یه کون هے کس پارٹی سے تعلق رکھتاهے؟نگراں حکومت میں وزیر اعلی پنجاب تھا۔اب وزیرداخلاهے۔کس جماعت سے هے۔سب جانتےهیں۔اور پھرغریده کہتی هے که حکومت سے مذاکرات میں یه ہوا وه ہوا۔
پاکستان کے قدرتی وسائل، معدنیات اور خزانے — یہی وہ خزانہ ہے جس کے بارے میں ہم نے بچپن سے پڑھا اور سنتے آئے ہیں۔ لیکن ماضی میں اسے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کیا جاتا رہا۔ یہ صرف گلابی نمک نہیں، بلکہ بوتلوں میں بند سونا اور بوریوں میں بھرا ہوا سونا ہے، ⬇️⬇️⬇️
@trtworld تو یہ ہے پاکستانی فوجی حوالدار آصف نے آج پاکستان میں میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ پتہ چلا کہ بھارتی ایجنسیوں نے اس کا پاکستانی شناختی کارڈ پکڑا تھا اور اسے جان بوجھ کر اس سے جوڑ دیا تھا۔
لاکھوں لوگوں کا علاج اور ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بنانا احسان نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ عوام کے ٹیکس اور قومی وسائل سے ہوتا ہے، کسی حکمران کی جیب سے نہیں۔ حکمرانوں کو عوام کو رعایا نہیں، حق دار سمجھنا چاہیے۔
آپ کہو میں نے 10 کروڑ لوگوں کا علاج کیا، میڈیا کہے گا جہاز، آپ کہو میں نے 2 لاکھ گھر بنائے، وہ کہے گا جہاز، آپ کہو میں نے 45 ہزار کلومیٹر سڑک بنائی،وہ کہے گا جہاز، میں نے وزیر اطلاعات کو کہا آپ یہ نہ سوچنا کہ لوگ جہاز کو بھول جائیں گے، لوگ کبھی جہاز کو نہیں بھولیں گے،مریم نواز
ڈیفنس میں قائم نجی ڈینٹل کلینک میں دو ڈاکو مریض بن کر داخل ہوئے اور پھر اسلحے کے زور پر اندر بیٹھے مریضوں، نرس و دیگر عملے سمیت ڈاکٹر سے نقدی، موبائل چھین کر فرار ہوگئے
#ZarayeNews#Karachi#KarachiNews
@SyedNasirHShah حب کینال بن گئی
اضافی پانی ملی؟
کراچی میں کتنے علاقوں میں پانی کی نیو لائن اور برانچ ڈالی گئی؟
پچاس پچاس سال پرانی لائن تبدیل کیوں نہیں کی گئی؟اس میں سے گٹرکاپانی ملکر اتا ہےاب چاہیے کہ اس جگہ کاپانی وزير بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاه اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بھی پیں
ن لیگ کے 18 بندے نہیں جیتے یہ حکومت بنا کر بیٹھے ہیں، کیپٹن صفدر کے پیچھے فارم 7 والے ہیں تو اُن کو بھی دیکھ لیں گے۔ رہنما عاصمہ جہانگیر گروپ پیر مسعود چشتی
جو بات ساری دنیا کرتی ہے، وہی بات اب اعظم نذیر تارڑ ساب کے ساتھی کہہ رہے ہیں
سندھ میں کرپشن کے خلاف تحقیقات کرنے والا ادارہ ہی اب سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔ کراچی کے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں تقریباً 8.5 ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں تاخیر پر سندھ ہائی کورٹ کے سخت سوالات نے پورے احتسابی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ کونسا ملک ہے کونسا نظام ہے آدم خور نظام جس میں کوئی مریم نواز کو پوچھتا ہی نہیں دو اور منصوبے اپنے خاندان کے نام پر کس قانون کس آئین کے تحت یہ سب کر رہی ہے
