Una madre palestina abraza los restos de su hijo en Gaza después de buscarlo durante más de 2 años, tras los bombardeos masivos del ejército de "Israel" que lo asesinaron y lo enterraron bajo los escombros.
Estas imágenes deberían estremecer al mundo, sin embargo se impone la insensibilidad, el primer paso para normalizar los genocidios y volver a los errores de las guerras mundiales del siglo pasado.
@Keltic_Spirit@Parodyjeffx They look creepy regardless. Having fun doesn’t factor into it. It’s like they’re cursed to never look fully human, so we can spot them.
اسرائیلیوں کے ہاتھوں تشدد اور کھوپڑی ٹوٹنے کے بعد کبھی بولنے، حرکت کرنے اور کھانے پینے سے قاصر رہنے والے صحافی مجاہد بنی مفلح اپنے بیٹے کی جانب ہاتھ بڑھایا اور اسے پیار کیا.
This guy accepted Islam willingly and he seemed very happy.
The BJP Hindutva government tortured him to leave Islam to return to idol worship.
Modern India.
This is why Pakistan was necessary.
**واقعہ:**
بہاولنگر کا بارہ سالہ معصوم علی حیدر لاہور کے ایک مدرسے میں زیرِ تعلیم تھا جہاں قاری غلام رسول نے شدید بخار کے باعث ختم شریف پر نہ جانے کی پاداش میں اسے لوہے کے راڈ سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
**غفلت اور ظلم کا تسلسل:**
بچے کے چچا کو جب تشدد اور ممکنہ فریکچر کی اطلاع ملی تو وہ مدرسے پہنچے، لیکن مقامی "معززین" کے بیچ میں آنے اور قاری کے جھوٹے وعدوں پر یقین کر کے بیمار اور زخمی بچے کو دوبارہ اسی ظالم قاری کے رحم و کرم پر چھوڑ کر واپس آگئے۔ اگلے چھ دن تک بچے پر مزید کیا گزری، یہ کوئی نہیں جانتا۔ چوبیس جون کو قاری نے بچے کو شدید زخمی اور مفلوج حالت میں اکیلے بس میں بٹھا کر بہاولنگر روانہ کر دیا۔ گھر پہنچنے پر ہسپتال لے جایا گیا، لیکن چوٹیں اس قدر شدید تھیں کہ معصوم علی حیدر جانبر نہ ہو سکا۔
**اصل قصور وار کون؟**
اس لرزہ خیز سانحے میں تینوں فریق برابر کے مجرم ہیں:
1. **قاری غلام رسول:** جس نے ایک بیمار بچے پر لوہے کے راڈ سے تشدد کیا، علاج نہیں کروایا، اور مجرمانہ غفلت برتتے ہوئے اسے مفلوج حالت میں اکیلے بس میں بھیج دیا۔
2. **بچے کے والدین اور چچا:** جنہوں نے بچے کی حفاظت یقینی بنانے اور اسے فوری ہسپتال لے جانے کے بجائے، اسی ظالم قاری کے پاس دوبارہ چھوڑ کر سنگین غفلت اور لاپرواہی کا ثبوت دیا۔
3. **معاشرتی نظام اور "معززین":** جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لینے اور جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے صلح صفائی کا ڈرامہ رچایا۔
**نتیجہ فکر:**
مقدمہ صرف قاری پر نہیں بلکہ ان سگے رشتہ داروں پر بھی ہونا چاہیے جنہوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ یہ واقعہ ایک تلخ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ اگر آپ بچوں کی حفاظت، پرورش اور ان کے حقوق کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے، تو انہیں پیدا کر کے یوں لاوارثوں کی طرح کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟ علی حیدر تو دنیا سے چلا گیا، لیکن نہ جانے کتنے معصوم روزانہ ایسے ہی جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا خاموشی سے شکار ہو رہے ہیں۔
Can't wait to see those Ummahjeets and propaganda accounts cry over Pakistan's precision strikes against terror groups in Afghanistan.
CRY A RIVER, YOU TERRORIST MOUTHPIECE!
That shilling moment when an Israeli soldier decided it still would be a good idea to shoot an elderly woman in Gaza while she was holding her grandson’s hand,while both of them were waiving a white flag, after the IDF had promised them a safe passage.....