لبیک یا اقصیٰ مارچ لیاقت باغ 13 جولائی بروز ہفتہ دن 11 بجے
بحثیت جماعت ہم نے حکومت پاکستان کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دیئے ہیں
الله ﷻ و رسول الله ﷺ کی مدد سے بابا جان کی نگاہ سے لبیک والوں کی تاریخ ہے کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹتے!!!
#لاغالب_الااللہ
حکومتی وزیر رانا ثناء اللہ نے بالآخر تحریکِ لبیک کے مؤقف کی تصدیق کر دی۔
سانحۂ مریدکے دراصل حکومتِ پاکستان کی اپنی خواہش کا نتیجہ تھا، جس کی بظاہر وجہ صرف امریکی سفارتخانے کے ��قدس کی حفاظت بتائی گئی۔
یوں ثابت ہوا کہ حکومتِ پاکستان کے نزدیک مسلمانوں کے خون اور قبلۂ اوّل کی حرمت و
کیا فیلڈ ��ارشل دراصل نیتن یاہو اور ٹرمپ کا تعینات کردہ وائسرائے ہے؟
اب قوم کو یہ سوال خود سے پوچھنا ہو گا اور جواب خود دینا ہو گا۔
منجانب:
*چوہدری رضوان احمد سیفی*
مرکزی رکنِ شوریٰ و لیگل ایڈوائزر
تحریک لبیک پاکستان
*کیا پاکستانی حکومت میں غیرمسلموں جتنی بھی انسانیت نہیں رہی؟*
آج مورخہ 12 اکتوبر 2025ء کو دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد نے فلسطین کے حق میں آواز بلند کی۔
لندن میں دس ہزاروں افراد، برلن میں پانچ ��زار سے زائد، اور ویانا میں ہزاروں مظاہرین نے فلسطینیوں کے حق میں ریلیاں نکالیں
جہاں فلسطین کے لیے مظاہرے کیے جا رہے ہیں،
وہاں صرف دو ریاستیں ایسی کیوں ہیں
جہاں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا جرم اور دہشتگردی قرار دیا جا رہا ہے—
ایک اسرائیل، اور دوسری پاکستان۔
آخر وجہ کیا ہے؟
کیا پاکستان میں صیہونی طاغوت برسرِ اقتدار ہے؟
کیا پاکستان اسرائیل کی کالونی بن چکا?
حماس کے رہنما فوزی برہوم نے "طوفان الاقصیٰ" کی سالگرہ کے موقع پر پریس کانفرنس میں کہا:
"ہم ایک بار پھر امت کی تمام قوتوں اور دنیا کے تمام آزاد انسانوں س�� اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے عوام اور اُن کے قومی مقصد کی حقیقی حمایت میں شامل ہوں، اُن کے عزم و استقامت کو مضبوط کریں، یہاں تک
کہ وہ اپنے حقوق چھین کر اپنی آزاد ریاست قائم کر لیں، جس کا دارالحکومت القدس ہو"۔
حماس کی نظر میں حالیہ جنگ بندی جدوجہد کو از سرِ نو مرتب کرنے کی مہلت ہے، اور تحریک لبیک نے فلسطین کی آواز پر لبیک کہا ہے۔ جبکہ پاکستانی حکومت نہ صرف حماس کو تسلیم نہیں کرتی ہے، بلکہ اس کے خاتمہ کی
میں عزی بنی بیٹھی ہے جو تحریک خون دینے سے نہ گھبرائے وہ اپنے وجود میں انقلاب ہے اور جو حکومت اپنے ہی نہتے شہریوں کی جان مال اور ناموس پر حملہ کرے وہ اپنے وجود میں فساد اور باط
*پریس اینڈ میڈیا بریفنگ*
11 اکتوبر 2025
تحریک لبیک پاکستان اس سے قبل لبیک الاقصیٰ ملین مارچ کامیابی سے منعقد کر چکی ہے، اور اس کے بعد فیض آباد میں کئی روزہ دھرنا بھی دے چکی، مگر اس تمام جدوجہد کے دوران ملک کے کسی پتے کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔ تحریک نے بارہا حکومت کو موقع دیا کہ وہ
ان بتوں کی بت شکنی کا آغاز امریکی ایمبیسی سے ہوگا، جسے فیلڈ مارشل نامی طاغوت نے مشرکینِ مکہ کے ہُبَل کی مانند اپنا معبود بنا رکھا ہے۔
ان شاء اللہ، اس کے بعد دو دیویاں بھی پاش پاش ہوں گی:
ایک وفاقی حکومت جو اپنے آپ کو "لات" کی طرح مقدس سمجھتی ہے،
اور دوسری پنجاب حکومت جو اپنے زعم
اسلام آباد کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔ بفضلِ خدا ہم اس غدار صیہونی ریجیم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔ پاکستان پاکستانیوں کا ہے — پاکستانیوں سے ہی پاکستان ہے — اور امریکی وائسرائے کو آزاد و خودمختار پاکستان کو ا��ریکی کالونی بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
آج جمعۃ المبارک کا دن ہے اور 10 اکتوبر جو محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبد القدیر خانؒ کی برسی کا یوم ہے۔ اسی دن کو محسنِ پاکستان کے قاتل ریجیم نے محبانِ وطن کو شہید کر کے منایا، اور دوبارہ اپنی حقیقت بے نقاب کر دی۔ پاکستان پر مسلط سیکولر طاغوت نے ہر دین پسند، محبِ ملک و ملت کو غدار قرار
دے کر انہیں عبرت بنانے کی ناکام کوشش کی، چا��ے وہ ایٹمی سائنسدان تھا یا عالمِ دین۔ مگر محسنینِ ملت آج بھی اللہ ربّ العزت کے فضل سے قوم کے دلوں میں زندہ بستے ہیں، جبکہ وہ ظالم و ڈکٹیٹر دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہو چکے ہیں۔
قائدِ ملتِ اسلامیہ کی قیادت میں عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کا قافلہ