ٹاؤٹوں کی پی ٹی آئی پر تو بڑی گہری نظر ہوتی ہے۔
#خان_کی_بہنیں_فوری_رہا_کرو
@murtazawahab1 بی آر ٹی کہاں ہے؟
کراچی والوں کو بے وقوف کیوں بنایا؟
اس گندگی سے پہلے یونیورسٹی روڈ تھی۔
سوال یہی ہے کہ اس سے پہلے بھی اسی روڈ پر ٹریفک ایسے ہی چلتا تھا جیسے ا بھی چل رہا ہے اس میں عام عوام کو کیا فائدہ ہوا ٹریفک تو ویسے تو ویسے ہی ہے جیسے 10 سال پہلے تھا
#پارلیمنٹ میں درجنوں کیمروں کے سامنے
#آئی_جی_لیاقت_علی_ملک کا انداز چیک کریں
صحافی حیدر شیرزای پر حملہ کرنے پر اتر آیا۔
ایک دوست نے سوال اٹھایا کہ جہاں کیمرے نہیں ہوتےوہاں یہ صاحب کیا کرتے ہوں گے؟
#BREAKING
Taliban Minister of Borders to Pakistan’s Army and Intelligence: Do Not Test Our Patience
Noorullah Noori, the Taliban’s Minister of Borders, says that the Pakistani army and ISI should not test the group’s patience and should learn a lesson from the USSR and the US.
چین ہیومنائیڈ روبوٹس کوریاض لےآیا
ٹیکنالوجی فیکٹریوں سےآگے بڑھ کرثقافتی تجربات کابھی حصہ بن سکتی ہے
چینی ہیومنائیڈ روبوٹس نے ریاض میں سعودی عرب کا روایتی عرضہ رقص پیش کیا، اس موقع پر انہوں نے روایتی سعودی لباس تھوب اور غترہ بھی زیب تن کر رکھا تھا۔ 🤖🇨🇳🇸🇦
@HamidMirPAK کسی ملک میں سرمایہ کار صرف یہ نہیں دیکھتا کہ حکومت کے بارے میں کتنی مثبت خبریں نشر ہو رہی ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے قانون کتنا مستحکم ہے، پالیسی کتنی قابلِ پیش گوئی ہے ادارے کتنے مضبوط ہیں کاروباری فیصلوں میں غیر یقینی کتنی ہے اور اختلافِ رائے کے لیے معاشرے میں کتنی جگہ موجود ہے
مکران کی جغرافیائی اہمیت اپنی جگہ، لیکن الگ صوبے کا فیصلہ صرف وسائل کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ انتظامی سہولت، مقامی عوام کی رائے، مالی وسائل اور طویل مدتی اثرات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
مکران ڈویژن کے 4 اضلاع ہیں،مجموعی رقبہ بلوچستان کے 15 فیصد رقبے سے زائد ہے
مکران بلوچستان کے انتہائی جنوب مغرب میں واقع ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ شمالی حصے میں ہے،یوں عوام صوبائی دارالحکومت سے سیکڑوں میل دور ہیں۔
مکران اگر الگ صوبہ بنتا ہے تو حالات اس ڈویژن کے حالات یکسر بدل جائیں گے،گوادر مکران ڈویژن کا حصہ ہے،تیسرا بڑا گہرا سمندر پورٹ رکھتا ہے،اسٹریٹ آف ہورمز کے قریب اہم شپنگ روٹ پر واقع ہے،اگر مکران صوبہ بنے گا تو اِن کے پاس پہلے سے ایک بین الاقوامی بندرگاہ اور میری ٹائم معیشت کے وسائل موجود ہوں گے۔
سوچیں مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے کتنے ذرائع پیدا ہوسکیں گے،مکران ڈویژن جب خود مختار ہوگا تو شاندار وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرسکے گا جس کا فائدہ نہ صرف پورے ڈویژن کو ہوگا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