عالیہ حمزہ کی ناحق گرفتاری کو آج 112 دن گزر چکے ہیں، مگر انکے حوصلے پست ہوئے نہ عزم میں کوئی لغزش آئی اور نہ ہی وہ اپنے مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹیں۔
وہ آج بھی اپنے نظریے، اپنے ضمیر اور اپنے قائد کے ساتھ پوری استقامت سے ڈٹی ہوئی ہیں۔
وقت آزمائش ضرور لیتا ہے، مگر تاریخ ہمیشہ اُنہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو ہر دباؤ، ہر ظلم اور ہر مشکل کے باوجود اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہیں۔
استقامت وہ طاقت ہے جسے نہ قید کی دیواریں توڑ سکتی ہیں، نہ جبر کی زنجیریں۔
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
#ReleaseAliyaHamza
عالیہ حمزہ کو ناحق قید ہوئے آج 108 دن گزر چکے ہیں، مگر وہ آج بھی اپنے نظریے اور اپنے قائد عمران خان کے ساتھ ثابت قدم کھڑی ہیں۔ افسوس کہ انصاف اب تک کہیں دکھائی نہیں دیتا، جبکہ ظلم اور انتقام کی یہ داستان مسلسل طول پکڑتی جا رہی ہے۔
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان#ReleaseAliyaHamza
اڈیالہ۔
آج منگل کا دن ہے قائد عمران خان صاحب سے فیملی اور وکلاء کی ملاقات ہونا تھی عدالت عالیہ کے حکم پر ملاقات نہ کرائی گئی فسطائیت تو پھر فسطائیت ہے آخر کب تک۔ فیملی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہزاروں کارکنان و قائدین اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہیں۔
@aamirmughalpti@PTIofficial
اگر لوگوں کو وقت پر انصاف ملے تو جیلوں میں اتنی تعداد نہ ہو۔ اپ کا کام جیل ریفارمز کرنا ہے یا عدالت ریفارمز؟
اپ جیل ریفارم سے زیادہ قیامت کے دن خود سے ہونے والے سوالوں کی فکر کریں جن کے اپ کے پاس جواب نہیں ہوں گے۔
عالیہ حمزہ ملک کا جیل سے چیف جسٹس پاکستان کے نام اوپن لیٹر۔
عالیہ حمزہ کو ناحق گرفتار ہوئے آج 103 دن ہو چکے ہیں،
وہ حق اور سچ پر ثابت قدم ہیں۔
انہوں نے اپنے قائد اور اپنے مؤقف کا ساتھ نہیں چھوڑا، تمام تر مشکلات، قید اور دباؤ کے باوجود وہ استقامت اور حوصلے کی علامت بن کر ڈٹی ہوئی ہیں۔
#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے#ReleaseAliyaHamza
آج عالیہ حمزہ ملک کی ناحق قید کو 100 دن مکمل ہو گئے
سو دن گزر گئے، مگر عالیہ حمزہ آج بھی وہیں کھڑی ہیں
سو دن جیل کی دیواروں میں
سو دن اپنوں سے دور،
سو دن ظلم، اذیت اور تنہائی کے سائے میں
مگر ان سو دنوں میں بھی نہ اُن کے حوصلے ٹوٹے، نہ اُن کی آواز دبی، نہ اُن کا نظریہ بکا۔
عالیہ حمزہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بہادر عورتیں صرف قید نہیں کاٹتیں، تاریخ لکھتی ہیں۔
وہ آج بھی اپنے قائد عمران خان کے ساتھ وفا کی طرح کھڑی ہیں، حق اور سچ کے علم کو تھامے، ظلم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہیں۔
یہ سو دن صرف ایک سیاسی کارکن کی قید نہیں،
یہ سو دن ایک ماں کے صبر، ایک بیٹی کے حوصلے، ایک نظریاتی کارکن کی وفا، اور ایک بہادر عورت کی استقامت کا امتحان ہیں
اور عالیہ حمزہ اس امتحان میں سرخرو ٹھہری ہیں۔
ظالم شاید یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ جیل کی سلاخیں اُن کے ارادوں کو کمزور کر دیں گی،
مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ نظریے پر یقین رکھنے والے لوگ قید سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔
اپنے مؤقف پر، اپنے نظریے پر، اپنے قائد عمران خان کے ساتھ۔
سلام ہے اُس حوصلے کو، جو قید میں بھی سر بلند رکھتا ہے۔
#ReleaseAliyaHamza
اڈیالہ۔
قائد عمران خان کے ساتھ آج ملاقات کا دن تھا قائد اور قائد کی فیملی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اڈیالہ جیل کے باہر موجود۔
@aamirmughalpti@PTIofficial
Happy Father’s Day In Heaven Baba ❣️
بابا جان اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آپ کی قبر کو نور اور سکون سے بھر دے،۔
آپ میری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔
آپ ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہیں گے۔ 🤍
#fathersday
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انتقام اور فاشزم کی ایسی مثال کہیں نہیں ملتی!
