں پر پھٹ پڑا ہے۔ جو عوام دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہی تھی، وہ اب چند سیکنڈوں میں لگژری برانڈز کی دکانوں کو لوٹ رہی ہے اور اربوں کی قیمتی اشیا لے اڑی ہے۔
یہ کسی فلم کا منظر ہے یا حقیقت؟ جب عوام کا غصہ حد سے گزر جائے تو حالات کس حد تک بگڑ سکتے ہیں، فرانس اس کی ایک ہولناک تصویر پیش کر رہا ہے۔