ایک اور جھوٹے مقدمے میں سینیٹر اعجاز چوہدری کو مزید 10 سال قید کی سزا سنا کر ان کی مجموعی سزاؤں کا ہندسہ 286 سال تک پہنچا دیا گیا ہے۔
ایک 69 سالہ بزرگ سیاستدان کو صدیوں کی سزا سنانے والے شاید بھول گئے ہیں کہ نظریات کو نہ تو قید کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سزاؤں سے ڈرایا جا سکتا ہے۔یہ کڑی سزائیں کسی جرم کا نتیجہ نہیں، بلکہ صرف اس جرمِ ضعیفی کی پاداش میں ہیں کہ انہوں نے بدترین حالات میں بھی اپنے قائد عمران خان کا ساتھ چھوڑنے اور ضمیر کا سودا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
جب لوگ پریس کانفرنسز کر کے راستے بدل رہے تھے، اعجاز چوہدری جیل کی کالی کوٹھڑی میں کپتان کے نظریے پر پہرہ دے رہے تھے۔
“عمران خان سے وفا کے جرم” میں آج لاہور کے آٹھویں جھوٹے مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید صاحب کو مزید 23-23 سال کی سزائیں سنا دی گئیں
اب تک دی گئی جھوٹی سزائیں:
ڈاکٹر یاسمین راشد: 286 سال
سینیٹر اعجاز چوہدری: 286 سال
عمر سرفراز چیمہ: 286 سال
میاں محمود الرشید: 274 سال
ان کے علاوہ بھی چار ورکرز کو آج سزائیں سنائی گئیں جو وقوعہ کے دن تھے ہی جیل میں ۔
اس کیس میں مدعی نے خود بتایا کہ نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی یہ چاروں لوگ وہاں موجود تھے لیکن پھر بھی سزائیں سنا دی گئیں
Shah Mahmood Qureshi was acquitted today in yet another case (FIR No. 1570/2023). Despite securing acquittals and bail in around 50 cases across Punjab and Islamabad over the past three years, he remains incarcerated in Kot Lakhpat Jail because two pending bail applications before the ATC Lahore have yet to be decided.
The case for bail is compelling on multiple grounds: he has already been acquitted in several cases involving similar allegations, granted bail in other comparable matters, is a senior citizen, and has well-documented medical concerns.
Prolonged delays in deciding bail applications undermine the very purpose of bail jurisprudence.
Dr Yasmin Rashid (who faced yet another unjustified conviction today) asked me, as their lawyer, to raise the question that how will Courts justify SMQ’s unlawful imprisonment for these three long years.
عالیہ حمزہ کی گرفتاری کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر تحریکِ انصاف کی سرگرمیاں تقریباً زیرو ہو چکی ہیں۔
وہ رونق، وہ جذبہ، وہ کارکنوں کا ہجوم جو پہلے روزانہ دکھائی دیتا تھا، اب کہیں نظر نہیں آتا۔
عالیہ حمزہ صرف ایک رہنما نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک جذبہ ہیں۔
وہ خود میدان میں کھڑی رہتیں، کارکنوں کو متحرک کرتیں، لوگوں کو اڈیالہ تک لے کر آتیں اور ہر مشکل وقت میں پارٹی کے بیانیے کو زندہ رکھتیں۔
افسوس یہ ہے کہ جو لوگ کل تک انہی پر تنقید کرتے تھے، آج وہی لوگ کہیں دکھائی نہیں دیتے۔
اڈیالہ کے باہر وہ آوازیں باقی رہیں نہ وہ مزاحمتی ماحول، اور نہ ہی وہ ہجوم جو کبھی تحریکِ انصاف کی طاقت سمجھا جاتا تھا۔
یہ صورتحال تحریکِ انصاف کی تنظیم اور اس کی اندرونی قیادت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ آخر ایک خاتون کی گرفتاری کے بعد پورا نظام اتنا خاموش کیوں ہو گیا؟
اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ صرف باتوں میں انقلابی ہوتے ہیں، جبکہ اصل میدان میں وہی ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے جس کے اندر حقیقی جذبہ اور وفاداری ہو۔
ایڈمن
#ReleaseAliyaHamza
کون بچائے گا پاکستان۔
عمران خان عمران خان
قائد عمران خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نائب صدر پنجاب وحقیقی ایم پی اے پی پی 11چوہدری نذیر اپنے دوستوں اور پارٹی قائدین و کارکنان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر موجود۔آج ملاقات کا دن تھا آج بھی ملاقات نہ کرائی گئی پارٹی قائدین و کارکنان کا جم غفیر تھا۔
#PTIofficial #ImranKhan #followers #friendsforever
اگر چوروں اور ڈاکوؤں کو گولی ماری جا سکتی ہے تو سی سی ڈی کو کیوں نہیں؟! میں ہسپتال پہنچا تو میری پوتی خون میں لتپت گولیوں سے چھننی تھی، میرا بیٹا اور پوتا شدید زخمی۔ میرا سارا گھر اجاڑ دیا ہے۔
—ناحق قتل 9 سالہ ہانیہ کے دادا